دیار خلافت کا سفر شوق (انتیسویں قسط)

دیار خلافت کا سفر شوق (انتیسویں قسط)
تحریر : مولانا ڈاکٹر قاسم محمود

تمام بلاد اسلامیہ کے مسلمان دم کھینچے یہ دیکھ رہے تھے کہ سلجوق سلطنت کا اب کیا انجام ہوتا ہے، کیونکہ یہ آخری باڑ تھی۔ اس کا ٹوٹنا عالم اسلام کی تباہی کا نقطہ آغاز ہو سکتا تھا، اس لئے تمام مسلمان اس “آخری چٹان” کے تحفظ کیلئے دست بہ دعا تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس سرحدی علاقے میں شوق جہاد سے سرشار مجاہدین بھی تمام بلاد اسلامیہ سے اکٹھے ہو رہے تھے اور مختلف پرائیویٹ تنظیمیں بنا کر سلجوق سلطنت کے دفاع میں جہاد کی تیاری کر رہے تھے۔ ان تنظیموں میں شوق جہاد سے سرشار مجاہدین کے ساتھ ساتھ طریقت و سلوک سے تعلق رکھنے والے مشائخ بھی شریک ہوتے۔ یہ تنظیمیں ایک طرف اخوت و اتحاد اسلامی کی دعوت دیتیں تو دوسری طرف سلجوق سلطنت سمیت عالم اسلام کی سرحدوں پر منڈلانے والے سنگین خونی خطرات کے خلاف مسلمانوں کو دفاعی جہاد کیلئے بھی تیار کر رہی تھیں۔۔۔ اگرچہ ہونی ہوکر رہی۔ تمام تر ٹوٹی پھوٹی کوششوں کے باوجود اللہ تعالیٰ کی مشیت نافذ ہو کر رہی۔ اسلامی ریاستیں اور خلافتیں باہم بر سر پیکار تھیں یا مئے عیش و طرب میں غرق و مست، چنانچہ منگولوں اور تاتاریوں کے سیل بلا خیز کے سامنے مسلمانوں کی یہ انفرادی کاوشیں ریت کی دیوار ثابت ہو کر رہیں اور سلجوق سلطنت سمیت عالم اسلام کا بہت بڑا حصہ یورشِ تاتار میں تہس نہس ہو کر رہ گیا۔۔۔ اور ایک جوئے خون بہہ نکلی خون مسلم کی۔

سلجوق سلطنت کے دفاع میں اپنے طور پر لڑنے والی ان تنظیموں میں سے ایک تنظیم “اخی” کے نام سے معروف تھی۔ اس تنظیم کی بنیاد اسلامی اخوت اور بھائی چارے کے اصولوں پر قائم تھی۔یہ جہاد و دعوت دونوں پر عامل تھی۔ اس کے کارکنان اور رجال روحانی اور حربی دونوں میدانوں کے تربیت یافتہ تھے۔ اس تنظیم سے وابستہ تمام افراد فرسان بالنہار و رہبان باللیل (یعنی دن کو شہسوار مجاہد اور رات کو شب زندہ دار عبادت گزار) ہوا کرتے۔ یہ اپنے مسلمان بھائیوں کیلئے ابر رحمت تھے تو دشمن اسلام کیلئے ننگی تلوار اور برق قہر تھے۔

شیخ عماد الدین مصطفی المعروف شیخ ادہ بالی یا ادیبالی اسی کردار کی جامع “اخی تنظیم” کے ایک انتہائی با اثر شیخ و مرشد تھے۔ انہی جہادی مہمات کے دوران عثمانی سلاطین کے جد بزرگوار ارطغرل غازی کا شیخ سے ربط ضبط قائم ہوا اور ارطغرل غازی شیخ کے دامن ارادت سے وابستہ ہوگئے۔ سلجوقیوں کے زوال اور تاتاری طوفان کے گزرنے کے بعد جب سلجوقی سلطنت کے ملبے پر غازی ارطغرل کے بیٹے عثمان خان نے اپنی ریاست کی بنیاد رکھی تو اس ترقی پذیر عثمانی ریاست کی بنیادی پالیسیاں تشکیل دینے میں شیخ ادہ بالی نے اہم کردار ادا کیا۔ سلطنت عثمانیہ کے قیام کے بعد وہ اس کے پہلے قاضی بنے۔

(جاری ہے)

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *