واجب، مسنون و مستحب روزے

روزے کی تین قسمیں ہیں۔ واجب، مسنون اور مستحب ، ذیل میں ختب فقہ کی روشنی میں ان کی تفصیل درج کی جاتی ہے :

1۔۔۔ واجب روزے :

وہ روزے جن کا رکھنا واجب ہے ،حسب ذیل ہیں :

کفارات کے روزہ ،شریعت نے قسم ،ظہار، رمضان المبارک میں دن کے وقت قصداً روزہ توڑنے اور قتل خطا کی وجہ سے کفارہ واجب قرار دیا ہے ، ان کفارات میں روزہ بھی ہے ، بعض کفارات میں مسلسل روزہ رکھنے کا حکم ہے اور بعض میں فصل کے ساتھ بھی رکھا جاسکتا ہے ، بعض میں ترتیب ہے کہ کفارہ کی فلاں صورت پر قادرنہ ہونے کی صورت ہی کفارہ کی دوسری صورت کو اختیار کیا جاسکتا ہے اور بعض میں ترتیب واجب نہیں ہے ۔

نفل روزہ شروع کرنے کے بعد توڑدیا جائے تو حنفیہ اور مالکیہ کے نزدیک واجب ہو جاتا ہے ، چنانچہ حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ میں اور حفصہ روزہ سے تھی ،کھانا آگیا ہم لوگوںنے کھالیا پھر جب آپ ۖ سے دریافت کیا تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ تم دونوں کسی اور دن اس کی قضاء کر لو

قضیایو ما آخرمکانہ ( ترمذی ١۔١٥٥ باب ماجاء فی ایجاب القضاء علیہ)

تیسرے نذر کی وجہ سے بھی روزہ واجب ہو جاتا ہے ، نذر متعین دونوں کی بھی ہوسکتی ہے اور غیر متعین دن کی بھی پہلی صورت کو نذر معین اور دوسری صورت کو نذر مطلق کہتے ہیں ،جیسی نذرمانی ہو اسی کے مطابق قضاء کرنی ہے ۔ (ھندیہ ١۔١٩٤ )۔۔۔۔ البتہ اگر ان دونوں میں روزہ رکھنے کی نذرمانی ہے جن میں روزہ رکھنے سے منع کیا گیا ہے ۔ یعنی عید اور ایام تشریق ، تو اس پر واجب ہے کہ ان دونوں میں روزہ نہ رکھنے اور بعد میں ان کی قضاء کر لے ،تاہم اگر روزہ رکھ ہی لے تو حنفیہ کے نزدیک روزہ تو ہو جاتا ئے گا ۔ البتہ گنہگار ہو گا۔ (درختار ٢ ۔١٢٤) ۔

واجب روزوں کی نیت کا وقت :

رمضان کی قضاء کفارات ،نفل کی قضاء اور نذرمطلق کے روزوں میں ضروری ہے کہ رات ہی میں نیت کرلی جائے اور نیت میں روزوں کی نوعیت بھی متعین کر لی جائے ،نذرمتعین (جس میں نذرماننے والے نے پہلے ہی سے متعین کر لیا ہو کہ فلاں دن روزہ رکھنا ہے ) کی صورت میں رمضان کے روزے کی طرح نصف نہار سے پہلے پہلے نیت کر لی جائے تو یہ بھی کافی ہے ۔ البتہ رات میں نیت کر لینا بہرحال بہتر ہے ۔(ھندیہ ١۔١٩٦ )

2۔۔۔۔مسنون روزے :

نفل روزوں کی دو قسمیں ہیں: مسنون اور مستحب ۔

مسنون وہ ہے جس پر حضور ۖ نے پابندی فرمائی ہو اور مستحب وہ ہے جس کے بارے میں ترغیب دی گئی ہو لیکن آپ ۖ سے اس پر اس درجہ اہتمام ثابت نہ ہو ۔

مذید پڑھیں :صدرِ پاکستان نے مولانا حنیف جالندھری سے کورونا SOPs آگاہی کیلئے اپیل کر دی

مسنون روزہ یوم عاشوراء (دس محرم)اور اس کے ساتھ نویں یا گیارھویں تاریخ کا روزہ گذرے ہوئے سال کے گناہوں کے لیے کفارہ ہو جائے گا۔ (ترمذی ١۔١٥٨ ) ۔۔۔چوں کہ یہودی بھی اس دن روزہ رکھاتے تھے اس لیے آپ نے امتیاز کے طورپر دس کے ساتھ نو محرم کو بھی روزہ رکھنے کا حکم فرمایا ہے بلکہ حضرت عبد اللہ ۖ نے خود آپ کا بھی یہی معمول نقل کیا ہے (حوالہ سابق ) ۔۔۔۔۔روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتداء یہی روزہ فرض تھا اور ماقبل اسلام ہی سے قریش یہ روزہ رکھا کر تے تھے ،بعد کو جب رمضان کے روزے فرض ہوئے تو اس روزہ کی فرضیت منسوخ ہوگئی ۔(دیکھئے : ترمذی ١۔١٥٨)

امام ابو حنیفہ کے نذدیک تنہادس تاریخ کو روزہ رکھنا مکروہ ہے ،مالکیہ ،شوافع اور حنابلہ کے یہاں مکروہ نہیں (الفقہ الاسلامی وادلتہ ٢۔٥٩١) ۔۔۔۔خیال ہو تا ہے کہ چوں کہ فی زمانہ نہ یہودیوں کے یہاںقمری کیلنڈرمروج ہے اورنہ اس دن روزہ رکھنے کا اہتمام ہے ،اس لیے نو تاریخ کو روزہ رکھنے کی اصل علت یعنی یہودسے تشبہ اور مماثلت موجود نہیں ،لہذاتنہادس محرم کو روزہ رکھنا بھی کافی ہے ۔واللہ اعلم!

3۔۔۔۔مستحب روزے :

مستحب روزے جو احادیث اور فقہ کتابوں میں مذکورہ ہیں وہ یہ ہیں ۔

(١) یوم عرفہ تعنی نو ذیالحجہ کا روزہ ۔۔۔۔ آپۖ نے اس روزے کے بارے ،میں فرمایا کہ یہ گذشتہ اور آئندہ سال کے گناہوں کے لیے کفارہ بن جائے گا (مسلم ١۔٣٦٧) حجاج اگر روزہ رکھنے کی وجہ سے کمزوری محسوس نہ کریں اور دعاء کے اہتمام میں فرق نہ آئے تو حنفیہ کے یہاں روزہ رکھ لینا بہتر ہے اور اگر ضعف و ناتوانائی کا اندیشہ ہو تو روزہ نہیں رکھنا چاہئے ،حنفیہ کے نذدیک حضرت ابو ہریرہ ۖ  کی اس حدیث کا کہ؛حضور ۖ نے عرفات کے دن عرفہ میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے ۔(ابن ماجہ ١٢٤) ۔۔۔۔ کا منشاء یہی قرار دیا گیا ہے۔

(٢) شوال کے چھ روزے ۔۔۔۔۔چنانچہ ابو ایوب انصاری ۖ سے مروی ہے کہ آپۖ نے فرمایا کہ جس نے رمضان کے اور شوال کے چھ روزے رکھے تو گو یا اس نے تمام زمانہ روزہ رکھا (مسلم ١۔٣٦٩ ) کیوںکہ اگرنیکیوں کا اجر دس گونہ مانا جا ئے تو یہ چھتیں روزہ تین سو ساٹھ روزوں کے برابر ہوگئے ۔
حنفیہ اور مالکیہ کے بارے میں منقول ہے کہ ان کے نزدیک یہ روزے مکروہ ہیں (شرح نووی علی مسلم ١۔٣٦٩) ۔۔۔۔۔۔

لیکن چوں کہ اس بارے میں صحیح روایات موجود ہیں ۔ غالباً اسی لیے متاخرین احناف نے اس کے مستحب ہونے کو ترجیح دیا ہے (دیکھئے : حاشیة الطحطاوی علی المراقی ص ٣٥١) یہ روزے مسلسل بھی رکھے جا سکتے ہیں شوال کے مہینہ میں متفرق دنوں میں بھی ۔(مراقی الفلاح ٣٥١ شرح نووی علی ،مسلم ١۔٣٦٩)

مذید پڑھیں :دعوت و تبلیغ اور MTJ کاروبار

(٣) پیر اور جمعرات کے روزے ۔۔۔۔۔حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ آپ ۖ نے فرمایا ،پیراور جمعرات کو اعمال پیش کئے جاتے ہیں تو میں چاہتا ہوں کہ میرے اعمال اس حال میں پیش کئے جائیں کہ میں روزہ سے ہو ں (ترمذی ١۔١٥٧) ۔۔۔۔نیز حضرت عائشہ ۖ سے مروی ہے کہ آپ ۖ روزہ کے لیے خاص طور پر پیر اور جمعرات کا انتخاب فرمایا کرتے تھے۔ (حوالہ سابق )

ماہ میں تین دن :

انہی مستحب روزوں میں مہینہ میں تین دنوں روزے رکھنا ہے کہ تین دن گویا اجر کے احساب سے تیس دن کے مساوی ہے ،یہ تین دن کوئی بھی ہو سکتے ہیں ،چنانچہ حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ کسی خاص تاریخ ہی میں روزہ کا اہتمام نہیں تھا(مسلم ١۔٣٦٧) تاہم بعض روایتوں میں مہینہ کے وسط کے تین دنوں کی صراحت موجود ہے (دیکھئے :مسلم عن عمران بن حصین١۔٣٦٧)۔۔۔۔۔۔۔بظاہر یہ تین دن چودہ پندرہ سولہ کے تے ہیں چنانچہ ایک روایت میں صراحت ہے کہ آپ ۖ نے حضرت ابوذر ۖ سے فرمایا کہ اگر مہینہ میںتین ہی روزے رکھنے ہوں تو چودہ پندرہ سولہ کے رکھو (ترمذی ١۔١٥٩) ۔۔۔۔۔چوں کہ یہ تاریخیں چاندنی کے شباب کی ہوتی ہیں اسی لیے ان کو ایام بیض بھی کہا جاتا ہے ۔

صوم داؤدی :

(٥) مسنون روزوں میںا یک وہ ہے جس کو آپ ۖ نے صوم داؤدی قرار دیا ہے ، یعنی ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن روزہ نہیں رکھنا ،آپ ۖ نے فرمایا کہ حضرت داؤد سے بہترکوئی روزہ نہیں اور اس طرح کہ ایک دن روزہ رکھو اور ایک دن افطار کرو ۔(بخاری ١۔٢٦٦)
عشرہ ذی الحجہ اور ١٥ /شعبان کے روزے :

ان کے علاوہ آپۖ سے محرم کے مہینہ میں نیز دس ذی الحجہ کو چھوڑ کر ذی الحجہ کے پہلے عشرہ میںروزہ کی فضیلت ثابت ہے (دیکھئے : ترمذی ١۔١٥٦ ،١٥٨،ابن ماجہ ١٢٤) ۔۔۔ایک ضعیف روایت میں پندروین شعبان کے روزہ کی ترغیب بھی آئی ہے ارشاد ہے :
اذا کانت لیلة النصف من شعبان فقوموا لیلھا وصومواشھرما (ابن ماجہ )

جب شعبان کی رات آئے تو اس میںن عبادت کرو اور شعبان کے مہینہ میں روزہ رکھو۔ گواس روایت کو بعض حضرات نے موضوع قرار دیا ہے ۔ لیکن حدیث کے معروف عالم اور مقام شناس مولانا حبیب الرحمن اعظمی نے اس کی تردید کی ہے ، ان کا خیال ہے کہ چوں کہ روایت فضائل اعمال سے تعلق رکھتی ہے اس لیے ضعیف ہو نے کے باوجود وقابل قبول ہے ۔(دیکھئے: مجلہ الماثر ،رجب ۔۔۔رمضان ١٤١٤ھ)

علاوہ ان روزوں کے عام دنوں میں بھی نفل روزے رکھنا مستحب ہے کہ آپ ۖ بلا تعیین وتخصیص بھی مختلف مہینوں و دنوں شعبان میں روزہ کی کثرت کا خاص معلوم تھا۔(مجمع الزوائد ٣۔١٩٢ باب الصیام فی شعبان ) ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *