سندھ ہائیکورٹ نے سرکاری ملازمین کی ترقیّوں کا نیا فارمولہ دے دیا : رپورٹ

رپورٹ : زاہد احمد

سندھ ہائیکورٹ’ نے سرکاری ملازمین کی ترقیّوں میں حائل بڑی رکاوٹ دور کر دی

کسی بھی سرکاری ملازم کی ‘ پرفارمنس ایویلیوشن رپورٹ ‘ (PER ) ، جسے عرف ِعام میں ‘اینول کانفیڈینشل رپورٹ’ (ACR) ، بھی کہا جاتا ہے ، کی عدمِ دستیابی اب اس کی ترقّی میں رکاوٹ نہیں بن سکے گی ۔

‘سندھ ہائیکورٹ نے ایک آئینی درخواست پر 20 اپریل سنہ 2021 ء کو سنائے گئے اپنے ایک حکم میں سندھ حکومت کو ہدایت جاری کی ہے کہ آئندہ ‘ سرکاری ملازمیں کی ترقّیوں کے لئے ‘پراوینشل سلیکشن بورڈ’ (PSB) یا ‘ ڈپارٹمینٹل پرموشن کمیٹی’ (DPC) ، کسی بھی سرکاری ملازم کی ترقّی اسکی ‘پرفارمنس ایویلیوشن رپورٹ’ کی عدم دستیابی کی وجہ سے نہ مسترد کر سکے گی اور نا مؤخر ، سرکاری محکموں کی یہ ذمّہ داری ہو گی کہ وہ سرکاری ملازمین کی ترقیّوں پر غور کرنے کیلئے ان کمیٹیوں کے اجلاس سے قبل ہی، کمیٹیوں کو ترقیّوں کے لئے زیرِ غور لائے جانے والے سرکاری ملازمیں کی ‘پرفارمنس ایویلیوشن رپورٹس’ (پی ای آرز) ، کا مکمل سیٹ بہر طور ضرور بھیجیں ۔

سندھ ہائیکورٹ’ نے اپنے حکم میں یہ بھی کہا ہے کہ کسی بھی سرکاری ملازم کی ‘پرفارمنس ایویلیوشن رپورٹ’ (PER) ، اس ملازم کی ترقّی کیلئے منعقد ہونے والی ‘پی ایس بی’ یا ‘ ڈی پی سی’ کے اجلاس کے موقع پر کمیٹی کے سامنے پیش نہ کی جا سکیں تو اس کے ذمّہ دار متعلقہ محکمے کے سیکریٹری ، مجاز اتھارٹی یا متعلقہ افسران ہونگے ۔

مذید پڑھیں :مفتی کفایت اللہ کی رہائی کیوں نہیں ہو سکی ؟

‘چیف سیکریٹری سندھ’ نے سندھ کے تمام محکموں کے سیکریٹریز اور محکموں کے سربراہان کے نام ایک خط میں انہیں سندھ ہائیکورٹ کے اس حکم سے آگاہ کرتے ہوئے اس پر عمل درامد کرنے کی بھی ہدایت جاری کر دی ہیں ۔ ( اس خط کا عکس ذیل میں دیا جا رہا ہے ) ۔ معزّز عدالت ِعالیہ کا یہ فیصلہ بہت خوش آئند ہے کیونکہ سرکاری ملازمین کو اپنی ترقیّوں کے ضمن میں رکاوٹ بننے والی سب سے بڑی وجہ یعنی ، ترقّی کیلئے منعقد ہونے والے اجلاس کے وقت ان کی ترقیّوں کا محض اس لئے رک جانا کہ ان کی ‘پرفارمنس ایویلیوشن رپورٹ’ (PER) ، بوقت اجلاس پی ایس بی یا ڈی پی سی کے سامنے پیش نہ کی جا سکیں ، ایک عام شکایت بن چکی تھی ۔

کسی بھی ایسے افسر کی جانب سے اپنے ماتحت یا ماتحتوں کی ‘پرفارمنس ایویلیوشن رپورٹ’ (PER) تحریر نہ کرنا ، جس کی یہ ذمّہ داری ہو ، ایک معمول بنتا چلا جارہا تھا ۔ کچھ عرصے قبل کراچی کے دو ایسے کالجوں میں خدمات سر انجام دینے والے اساتذہ کی جانب سے ایسی ہی شکایتیں منظرِ عام پر آئیں ، جن کے پرنسپلز صاحبان سالہا سال سے ان کی ‘ ‘پرفارمنس ایویلیویشن رپورٹ’ (PER) تحریر کرنے سے دانستہ طور پر گریزاں ہیں ، جو ایک قانونی اور اخلاقی جرم ہے ۔

ان دو میں سے ایک کالج کے ایک استاد نے ‘اسسٹنٹ پروفیسر’ (بی ایس 18) سے ‘ایسوسی ایٹ پروفیسر’ (بی ایس 19) ترقّی کیلئے منعقد ہونے والے ‘ پراوینشل سلیکشن بورڈ’ (پی ایس بی) کے اجلاس میں اس کی ‘ پرفارمنس ایویلیوشن رپورٹ’ (پی ای آر) پیش نہ ہونے کی وجہ سے اگلے گریڈ میں ترقّی سے محرومی پر ‘سندھ ہائیکورٹ’ سے رجوع کیا ہوا ہے ۔

مذید پڑھیں :شاہد خاقان عباسی NA-249 میں دھاندلی کے ناقابلِ تردید شواہد لے آئے

تقریباً چار سال قبل مذکورہ کالج کے اساتذہ کی جانب سے اس کالج کے پرنسپل کے خلاف پے در پے شکایات پر ‘ڈائریکٹرجنرل کالجز سندھ’ کی جانب سے قائم کردہ ‘انکوائری کمیٹی’ کے رکن کی حیثیت سے ، کمیٹی کی رپورٹ تحریر کرتے ہوئے میں نے ‘ ہائر اٹھارٹی’ سے یہ سفارش کر دی تھی کہ مذکورہ پرنسپل ، کالج اساتذہ کی ‘ پرفارمنس ایویلیوشن رپورٹ’ (PER) نہ تحریر کر کے ‘ مس کنڈیکٹ’ کا مرتکب ہو رہا ہے ۔

نیز اس پرنسپل کا یہ عمل ، اساتذہ کی ترقیّوں میں رکاوٹ کا باعث بھی بن سکتا ہے ۔ مذکورہ پرنسپل کے ساتھ اس کالج کے جملہ اساتذہ کے ساتھ مخالفت اور مخاصمت کے پیش نظر رپورٹ میں یہ بھی سفارش کی گئی تھی کہ مذکورہ پرنسپل سے یہ توقّع نہیں کی جاسکتی کہ وہ کالج کے اساتذہ کی ‘پرفارمنس ایویلیوشن رپورٹ’ (PER) ، ‘حقیقت پسندانہ’ (FAIR) تحریر کر سکے گا ۔

لہٰذہ ، قاعدے کے مطابق اسی کالج کے سب سے سینئر استاد کو یہ اختیار دیا جائے کہ وہ کالج کے اساتذہ کی گزشتہ تمام سالوں کی پرفارمنس ایویلیوشن رپورٹس’ (PERs) تحریر کریں ۔ بدقسمتی سے کمیٹی کی سفارشات پر عمل نہیں کروایا جاسکا جس کے نتیجے میں مذکورہ کالج کا ایک استاد ترقّی کے حق سے محروم رہ گیا ۔

مذید پڑھیں :ضمنی الیکشن NA-249 میں 143 خلاف ورزیوں کی فافن رپورٹ سامنے آ گئی

ان حالات میں ، کہ جس میں بعض ‘پرفارمنس ایویلیوشن رپورٹ’ (PER) تحریر کرنے کے ذمّہ دار افسران ، اپنے ماتحتوں کی ‘ پرفارمنس ایویلیوشن رپورٹ’ (PER) تحریر نہ کرکے اپنے کسی ماتحت یا ماتحتوں کو انکے فطری ، آئینی اور اخلاقی حق ، یعنی ‘ترقّی کے حق’ سے محروم رکھ کر اپنی انا کو تسکین دیتے رہے ہیں ، ایسے افسران کا بھی احتساب ہو اور انہیں اپنے فرضِ منصبی کی ادائیگی سے انکار یا تساہل پر سزا دی جائے ۔

سندھ ہائیکورٹ کا یہ فیصلہ اس سلسلے میں ایک خوش آئند فیصلہ قرار دیا جا سکتا ہے جس پر عمل درآمد کرانا بھی ہائیکورٹ کی ذمّہ داری ہے کیونکہ ، مجھے پھر یہی کہنا پڑیگا کہ کم از کم میرے ڈپارٹمنٹ ، یعنی ‘ کالج ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ’ کا ٹریک ریکارڈ اس سلسلے میں کچھ اچھا نہیں رہا ہے ۔

عدالتی حکم کی رپورٹ ذیل کے لنک پر کلک کر کے دیکھی جا سکتی ہے ۔

order about Services-converted

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *