میں تنخواہ کے لئے شلوار نہیں اتاروں گا

تحریر : رعایت اللہ فاروقی

قصہ کچھ یوں ہے کہ میرے والد مولانا محمد عالم رحمہ اللہ پی اے ایف بیس مسرور پر 1971ء سے 1984ء تک امام و خطیب تھے۔ وہ چونکہ سویلین تھےاور سویلین علماء کو اس زمانے میں ایرفورس کی جانب سے اجازت حاصل تھی کہ وہ بیس سے باہر تدریس وغیرہ کرسکتے ہیں۔ چنانچہ میرے والد 1975ء سے 1980 تک صابرہ مسجد میں درس نظامی کے مدرس رہے۔ صابرہ مسجد شیرشاہ چوک سے میرا ناکہ کی جانب جاتے ہوئے سیدھے ہاتھ پر آتی ہے۔ اس مسجد سے متصل "امین ٹیکسٹائل مل” تھی جو سیٹھ عابد کی تھی۔ کچھ فاصلے پر گلی میں ایک اور ٹیکسٹائل مل بھی سیٹھ عابد کی تھی۔ صابرہ مسجد بھی سیٹھ عابد کی تعمیر کردہ تھی ۔

اسی مسجد کے ایک حصے میں چند کمرے بنا کر "جامعہ امینیہ” کے نام سے سیٹھ عابد نے نجی مدرسہ قائم کیا تھا جس کے مہتمم جہانگیری کے مولانا لطف اللہ رحمہ اللہ تھے۔ یہ قاری حفیظ الراحمن اور مولانا فصیح الرحمن مرحوم کے والد تھے اور نہایت ہی شاندار شخصیت سے مالک تھے۔ تعلم یہاں درجہ خامسہ تک تھی۔ اساتذہ میں سے جن کے نام مجھے یاد ہیں ایک مولانا عبدالرزاق عزیز کے بڑے بھائی مولانا عبد المتین صاحب تھے۔ ایک بنوں کے مولانا عبدالرؤف صاحب تھے۔ ایک مولانا احمد جان صاحب تھے جو اب ڈاکٹر احمد جان ہیں اور انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد میں استاد ہیں ۔

مدرسہ چونکہ نجی تھا یعنی یہ چندے پر چلنے والا مدرسہ نہ تھا بلکہ سیٹھ عابد اس کا خرچ اٹھاتے تھے سو انہوں نے اس کا ایک مینیو بھی ترتیب دے رکھا تھا کہ فلاں روز یہ پکے گا، اور فلاں روز یہ۔ دال، مرغی، سبزی، اور گوشت سب کے ایام مقرر تھے۔ ایک دن سیٹھ عابد صبح دس سے گیارہ بجے کے دوران انسپیکشن پر آ گئے ۔ سفید کرتا پاجاما، سر پر وہی ٹوپی جو انڈین فلموں میں سیاستدان کردار کے سر پر دکھائی جاتی ہے اور پیروں میں سلیپر۔ راؤنڈ کرتے ہوئے کچن میں پہنچے تو دن شاید گوشت یا مرغی کا تھا مگر پک سبزی رہی تھی۔ مینیو بنانا بہت آسان ہے مگر روز اس کی پابندی صرف ہوٹلوں میں ہی ممکن ہوتی ہے اور وہ بھی جان جوکھم والا کام ہوتا ہے۔ گوشت کے بجائے سبزی پکتی دیکھ کر سیٹھ عابد آپے سے باہر ہوگئے اور سیدھا نیچے آ کر چلائے ۔

"کدھر ہے لطف اللہ ؟”

کسی نے بتایا کہ گھر پر ہوں گے، آتے ہوں گے۔ نوکر کو دوڑا دیا کہ جاؤ جلدی سے بلا کر لاؤ۔ اور خود یہ مسجد کے برانڈے میں کسی "ٹھاکر” کی طرح غضبناک ہوئے ٹہلنے لگے۔ مسجد کے اس برانڈے کے دائیں سرے پر درجہ خامسہ کی کلاس کو میرے والد پڑھا رہے تھے اور بائیں سرے پر ہماری حفظ کی کلاس لگی تھی جس کے استاد قاری بشیر صاحب تھے۔ اور ٹھاکر ٹہلتے ہوئے خامسہ کی کلاس تک جائے اور وہاں سے پلٹ کر حفظ کی کلاس تک آئے، اور یہاں سے پھر خامسہ کی کلاس تک ۔ اتنے میں مولانا لطف اللہ صاحب پہنچ گئے۔ ٹھاکر یعنی سیٹھ عابد کی جب ان پر نظر پڑی تو جو منہ میں آیا بکنا شروع کر دیا ۔

مذید پڑھیں :بحریہ میں ہے تلاطم کہ سندھ آتا ہے

مولانا لطف اللہ صاحب دنگ رہ گئے کہ یہ ہو کیا رہا ہے۔ ان کے لئے یہ سب اتنا ناقابل یقین تھا کہ وہ گویا سکتے میں ہی چلے گئے۔ یہ منظر دیکھ کر میرے والد اٹھے اور ٹھاکر کی جانب کسی شیر کی طرح لپکے۔ اور جب دھاڑے تو آواز ایسی کہ پورا جامعہ امینیہ گونج اٹھا۔ حفظ، ناظرہ اور درس نظامی کی تمام کلاسوں میں سناٹا چھا گیا۔ انہوں نے ٹھاکر سے کہا ۔

"تمہیں تمہارے ماں باپ نے تمیز نہیں سکھائی کہ بڑوں سے گفتگو کیسے کی جاتی ہے ؟ (مولانا لطف اللہ صاحب سیٹھ عابد سے دگنی عمر کے تھے) تم ہمیں تنخواہ دیتے ہو تو کیا سمجھتے ہو کہ ہم تمہارے غلام اور تم ہمارے آقا ہوگئے ؟ تمہارے منہ میں جو آئے تم کہوگے اور ہم چپ چاپ سنیں گے ؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔”

ٹھاکر بولا

"یہ مدرسہ میری ذاتی پراپرٹی ہے۔۔۔۔۔”

اس کی بات کاٹتے ہوئے میرے والد بولے

"مدرسہ درودیوار کا نام نہیں ۔ مدرسہ استاد شاگرد کا نام ہے۔ تم صرف ان درودیوار کے مالک ہو۔ ہمارا مالک تمہارا باپ بھی نہیں۔ تم کیا چیز ہو ؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

اور یہ کہتے ہوئے میرے والدے مسلسل اس پر جیسے چڑھے جائیں اور وہ ایک ایک قدم پیچھے ہوتا جارہا۔ یہاں تک کہ مسجد کے جوتوں والی جگہ پہنچ گئے۔ مولانا لطف اللہ صاحب کو لگا کہ میرے والد اسے پیٹ ڈالیں گے چنانچہ انہوں نے میرے والد کو پیچھے سے دبوچ لیا۔ اور منت سماجت شروع کردی کہ خدا کے لئے چپ کر جائیں۔ میرے والد نے ایک جھٹکے سے خود کو مولانا لطف اللہ صاحب سے چھڑایا تو ٹھاکر یعنی سیٹھ عابد کو بھی لگا کہ بس اب یہ مولوی مجھے مار ہی ڈالے گا۔ اس نے جلدی سے اپنے سلیپر پہننے کی کوشش کی مگر نا کام رہا ۔

مذید پڑھیں :کراچی : واٹر بورڈ کے اسسٹنٹ ایگزیکٹیو انجینئر پر تشدد قابل مذمت ہے : غلام جیلانی

چنانچہ چپلوں کے بغیر ہی یکدم دوڑ کر گیٹ کے باہر کھڑی گاڑی میں بیٹھا اور شوفر نے گاڑی بھگا دی۔ شام کو اس نے گھر سے ایک تحریری حکم نامہ بھیجا کہ مدرسہ بند کیا جا رہا ہے۔ تمام اساتذہ اور طلبہ میری پراپرٹی سے دفع ہوجائیں۔ یوں یہ مدرسہ بند ہوگیا۔ اب جاتے جاتے یہ بھی بتا دوں کہ میرے والد ایئرفورس میں سویلین امام کیوں تھے ؟ انہوں آفیسر کلاس کیوں قبول نہ کی ؟ بات یہ ہے کہ وہ 1971ء میں بطور ویلین ہی بھرتی ہوئے تھے۔ جنرل ضیاء کا دور آیا تو اعلان ہوگیا کہ پہلے سے موجود علماء بھی آفیسر کلاس میں اپگریڈ ہو سکتے ہیں مگر انہیں میڈیکل کرانا ہو گا۔ چنانچہ مسرور بیس کے سب امام وارنٹ آفیسر بن گئے مگر میرے والد نے یہ کہہ کر آفیسر بننے سے انکار کر دیا کہ

"میں تنخواہ اور مراعات کے لئے کسی کے سامنے شلوار نہیں اتاروں گا”

چنانچہ بطور سویلین ہی ایئرفورس میں رہے اور اسی حیثیت میں ایئرفورس چھوڑی۔

نوٹ: سیٹھ عابد کس بلا کا نام تھا، یہ گوگل کر کے دیکھ لیا جائے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *