ہانیہ خان، جنید جمشید شہید اور عامر لیاقت مکافات عمل

ہانیہ عامر اداکاری

ہانیہ خان، جنید جمشید شہید اور عامر لیاقت مکافات عمل
تحریر : توقیرالحسن سیماب

وقت بھی کیسا عظیم منصف ہے اس کے انصاف پر رشک آ تا ہے یوں محسوس ہوتا ہے کہ ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کا مکافات عمل شروع ہو گیا ہے۔
چند سال ہوئے میں نے کراچی میں ایک چینل پر عالم آ ن لائن پروگرام دیکھا جس کے میزبان ڈاکٹر عامر لیاقت حسین تھے بڑی خوب صورت علمی گفتگو تھی میں ان کا گرویدہ ہو گیا دوستوں سے رابطہ کر کے اس کا ٹھکانہ ڈھونڈ نکالا معلوم ہوا کہ وحدت کالونی میں اس کی رہائش اور شاہین کمپلیکس کے قریب اس کا آفس ہے ان دنوں میں کراچی کی خاک چھان رہا تھا اور میرا ٹھکانہ کینٹ اسٹیشن کا بینچ تھا ایک شام میں پیدل ہی اس کے آفس کی طرف چل پڑا آفس کے سامنے ہوٹل تھا وہاں بیٹھ کر ملاقات کا موقع تلاش کرنے لگا سامنے ٹی وی پر اس کا پروگرام چل رہا تھا جس کا موضوع تھا
رزق کی قدر کریں.

میں اس کی گفتگو سے بہت متاثر ہوا پروگرام کے بعد جیو ٹی وی کا ملازم باہر آیا اور قریب پڑے ڈسٹ بن میں بریانی چکن روٹیاں پھینک کر چلا گیا کوئٹہ ہوٹل میں چائے بنانے والا پٹھان مجھے کہنے لگا دیکھو باتیں کتنی اچھی کر رہا تھا لیکن اس کا ملازم رزق کو کیسے پھینک کر گیا ہے میں نے منع کیا تو وہ کہنے لگا عامر بھائی نے کہا ہے ڈسٹ بن میں پھینک آ۔۔۔۔۔

دوسرے دن میں مادر علمی بنوری ٹاؤن گیا استاذ مکرم مفتی عبدالمجید دین پوری شہید سے ملاقات ہوئی میں نے پوچھا استاذ جی ڈاکٹر عامر لیاقت دیوبند ی ہے ۔۔۔استاذ جی مسکرائے تھوڑی دیر ٹھہر کر فرمانے لگے یہ ملغوبہ ہے جو بھی ہے لیکن دیوبندی نہیں ہے اس دن سے میرے دل میں اس کے خلاف نفرت پیدا ہو گئی۔

آج کل سوشل میڈیا پر اس مسخرے کی تیسری بیوی ہانیہ خان کے اسے خوب ننگا کیا ہے میں نے آج اس لڑکی کی ساری ویڈیوز دیکھی اللہ کی لاٹھی بڑی بے آواز ہے میں سمجھتا ہوں سارا مذہبی طبقہ بھی مل کر اس کمینے کے کالے کرتوت دنیا کے سامنے نہ لا سکا وہ کام ہانیہ خان کر گئی وہ بھی پروف اور ثبوت کے ساتھ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ عامر لیاقت حسین زانی عیاش دھوکے باز ٹھرکی ہےجو اپنے پروگرام میں آنے والی لڑکیوں سے ناجائز تعلق رکھتا ہے اپنے پروگرام میں آنے کے بدلے میں ان سےجنسی ہوس پوری کرتا ہے وغیرہ وغیرہ۔

آج سے چند سال پہلے جنید جمشید شہید نے بیان کے دوران ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ کے بارے میں نازیبا کلمات کہہ ڈالے اور یہ کم علمی کی وجہ سے ہوا تھا جنید بھائی کو اس غلطی کی طرف متوجہ کیا تو انہوں نے تنہائی میں بھی اور سوشل میڈیا پر بھی کھلے دل سے اپنی غلطی کا اعتراف کیا اور رو رو کر معافی بھی مانگی لیکن اس کے باوجود ایک مسلک کے لوگوں کو استعمال کیا گیا جنہوں نے جنید جمشید کے خلاف پورے ملک میں احتجاج کیا بلکہ اسلام آباد ایئر پورٹ پر جنید جمشید پر حملہ بھی کیا گیا ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی گئی۔ اور یہ گھناونی سازش کرنے والا اور ایک مسلک کو ابھارنے والا یہی عامر لیاقت حسین ہی تھا کیوں کہ میڈیا پر اس ملعون کے مقابلہ میں جنید جمشید جیسا کردار کا غازی آ گیا ہے اور اس کی دکانداری بند ہو گئی تھی یہی وہ مسخرہ عامر لیاقت تھا جس نے ٹی وی چینل پر جنید جمشید کی مرحومہ والدہ کے خلاف انتہائی نازیبا کلمات بکے تھے جس پر جنید بھائی بہت دکھی تھے اور کہا تھا میری ماں اس دنیا میں نہیں ہیں اس سے کیا لینا دینا تھا جو کچھ کہنا تھا مجھے کہہ دیتے مجھے یاد ہے ان دنوں میں جنید جمشید شہید سے ملنے گیا تو وہ بہت پریشان تھے وہ تنہائی محسوس کرنے لگے تھے کہ اکابرین علماء دیوبند نے انہیں سہارا دیا اور جنید بھائی کے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہوئے تب جنید بھائی کو خوب حوصلہ ملا.

بہر حال جنید جمشید قابل رشک زندگی گزار کر شہادت کا لباس پہن کر ایسی جگہ مدفون ہوئے جس جگہ اپنی قبر بننے کی ہم آ رزو ہی کر سکتے ہیں۔
یوں محسوس ہوتا ہے کہ اب اس مسخرے کا مکافات عمل شروع ہو چکا ہے اور عبد القوی سے بھی برا انجام اس کا ہو گا۔۔۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *