اعتکاف، فضائل و مسائل

اعتکاف کے لغوی معنی ٹھہرنے کے ہیں، اصطلاح شریعت میں رمضان المبارک کے مہینے میں اعتکاف کی نیت سے بیس (20) رمضان المبارک کے دن سورج غریب ہونے سے پہلے مسجد میں یکم شوال کا چاند نظر آجانے کی اطلاع تک ٹھہرنے کو اعتکاف کہا جاتا ہے ۔

شریعت میں اس اعتکاف کو سنت مؤکدہ علی الکفایہ کہا جاتا ہے۔

نبی ۖ  کا کوئی ایسا عمل جسے آپۖ نے ان کے مواقع پر خصوصی اہتمام کے ساتھ مسلسل اور متواتر ادا فرمایا ہو اور اس خاص عمل کو شریعت نے اس طرح متعین اور لازم کردیا ہو کہ کسی بھی علاقے کے ایک یا ایک سے زائد افراد ان اعمال کا ان کے مواقع پر خصوصی طور پر اہتمام کرلیں اور اس اہتمام کی وجہ سے علاقے کے دوسرے افراد کا ذمہ اتر جائے تو ایسے عمل کو سنت مؤکدہ علی الکفایہ کہا جاتا ہے۔ رمضان کے مہینے میں اعتکاف کا یہ عمل سنت مؤکدہ علی الکفایہ اسی معنی میں ہے لہٰذا ہر محلے کی ہر مسجد میں اس مسجد کے کسی بھی ایک نمازی پر اس سنت کا پورا کرنا لازم ہے جو بفضلہ تعالیٰ نبیۖ کے زمانے سے آج تک متواتر امت کی طرف سے جاری و ساری ہے اور ان شاء اﷲ تاقیامت قائم و دائم رہے گا ۔

مذید پڑھیں :یوم علیؓ سے 3 روز قبل کرونا کو جواز بنا کر پابندی لگانا مضحکہ خیز ہے : مجلس وحدت مسلمین

اس سنت مؤکدہ علی الکفایہ کی ادائیگی کے لیے درج ذیل شرائط ہیں:

(١) رمضان المبارک کے مہینے کا آخری عشرہ شروع ہونے والا ہو۔
(٢) ایسی مسجد کا ہونا جس میں پنج وقتہ نمازوں کی باجماعت ادائیگی کا اہتمام ہوتا ہو۔
(٣) بیس (20) رمضان المبارک کے سورج کے غروب ہونے سے پہلے پہلے اعتکاف کرنے والا اعتکاف کی جگہ پر پہنچ جائے۔
(٤) اعتکاف کرنے والا اعتکاف کی مدت میں دن کے اوقات میں لازمی طور پر روزے سے ہو۔
(٥) پورے عشرے میں شرعی حاجات کے علاوہ کسی بھی جائز کام کے لیے بھی مسجد کی حدود سے نہ نکلے۔ وغیرہ وغیرہ ۔

اعتکاف کی جگہ پر پردے باندھ کر جگہ کا مختص کرنا نبی ۖ سے ثابت ہونے کی وجہ سے مسنون اور جائز ہے، البتہ مسجد کے نمازیوں کو تنگی کی صورت پیش آرہی ہو یا اعتکاف کرنے والے کئی ایک ہوں تو بغیر پردے کے بھی اعتکاف کا عمل بغیر کسی کراہت کے ادا کیا جا سکتا ہے۔
اعتکاف کے دوران اعتکاف کرنے والے کے لیے جمعے کے یا گرمی کے حوالے سے غسل کے لیے مسجد کی حدود سے باہر نکلنا جائز نہیں ہے اگر مسجد کی حدود میں ہی ایسا کوئی انتظام ہوسکتا ہو جس سے مسجد کے گندہ ہونے کا احتمال نہ ہو تو اس صورت میں ایسے غسل کا مسجد کی حدود میں رہتے ہوئے جواز بنتا ہے لیکن اگر کسی اعتکاف کرنے والے پر بدخوابی کی وجہ سے غسل واجب ہوجائے تو وہ فوری طور پر مسجد کی حدود سے نکل کر غسل کے لیے لازمی طور پر جائے گا۔ اعتکاف کے لیے روزہ، تراویح اور پنج وقتہ نمازوں کے علاوہ کسی مخصوص عبادت کی شریعت کی طرف سے کوئی پابندی نہیں! ہر وہ جائز کام کیا جاسکتا ہے جسے مسجد میں بوقت ضرورت ادا کرنے کی مفتیان کرام نے اجازت دی ہو ۔

اعتکاف کرنے والے کو عبادت کے علاوہ مکمل خاموشی اختیار کیے رہنے کا کوئی حکم نہیں! دوران اعتکاف مختلف عبادتوں سے بچے ہوئے وقت کو کسی سے بات چیت کرنے میں یا کھانے کے اوقات میں کھانے پینے میں یا آرام کے اوقات میں آرام کرنے میں مکمل آزادی حاصل ہے، پابندی صرف مسجد کی حدود میں رہنے کی ہے۔

مذید پڑھیں :عدالت نے واٹر بورڈ کے ایگزیکٹو انجینئر کو طلب کر لیا

(١) وہ تمام نیک کام جو مسجد کی حدود میں نہیں کیے جاتے جیسے جنازے میں شرکت، مریض کی عیادت وغیرہ اعتکاف میں بیٹھنے والے کو اعتکاف کے دوران ایسی تمام نیکیوں کا اجر ان اعمال کے کیے بغیر بھی ملتا رہتا ہے۔
(٢) اعتکاف کرنے والا اس اعتکاف کی وجہ سے دوران اعتکاف بہت سارے گناہوں سے محفوظ رہتا ہے۔
(٣) دوران اعتکاف اگر اعتکاف کرنے والا شب قدر میں آرام بھی کررہا ہو تو اُسے اس اعتکاف کی وجہ سے شب قدر میں عبادت کرنے کا ثواب بھی ملتا ہے۔
(٤) ایک روایت کے مطابق جو شخص عشرہ رمضان کا اعتکاف کرے اسے دو حج اور دو عمروں کا ثواب ملتا ہے۔(کنزالعمال جلد 8 صفحہ 243)
(٥) جو شخص اﷲتعالیٰ کی رضا کے لیے صرف ایک دن کا اعتکاف بھی کرے تو حق تعالیٰ شانہ اس کے اور جہنم کے درمیان تین خندقیں حائل فرمادیتے ہیں جن کی درمیانی مسافت آسمان اور زمین کی درمیانی مسافت سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔(کنزالعمال جلد 8 صفحہ 244)

مرد حضرات تو مسجد میں اعتکاف کرتے ہیں۔عورتیں اپنے گھر کے اندر ہی کوئی مخصوص کونہ یا جگہ متعین کرکے اعتکاف میں بیٹھ سکتی ہیں، اسی اعتکاف کی جگہ میں شوال کے چاند نکلنے تک رہنا ہو گا ، اسی جگہ میں نمازوں کی ادائیگی، کھانا اور آرام اور وہیں بیٹھے بیٹھے گھر کی دیگر عورتوں سے گھر کے کاموں میں معاونت اور ہدایت کی اجازت ہوگی صرف بشری قضائے حاجت کے لیے اس جگہ سے نکلنا ہو گا۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *