کراچی ، 48 ہزار ٹن سے زائد مضر صحت پیٹ کوک درآمد کرنے پر شہریوں میں تشویش

کراچی پورٹ ٹرسٹ پر 48,680 ٹن پیٹ کوک سے لدے جہاز کی لنگر اندازی پرشہریوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیٹ کوک انسانی صحت اور ماحول کے لیے انتہائی خطرناک ہے .

اس کی کراچی پورٹ ٹرسٹ پر ہینڈلنگ شہریوں کے لیے خطرناک اورآلودگی کا باعث ہے۔ ڈاکٹر سید رضا علی گردیزی، جنرل سیکریٹری، سٹیزنز فار انوائرمنٹ نے ماحول اور انسانی صحت پر پڑنے والے خطرناک اثرات اور آلودگی کے باعث تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پیٹ کاک آئل ریفائننگ کی ضمنی پیداوار ہے جو ٹھوس کاربن مواد ہے اور کوئلے کی مانند ہے، یہ سولڈ فیول تھرمل کول کی طرح ہے جو سیمنٹ فیکٹریوں میں 15 فیصد سے 30 فیصد کے تناسب تک استعمال کیا جاتا ہے۔

پیٹ کاک ماحول کے لیے اُتنا ہی خطرناک ہے جتنا کوئی دوسرا ماحول کو آلودہ کرنے والا مواد ہوسکتا ہے۔ پیٹرولیم کوک 90 فیصد کاربن ہے اور صرف 3 فیصد سے 6 فیصد تک سلفر کا عنصر ہے۔اس سے خارج ہونے والے گرد کے ذرات سانس کے ذریعے شہریوں کے حلق میں داخل ہوتے ہیں جن سے وہ متعدد بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں۔

ڈاکٹر سید رضا علی گردیزی نے مزید کہا کہ کے پی ٹی، کے ڈی اے اسکیم فائیو، بلاک ون، شیریں جناح کالونی اور دیگر رہائشی آبادیوں کے قریب ہے جس سے شہریوں پر زہریلے مواد کے اثرات پڑتے ہیں اور قدرتی ماحول کو نقصان پہنچانے والی اشیاء کی آمد، ہینڈلنگ اور اسٹوریج و ٹرانسپورٹیشن ماحول کو شدید متاثر کرتی ہے جو پورے شہر میں آلودگی کا بڑا سبب ہے جن سے لوگوں کو متعدد بیماریاں جیسے دمہ، کھانسی، الرجی، کارڈی ویسکیولر امراض کینسر تک لاحق ہوسکتے ہیں۔کراچی کی عوام کو صحت کی پہلے ہی سہولتیں ناکافی ہیں .

اسپتالوں میں ایک ایک بستر پر چار چار بچے ایمرجنسی میں لائے جاتے ہیں، ہر روز کسی نہ کسی واقعے کی وجہ سے ایمرجنسی مریضوں کی تعداد کئی گنا بڑھ جاتی ہے، عام لوگوں میں اتنی استطاعت نہیں ہے کہ وہ آلودگی کے باعث اضافی بیماریوں کا بوجھ اٹھا سکیں، اسپتالوں میں ایک ایک ڈاکٹر 50، 50 مریضوں کو دیکھ رہا ہوتا ہے، نرسنگ اسٹاف کم ہے، موسم کی تبدیلی کے ساتھ کراچی میں وائرل بیماریوں کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے جس میں ہزاروں افراد کا بیک وقت اضافہ ہوتا ہے، اسی طرح دوائیوں کی قلت الگ ہوتی ہے۔

ان تمام عوامل نے ایک عام آدمی کا جینا دوبھر کردیا ہے اس لیے مزید بیماریوں کا سامان مسلط نہ کیا جائے اور ایسے کسی بھی مواد کی ہینڈلنگ نہ کی جائے جس سے تھوڑی بہت بھی آلودگی کراچی میں ہو۔بعض شہریوں نے کہا کہ ہم کے پی ٹی سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے ٹرمینل پر پیٹ کوک سے لدے اولمپس نامی جہاز سے یہ مواد نہ اتارے اس سے انسانی جانوں کے تحفظ اور صحت کو خطرہ ہے۔

پیٹ کوک بھی ماحول کی آلودگی کے لیے یکساں خطرناک ہے۔ ماحول کو سنگین خطرات لاحق ہونے کی وجہ سے سپریم کورٹ نے جون 2018ء کے احکامات میں کوئلے کی پورٹ پر ہینڈلنگ اور ذخیرے پر پابندی عائد کی تھی اور یہ سندھ انوائرنمنٹ پراٹیکشن ایکٹ 2014ء سیکشن 12،13 اور 17 کی بھی خلاف ورزی ہے جس کے تحت ایسے مواد کی اتھارٹی سے پہلے منظوری ضروری ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *