بینظیر مزدور کارڈایک انقلابی قدم, 30لاکھ محنت کش مستفید ہونگے،بلاول بھٹو

کراچی : پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے حکومتِ سندھ کی جانب سے بینظیر مزدور کارڈ کو ایک انقلابی قدم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مستقبل قریب میں اس منصوبے سے سندھ کے 30 لاکھ محنت کش مستفید ہوں گے۔ بلاول ہاوَس میڈیا سیل میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ بینظیر مزدور کارڈ اسکیم کا سب سے پہلے ان 6 لاکھ محنت کشوں کو ہوگا، جو اس وقت صنعتی اداروں میں کام کر رہے ہیں، لیکن ہماری کوشش ہوگی سندھ میں ہر مزدور کو یہ کارڈ دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مزدور تعمیرات کے شعبے سے وابستہ ہوں یا گھروں میں کام کرتے ہوں، رجسٹریشن کے بعد انہیں بینظیر مزدور کارڈ دیا جائے گا، جس کے بعد وہ انہی سہولیات سے استفادہ کر سکیں گے، جو صنعتی مزدوروں تک محدود ہیں۔ مزدوروں کی رجسٹریشن کا عمل الیکٹرانک ہو گا۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اِس کارڈ سے مزدوروں کو صحت اور علاج کی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے گی، زچگی کے دوران بھی یہ کارڈ قابل استعمال ہو گا، حادثے میں موت ہوتی ہے تو امدادی رقم فراہم کی جائے گی اور اس کے علاوہ بھی کئی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ انہوں نے محنت کشوں پر زور دیا کہ جو مزدور ابھی تک صنعتوں میں رجسٹر نہیں ہیں، وہ خود کو رجسٹر کروائیں تاکہ اس اسکیم سے استفادہ حاصل کر سکیں۔

چیئرمین پی پی پی کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت کا یہ نظریہ اور منشور ہے کہ مزدور خوشحال ہوگا، تو صنعت اور معیشت بھی خوشحال ہوگی۔ ہم چاہتے ہیں کہ بینظیر مزدور کارڈ کو ہر مزدور کے ہاتھ تک پہنچا دیں، تاکہ سوشل سکیورٹی کی سوچ جانب بڑھا جا سکے، جو پاکستان پیپلز پارٹی کے منشور کا ایک اہم حصہ ہے۔ پی پی پی چیئرمین نے ورکرز ویلفیئر بورڈ اور ای او آئی بی کو صوبوں کے حوالے کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ اداروں کو 18ویں ترمیم کے تحت 2015ع تک صوبوں کے حوالے کیا جانا چاہیے تھے،لیکن تاحال ایسا نہیں ہوا۔ ان اداروں کو صوبوں کے حوالے کیا جائے تاکہ صوبے اپنے مزدوروں کے لیے زیادہ سے زیادہ کام کر سکیں۔

پریس کانفرنس کے دوران پوچھے گئے ایک سولا کے جواب مِن بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اُن کی پارٹی لیکشن رعفارمز پر مسلسل کام کرتی رہی ہے اور وہ نہیں چاہتی کہ 2018ع اور اسے قبل جو دھاندلی کی گئی، ایسا دوبارہ ہو۔ اس سلسلے میں اصلاحات کرنی پڑیں گی، جس کے لیے ہم تیار ہیں، لیکن الیکشن کمیشن اس سلسلے میں بہت اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ حکومت کے مؤقف کو کوئی سنجیدگی سے نہیں لیتا اور دھاندلی کرنے والے کے ساتھ بیٹھ کر دھاندلی کو روکنا، ایک عجیب سی بات لگتی ہے۔

پی پی پی چیئرمین کا کہنا تھا کہ الیکشن میں دھاندلی روکنے کے لیے سب سے اہم اور بنیادی نکتہ انتخابات میں اسٹیبلشمنٹ کا کردار ہے اور اگر یہ کردار موجود رہتا ہے تو پھر چاہے جتنی بھی قانونسازی کی جائے، الیکشنز متنازع ہی رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سب نے دیکھا کہ این اے-249 کے الیکشن میں اسٹیبلشمنٹ کا کوئی فعال کردار نہیں تھا، تو ہم یہی چاہتے ہیں کہ نح فقط قانونسازی کریں بلکہ یہ اتفاق رائے پیدا کریں کہ اسٹیبلشمنٹ کا سیاست اور الیکشنز میں کوئی کردار نہ ہو۔ ایک سوال کے جواب میں پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ اگر پی ایم ایل این کے پاس دھاندھلی کے ثبوت ہیں، تو وہ ضرور الیکشن کمیشن سے رجوع کرے اور فوج سے اپیل نہ کرے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر پی ایم ایل-این ایک نشست ہارنے پر فوج کو مداخلت کی اپیل کرے، تو یہ انتخابی عمل کے لیے نقصان دہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ع2018 کے انتخابات کے دوران ہر پولنگ اسٹیشن کے اندر اور باہر فوج تعینات تھی اور ملکی تاریخ میں سب سے زیادہ فوج اسی انتخابات میں تعینات کی گئی تھی، لیکن وہ انتخابات متنازعہ ثابت ہوئے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس سے نہ صرف الیکشن، بلکہ ادارے بھی بلاوجہ متنازع ہوتی ہے۔ پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ پی ایم ایل-این کی جانب سے یہ بیان غیرذمہ دارانہ ہے کہ پولنگ باکسز کو فوج کی تحویل میں دیا جائے۔ بحریہ ٹاوَن کے متعلق سوال کے جواب میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بحریہ ٹاؤن کے حوالے سے حالیہ دنوں میں جو واقعہ ہوا تھا، وہ اس دن ہوا، جب این اے-249 میں ضمنی الیکشنز ہو رہے تھے۔ ، وہاں کام کو روکا جا چکا ہے اور مجھے اس حوالے سے وزیراعلیٰ سندھ کی رپورٹ کا انتظار ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ پہلے بھی مطالبہ کرچکے ہیں کہ بحریہ ٹاوَن کے حوالے سے عدلیہ کے پاس رکھی ہوئی رقم حکومتِ سندھ کے حوالے کی جائے تاکہ ملیر سمیت صوبے کے دیگر علاقوں میں پانی اور ڈرینیج جیسے مسائل حل کیئے جاسکیں۔

ایک اور سوال کے جواب میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے اپوزیشن جماعتوں کو یہ ثابت کرکے دکھا دیا ہے کہ تحریکِ عدم اعتماد کام کرسکتی ہے۔ یہ اپوزیشن کی ذمیداری ہے کہ وہ اپوزیشن کی اپوزیشن کرنے کی بجائے، حکومت کی اپوزیشن کرے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر عمران خان اسیمبلیاں توڑنے کی بات کر رہا ہے، اور پی ایم ایل-این استعیفوں کی بات کر رہی ہے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ دونوں جماعتیں ایک پیج پر ہیں۔ ووٹ کو عزت نہیں ملے گی، اگر پارلیمان کو عزت نہیں ملے گی۔ پنجاب میں اکثریت کے باوجود بوزدار کو چیلینج نہیں کیا جارہا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ایسا لگ رہا ہے کہ دونوں جماعتوں میں مُک مُکا ہے۔ بزدار پنجاب کا جتنا نقصان کرنا چاہے، وہ کرلے لیکن اسی میں پی ایم ایل-این کا فائدہ ہے۔ ہم نے راستہ دکھا دیا ہے کہ تحریک عدم اعتماد کے ذریعے پنجاب کے بعد وفاقی حکومت بھی لی جاسکتی ہے۔

اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، سابق چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی، سینیٹر شیری رحمان، شازیہ مری، صوبائی وزراء سعید غنی اور ناصر حسین شاہ، حبیب الدین جنیدی اور سماجی ایکٹوسٹ کرامت علی بھی موجود تھے۔ دریں اثنا چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی سربراہی میں پریس کانفرنس سے قبل بلاول ہاؤس میں مزدور رہنماؤں کا اجلاس ہوا، جس میں مزدور رہنماؤں نے ملک میں موجودہ مہنگائی کے تناظر میں محنت کشوں کے حالات پر بریفنگ دی، اس موقع پر چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی موجودگی میں مزدور رہنماؤں نے سندھ حکومت کے بے نظیر مزدور کارڈ کے اجرا کے عمل کو سراہا۔

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی مزدور رہنماؤں سے ملاقات کے موقع پر وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ، وزیرمحنت سعید غنی، وزیراطلاعات ناصرشاہ، سینیٹر شیری رحمان، سینیٹر رضاربانی، پی پی پی پی کی سیکریٹری اطلاعات شازیہ مری اور ماہر معیشت قیصربنگالی بھی موجود تھے،

اجلاس میں پیپلزلیبر بیورو سندھ کے صدر حبیب الدین جنیدی، حسین بادشاہ، لعل بخش کلہوڑو، جاوید منگی، پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیبر ایجوکیشن اینڈ ریسرچ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کرامت علی، ذوالفقار شاہ، ریلوے ورکرز یونین کے چیئرمین منظور رضی، کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ پیپلزلیبریونین کے لیاقت مگسی، اسٹیل ملز پیپلزورکرز یونین کے چیئرمین شمشاد قریشی، سلیم سومرو، پی آئی اے پیپلزلیبربیورو کے محمد اشرف، مولادادلغاری، کے الیکٹرک پیپلزلیبربیورو سے اسلم سموں، سوئی سدرن گیس کمپنی پیپلزلیبربیورو سے فیاض شاہ، نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن پاکستان کے رہنما ناصرمنصور، نیشنل آرگنائزئشن فار ورکنگ کمیونٹیز کی رہنما فرحت پروین، ہوم بیسڈ ویمن ورکرز فیڈریشن کی زہرا خان اور سندھ لیبر فیڈریشن کے صدر شفیق غوری شریک تھے-

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *