بلدیہ عظمی نارتھ ناظم آباد کا میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج چلانا بھول گئی .

رپورٹ : اختر شیخ

بلدیہ عظمیٰ کراچی نارتھ ناظم آباد میں واقع کراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج چلانے میں ناکام ہوگئی،1600سے زائد بچوں کا مستقبل دائو پر لگ گیا ہے، امتحانات قریب ہونے کے باجود گذشتہ 4 ماہ سے تدریسی عمل متاثر ہیں،ملازمین نے پرنسپل آفس سمیت تمام ڈپارٹمنٹس کو تالے لگاکر بند کیا ہوا ہے۔

کے ایم سی حکام اور کالج انتظامیہ کی اقربا پروری اور فرائض سے عدم دلچسپی نے کالج کو انتظامی اور مالی بحران میں مبتلا کردیا۔ چارماہ کی تنخواہوں سے محروم 250سے زائد تدریسی ملازمین کا ایک ماہ سے احتجاج جاری ہے۔ ملازمین نے پرنسپل آفس سمیت تمام ڈپارٹمنٹس کو تالے لگاکر بند کر رکھا ہے جبکہ تنخواہوں کی عدم ادائیگی تک کام نہ کرنے کا اعلان کیاہے ہڑتال کی وجہ سے انتظامیہ نے ہاؤس آفیسرز کے انٹرویو غیر معینہ مدت کیلئے منسوخ کردیئے گئے .

کے ایم سی ملازمین دشمن اقدامات سے پریشان ملازمین نے حکومت سندھ سے کالج کے انتظامات سنبھالنے کا مطالبہ کردیا۔ بتایا جاتا ہے کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کے زیر انتظام کراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج میں چار ما ہ کی تنخواہوں سے محروم ملازمین کا احتجاج کو ایک ماہ گزرجانے کے باوجود کے ایم سی حکام نے ملازمین کی تنخواہیں ادا نہیں کی۔جس پر ملازمین نے کے ایم سی حکام اور کالج انتظامیہ کے خلاف شدید غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے کالج میں نعرے بازی کی اور پرنسپل آفس سمیت کالج کے تمام ڈپارٹمنٹس کو تالا لگا کر بند کیا ہوا ہے۔

ملازمین کا کہنا ہے کہ کے ایم سی حکام اور کالج انتظامیہ ذاتی مفادات کیلئے ناصرف ملازمین کو پریشان کررہی ہے۔ بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل سے بھی کھیل رہی ہے۔ میئر کراچی فنڈ نہ ہونے کا رونا روکر 3 سال سے شہریوں کی آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں۔ملازمین نے واضح طورپر کہا ہے کہ جب تک تنخواہیں ادا نہیں کی جاتیں کالج بند رکھیں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ 10 برس میں کالج کے اخراجات میں کروڑوں روپے کی خرد برد کی جارہی ہے۔ انتظامیہ نے کالج کا ویلفیئر فنڈ تک نہ چھوڑا اور انتظامی بدعنوانی کی وجہ سے شہر کا بہترین کالج تبا ہ ہوکر رہ گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کالج کو 10 سال کے دوران دیئے گئے فنڈ اور فیسوں کی مد میں جمع ہونے والی رقم کا شفاف آڈٹ کرائے جائے تاکہ بد عنوانیوں کے سنگین انکشافات سامنے آجائیں گے.

دوسری جانب تنخواہوں سے محروم تدریسی اور غیر تدریسی طلباء نے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ میڈیکل کالج کو کے ایم سی سے لے کر سندھ حکومت کے ماتحت کیا جائے۔ ملازمین کا کہنا ہے کہ کے ایم سی حکام کالج چلانے میں ناکام ہوچکے ہیں۔ حکام اور کالج انتظامیہ کچھ دو اور لوکی بنیاد پر کالج چلا رہی ہے‘ کالج تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے۔

گزشتہ روز ہڑتالی ملازمین اور طلباء کی جانب سے میئر کراچی‘ میونسپل کمشنر اور کالج انتظامیہ کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔اس ضمن میں کالج کی ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں ڈاکٹر آفتاب امتیاز اور ڈاکٹر فریدہ و دیگر نے بتایا کہ 15ستمبر کو وزیر اعلیٰ کی مداخلت اور یقین دہانی کے بعد تدریسی عمل شروع کردیا گیا تھا اور ہمیں بتایا گیا تھا کہ 10کروڑ روپے کی گرانٹ 15دن میں مل جائیگی .

تاہم 15ستمبر کے بعد سے اب تک اس یقین دہانی پر بھی عمل نہیں کیا جارہا ہے،کراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج کے اسٹاف کی تنخواہوں کی مد میں ساڑھے4کروڑ روپے کا بجٹ صرف ہوتا ہے تاہم گذشتہ 8سال سے 3کروڑ روپے جاری کیے جارہے ہیں جس کی وجہ سے صورتحال خراب ہوئی ہے۔یاد رہے کہ کراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج میں 1600سے زائد طالب علم ہیں جن میں سے 300طالب علم سیلف فنانس کے تحت ہیں جن کی ٹیوشن فیس چند ماہ قبل ہی4لاکھ سے بڑھا کر 6لاکھ روپے کردی گئی تھی۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *