کالج اساتذہ کا چار سالہ ڈگری پروگرام واپس لانے کیلئے مہم کا ارادہ

جامعہ کراچی

رپورٹ: ارشد یوسف زئی


کراچی: جامعہ کراچی سے وابستہ کالجوں کے اساتذہ نے چار سالہ ڈگری پروگراموں کو کالج میں شروع کرنے اور دو سالہ فرسودہ ڈگری کورسز پر نظر ثانی کے لئے رواں ماہ ایک مہم کا آغاز کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

سندھ پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن (ایس پی ایل اے) کا کہنا ہے کہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے تمام کالجوں اور یونیورسٹیوں میں دو سالہ ڈگری پروگراموں پر پابندی عائد کردی ہے ، اس واضح ہدایات کے ساتھ کہ کمیشن 2018 کے بعد داخل طلبہ کو جاری کی جانے والی دو سالہ ڈگری کو تسلیم یا تصدیق نہیں کرے گا۔

ایس پی ایل اے کا کہنا ہے کہ جامعہ کراچی کے علاوہ پاکستان کے بیشتر کالجوں اور یونیورسٹیوں نے ایچ ای سی کی پالیسی پر عمل درآمد شروع کر دیا ہے۔ یہاں تک کہ سندھ کالج ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے گزشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ دو سالہ ڈگری پروگرامز کو غیر مجاز سمجھا جائے گا۔ تاہم ، کراچی میں ہزاروں طلبا اب تک جامعہ کراچی سے وابستہ ڈیڑھ سو سے زائد کالجوں میں ڈگری پروگراموں میں داخلہ حاصل کرنے سے قاصر ہیں۔ ایس پی ایل اے کا کہنا ہے کہ جب ایچ ای سی نے گذشتہ سال دو سالہ ڈگری پر اپنی پالیسی کا اعلان کیا تو جامعہ کراچی نے اس سے اتفاق نہیں کیا تھا۔ اس تنازعے کے نتیجے میں تعلیمی سال 2021 میں داخلے میں مسلسل تاخیر ہو رہی ہے۔ ابتک داخلوں میں تین ماہ سے زائد کی تاخیر ہو چکی ہے۔ اتنی مدت گزرنے کے بعد جامعہ کراچی کی اکیڈمک کونسل نے 10 اپریل کے اجلاس کے دوران ایک پانچ رکنی نظر ثانی کمیٹی تشکیل دی جس کے ذریعے دو سالہ بیچلرز اور ماسٹر ڈگری پروگراموں کے بارے میں صوبائی حکومت کے اشتہار پر قانونی رائے حاصل کی جائے گی۔

جامعہ ملیہ گورنمنٹ ڈگری کالج کے پرنسپل محمد ذکاء اللہ ، جو جامعہ کراچی سینیٹ کے منتخب ممبر بھی ہیں ، نے ایچ ای سی کی پالیسی کے بہت سے امور اور فوائد پر روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا ہے کہ کراچی کے 150 کے قریب کالج ڈگری سطح کی تعلیم دے رہے ہیں ، لیکن وہ (4سالہ) بی ایس پروفیشنل ڈگری پروگرام (اور 3 سالہ ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرام) میں داخلہ نہیں دے سکتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ کالج کے فارغ التحصیل طلبہ اچھی ملازمت حاصل نہیں کر پاتے ہیں، دو سالہ فرسودہ نصاب پر مشتمل بی کام/ بی اے / بی ایس سی ڈگری کی جاب مارکیٹ میں کوئی وقعت نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کالجوں کے ڈگری کورسز پر نظرثانی کرنے سے کالج کے طلباء کو بیرون ملک اعلی تعلیم حاصل کرنے اور یونیورسٹی کے طلباء کو اسکالر شپ کے حصول میں آسانی ہوگی اور پھر جامعہ کراچی کا بوجھ بھی کالجز بانٹ سکیں گے۔

پروفیسر ذکاء اللہ کا کہنا ہے کہ کالجوں میں داخلے کی تعداد میں مسلسل کمی کے پیچھے ایک بڑی وجہ داخلے کا سست عمل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ طلبا مئی کے مہینے میں اپنا انٹرمیڈیٹ امتحانات دیتے ہیں اور ان کے نتائج کا اعلان اگست کے پہلے ہفتے میں کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جنوری میں کالجوں میں داخلے کے لئے نتائج کا پانچ یا چھ ماہ بعد تک انتظار کرنے کے بجائے طلباء نجی یونیورسٹیوں کا انتخاب کر لیتے ہیں اور کالجوں کے لئے ناقص درجے کے بچے کچھے طالبعلم رہ جاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کالجوں کے ڈگری پروگراموں میں نظر ثانی کرنے سے اس رجحان میں تیزی سے کمی واقع ہوگی۔ جامعہ کراچی میں داخلے کیلئے نشستیں محدود ہیں۔ اس طرح جامعہ کراچی پر داخلوں کا بوجھ تقسیم ہو جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ ملحقہ کالجوں کیلئے ایک علیحدہ اور آزاد سمسٹر امتحانی نظام تشکیل دیا جاسکتا ہے۔ جس کیلئے کالج پرنسپلز ، اکیڈمک کونسل اور کنٹرولر امتحانات مل کر فیصلہ سازی کیلئے ایک مشاورتی بورڈ تشکیل دے سکتے ہیں۔

ملحقہ کالجز کیلئے ایچ ای سی کے چار سالہ ڈگری اور 3 سالہ ایسوسی ایٹ ڈگری پروگراموں کی تعریف کرتے ہوئے ، پروفیسر ذکاء اللہ کا کہنا ہے کہ وابستہ کالجوں سے دو سالہ ڈگری پروگراموں کے خاتمے کے بعد اور بی ایس پروگرام شروع کرنے سے تعلیم کا معیار بہتر ہوگا اور اس معیار کا موازنہ ممکن ہو سکے گا اور بین الاقوامی یکسانیت یقینی ہوگی۔

ان کا کہنا ہے 29 یوروپی ممالک کے وزرائے تعلیم نے بولوگنا میں 19 جون 1999 کو بولوگنا اعلامیہ پر دستخط کرنے کے لئے ملاقات کی ، جس میں پاکستان بھی ایک دستخط کنندہ ہے۔

کالجوں میں بی ایس پروگراموں کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے پروفیسر ذکاء اللہ کا کہنا ہے کہ وہ طلبا و طالبات کے لئے کم لاگتی ثابت ہوں گی جو دیگر پرائیوٹ یونیورسٹی کی بھاری فیس ادا نہیں کرسکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں مقامی معاشی اور صنعتی ضروریات کے مطابق وضع کردہ جدید ڈگری پروگرامز تک رسائی حاصل ہو سکے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملحقہ کالجز جدید نصاب تعلیم کے ساتھ ساتھ اپنے تعلیمی نظام میں بھی بہتری لائیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ جامعہ کراچی سے منسلک 150 کالجوں سے جامعہ کراچی کو 650 ملین روپے کی آمدنی حاصل ہوتی ہے۔ اگر کالج اور یونیورسٹی کے اساتذہ نئے ڈگری پروگراموں کے بارے میں عوام میں شعور اجاگر کرنے میں مدد کرتے ہیں تو اس سے یونیورسٹی کی آمدنی میں مزید اضافہ ہوگا۔

انہوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ پاکستان کے 1500 سے زائد کالجوں کی قیمتی زمین اور بنیادی ڈھانچے (انفرا اسٹرکچر) کے بہترین استعمال سے یقینا ملک کی تعلیمی معیشت کو تقویت ملے گی اور جامعات کیلئے کالجوں میں پڑھائے جانے والے جدید ترین ڈگری پروگرامز سے مزید وسائل پیدا ہونگے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہزاروں زیر استعمال ملحقہ کالجز کے اساتذہ خطیر رقم خرچ کیے بغیر یونیورسٹی کے تعلیمی نظام کی اعانت کریں گے۔

جبکہ گھروں کے قریب کالجوں میں معیاری و اعلی تعلیم کی دستیابی سے والدین اور طلبہ کے لئے ٹرانسپورٹ کا خرچ اور دیگر اخراجات میں بہت کمی آئیگی۔

ایس پی ایل اے کے ترجمان پروفیسر عزیز میمن کا کہنا ہے کہ کالج ڈگری پروگراموں میں نظر ثانی نہ صرف طلباء کے مفاد میں ہے بلکہ اس سے کالج اساتذہ اپنی تدریسی صلاحیتوں اور قابلیت کو بھی بہتر بنائیں گے۔ اس کے نتیجے میں کالج اساتذہ کو پیشہ ورانہ تربیت کے مواقع ملیں گے جس سے بالآخر اعلی تعلیمی نظام کو ہی فائدہ ہوگا۔ اسی طرح ان کا کہنا ہے کہ کالج فیکلٹی ممبران جنہوں نے ایم فل / پی ایچ ڈی کی ڈگری پہلے ہی حاصل کرلی ہے وہ اس نئے تعلیمی سسٹم کی خدمت کر سکیں گے۔ جبکہ کالجوں میں پی ایچ ڈی اساتذہ کی بڑھتی ضرورت نوجوان اساتذہ کو اعلی تعلیم کے حصول کے لئے متحرک کرے گی۔

خواتین کی تعلیم

پروفیسر میمن کا خیال ہے کہ مضافاتی علاقوں میں بہت سے روایتی گھرانے اپنی بیٹیوں کو یونیورسٹیوں میں بھیجنے سے گریز کرتے ہیں۔ اگر گھر سے قریب واقع کالج میں یونیورسٹی کی سطح کے ڈگری پروگرام میں داخلہ دلاتے ہیں تو لڑکیاں مقامی خواتین کالجوں میں تعلیم حاصل کرنے کو یونیورسٹی جا کر پڑھنے پر ترجیح دیں گی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ بھی توقع کی جاتی ہے کہ خواتین کالج کے ڈگری پروگرام میں والدین اپنی بچیوں کو زیادہ تعداد میں داخل کرائیں گے کیونکہ وہ ان کے دہلیز پر معیاری تعلیم تک رسائی حاصل کریں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ کالجوں میں سمسٹر سسٹم کے متعارف کرانے سے حاضری میں اضافہ ہوگا ، اور نہ صرف ٹیوشن سینٹر کے رجحان میں کمی ہوگی بلکہ نجی ڈگری دینے والے اداروں (یونیورسٹیوں) کی تعداد بھی کم ہوگی۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *