روزے کے مکروہات

تحریر: مولانا محمد جہان یعقوب

کچھ باتیں ایسی ہیں جن کو روزے کی حالت میں کرنے سے روزہ ٹوٹتا تو نہیں، لیکن روزے کی حالت میں ان کا ارتکاب مکروہ ہے،یعنی ان امور کی وجہ سے روزے کی روحانیت اور اس کے اجر وثواب میں کمی واقع ہوجاتی ہے،اگرچہ فرض ذمے سے اتر جاتا ہے۔روزے کے مکروہات درج ذیل ہیں:

٭…روزے کی حالت میںبلاعذرکسی چیز کا چکھنایا چبانا، اگر شوہر بد اخلاق اور بدمزاج ہو اور نمک کے کم وپیش ہونے میں اس کی برہمی کا اندیشہ ہو، یا بچہ روٹی نہیں چباسکتا ہو اور کوئی چباکر دینے والانہ ہو ،تو چکھنے اورچبانے میں کوئی مضائقہ نہیں،کیوں کہ یہ دونوں شرعی عذر ہیں،یہی حکم دوسرے شرعی اعذار کا بھی ہے،البتہ کون سا عذر شرعی اور کون سا غیر شرعی ہے،اس کی تعیین اپنی سمجھ سے کرنے کے بجائے علماء ومفتیان ِ کرام سے پوچھنا چاہیے ۔

٭…شہدیا تیل خریدتے ہوئے تحقیق کے لیے اس کو چکھنا،اس سے روزہ ٹوٹتا تو نہیں،لیکن ایسا کرنا روزے کے اجر کو کم کردیتا ہے۔

مزید پڑھیں: وہ کام جن سے روزہ نہیں ٹوٹتا

مسئلہ:موجودہ زمانے میں دانت کی صفائی کے لیے جو خوشبودارپیسٹ اور منجن وغیرہ استعمال کیا جاتا ہے ، چوں کہ ان میں ذائقہ پایا جاتا ہے اور خصوصیت سے جو لوگ ان کے عادی ہوتے ہیں ان کو اس طرح کی تسکین بھی حاصل ہوتی ہے جو عام لوگوں کو کھانے ،پینے سے حاصل ہوتی ہے ،اس لیے یہ بھی روزہ کی حالت میں مکروہ ہے ۔اگر ٹوتھ پیسٹ خوشبودار نہ ہو،تو اس سے روزہ مکروہ بھی نہیں ہوگا۔جہاں تک صرف خوشبو کو سونکھنے کا تعلق ہے،توروزہ داروں کے لیے خوشبوسونگھنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔
مسئلہ:مسواک تر ہو یا خشک، یا پانی میں بھیگی ہو ئی،ہر صورت میں مسواک استعمال کرنے میں کو ئی مضائقہ نہیں ۔
مسئلہ: تیل وسرمہ لگانے میں کو ئی حرج نہیں ۔

٭…استنجاء ،کلی اور ناک میں پانی ڈالنے میں مبالغہ کرنا ْ۔
٭…منہ میں تھوک جمع کرنا اور اس کو نگلنا۔
٭…سحری میں اتنی تاخیر کرنا، کہ رات کا باقی رہنا مشکوک ہو جائے،یعنی اس بات میں شک پیدا ہوجائے کہ رات ہے یا صبح صادق شروع ہوچکی ہے ۔
٭…روزے کی حالت میں بیوی کے لب چوسنا بہرحال مکروہ ہے ، اگرچہ شوہروہ اپنے نفس پر قابو رکھتا ہو۔یہ بات پہلے گزر چکی ہے کہ :اگر محبت و الفت کے باعث محبوب کا تھوک چاٹ جائے، جیسے بیوی شوہر کایا شوہر بیوی کا ، توروزہ ٹوٹ جائے گا اور قضاء کے ساتھ ساتھ کفارہ بھی واجب ہوگا ۔

مزید پڑھیں: واجب، مسنون و مستحب روزے

نوٹ:جو اپنے حوالے سے مطمئن ہوکہ وہ اس کی وجہ سے ہم بستری تک نہیں پہنچے گا،ایسے شخص کے لیے صرف بوسہ لینا مکروہ نہیں ، جو مطمئن نہیں ان کے لیے مکروہ ہے ،یہی حکم لباس پہن کرشہوت سے چھونے اور گلے ملنے کا ہے ۔البتہ لباس کے بغیر مرد وعورت کا ایک دوسرے سے چمٹنا اور اس طرح لپٹنا ہے کہ ایک سے دوسرے کی شرمگاہ مس کرتی ہو ،بہر صورت مکروہ ہے،چاہے اس شخص کو اپنے اوپر کنٹرول ہو ،یا نہ ہو۔
نوٹ:اس دور میں زمانے اور غذاؤں کے فساد کی وجہ سے پہلے والی قوتیں نہیں رہیں،اس لیے بہر حال اس سے بچنا ہی بہتر ہے۔جنسی تقاضے کے باوجود اس سے بچنے پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو اجر ملے گا،وہ اس سے لاکھوں درجہ بہتر وافضل ہوگا۔ان شاء اللہ! (ھندیہ،جلد:١،صفحہ:٢٠٠۔١٩٩، الدرالمختاوردالمحتار،جلد:٢،صفحہ:١١٢تا١٤ا )

اس حوالے سے مزید مسائل:
١ روزے کی حالت میں دانتوں کی صفائی کے لیے مسواک کے علاوہ کسی بھی چیز کے استعمال کو مکروہ اور ناپسند بتلایا گیا ہے، مثلاً ٹوتھ پیسٹ، منجن، مِسّی(ایک قسم کا منجن جسے عورتیں بطور سنگھار استعمال کرتی ہیں)، دنداسہ اور کوئلہ وغیرہ (واضح رہے کہ مذکورہ بالا اشیاء میں سے کسی شے کو استعمال کرتے ہوئے اس کا کوئی ذرّہ حلق سے نیچے اُتر گیا تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔)(فتاویٰ شامی جلد 2 صفحہ 416)
٢ روزے کی حالت میں کوئی بھی چیز بغیر کسی حاجت کے منہ میں رکھ کر چباتے رہنا یا چکھ کر تھوک دینے کو شریعت نے مکروہ کہتے ہوئے منع فرمایا ہے اس سے روزہ فاسد تو نہیں ہوتا لیکن بلاضرورت ایسا کوئی کام نہیں کرنا چاہیے، اگرچہ ضرورت کے موقع پر بیوی یا ماں کو ایسا کرنے کی اجازت دی ہے جیساکہ پیچھے صفحہ 17 میں ذکرہوچکا ہے۔(فتاویٰ شامی جلد 2 صفحہ 416)

مزید پڑھیں: وہ کام جن سے روزہ نہیں ٹوٹتا

٣ بعض کاموں کو شریعت نے ناجائز اور گناہ قرار دیتے ہوئے اس کو اختیار کرنے سے ہرحال میں منع فرمایا ہے لیکن ان کا روزے کی حالت میں کیا جانا اگرچہ روزے کو نقصان نہیں پہنچاتا مگر شریعت نے اسے اس حالت میں بھی سخت ناپسند کہتے ہوئے اس سے روکا ہے، مثلاً غیبت، چغلی، جھوٹ، بہتان تراشی، بے جا غصّہ، فحش باتیں کرنا، کسی کو تکلیف پہنچانا، باہم ایک دوسرے کے ساتھ لڑنا جھگڑنا، ایک دوسرے سے گالم گلوچ کرنا یا ویسے ہی کسی جاندار یا بے جان کو گالی وغیرہ دینا ان گناہوں کو زبان یا ہاتھ پاؤں کے گناہ کہا جاتا ہے۔(فتاویٰ شامی جلد2 صفحہ 412)
٤ شریعت نے آنکھوں سے کیے جانے والے گناہ کو بھی ناجائز قرار دیتے ہوئے ہرحال میں اس سے روکا ہے اور روزے کی حالت میں ان کا کیا جانا سخت ناپسندیدہ قرار دیتے ہوئے ان سے روکا ہے، مثلاً فلم، ڈرامہ، ٹیلی ویژن جس میں نامحرموں کو دیکھنا بالکل ظاہر ہے یقینی طور پر ایسے تمام کام روزوں کو ثواب کے اعتبار سے کم کردیتے ہیں اور نامۂ اعمال میں گناہ لکھے جانے کا سبب بھی بنتے ہیں۔(آپ کے مسائل اور ان کا حل جلد 7 صفحہ 386)
٥ دانتوں کے درمیان اَٹکا ہوا گوشت کا ریشہ یا کوئی چیز جو چنے کی مقدار سے چھوٹی تھی اسے (منہ سے باہر نکالے بغیر) نگل لینا۔(فتاویٰ عالمگیری جلد1 صفحہ 202)

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *