اورنگی اور گجر نالہ متاثرین کے ساتھ کشمیر و فلسطین جیسا سلوک بند کیا جائے :عوامی ورکر پارٹی

کراچی : یکم مئی بروز ہفتہ عوامی ورکرز پارٹی، ویمن ڈیمو کریٹک فرنٹ اور پروگریسو اسٹوڈنٹ فیڈیریشن کے بینر تلے گجر نالہ و اورنگی نالہ متاثرین، کراچی الیکٹرک لیبر یونین، سوئی گیس انصاف جفا کش یونین اور پاکستان ٹریڈ یونین فیڈریشن نے الطاف علی بریلوی روڈ تا خاموش کالونی قبرستان ہیومن چین بنا کر بھرپور مظاہرہ کیا گیا ۔

مظاہرے میں خواتین اور بچوں سمیت بھای تعداد میں کراچی کے شہریوں نے شرکت کی اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کے خلاف شدید نعرے بازی کی ۔ گجر نالہ متاثرین کے رہنما عابد اصغر کا کہنا تھا کہ ہم نے اپنا بچپن اور جوانی ان گھروں میں گزاری ہے۔ آپ کے لئے یہ پتھر اور پلاستر ہیں لیکن ہمارے لئے یہ ہماری زندگی ہیں۔

اس موقع اپر انہوں نے کہا یہ مکانات ہمارے باپ دادا نے اپنی ساری زندگی کی کمائی لگا کر خریدے ہیں اور جس طبقے سے ہمارا تعلق ہے اس کے لئے دوبارہ اس شہر میں مکان بنانا ناممکن ہے۔ ہمارا صرف یہ مطالبہ ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق ہمیں اس ہی ضلع میں متبادل مکان دیا جائے اورتب تک کے لئے اس آپریشن کو روکا جائے۔

مذید پڑھیں :بحریہ ٹاؤن کو غریبوں کی زمین ہتھیانے کی اجازت نہیں دیں گے : علامہ راشد سومرو

عوامی ورکرز پارٹی کراچی کے جنرل سیکریٹری خرم علی نے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت کراچی وسطی اور اورنگی ٹاؤن میں ایسے مناظر دیکھنے کو مل رہے ہیں جیسے وہ کشمیر یا فلسطین ہو۔ وہاں کے جائز شہریوں کو قبضہ گیر کہہ کر ان کے گھروں سے پولیس اور رینجرز کی مدد سے بزور بازو اٹھایا جا رہا ہے ۔

اگر کوئی سوال بھی پوچھ لے تو اسے ہراساں اور گرفتار کیا جا رہا ہے جبکہ دوسری طرف بلڈر مافیا جو واقعی قبضہ گیر ہے اسے ریاستی حفاظت بھی فراہم کی جا رہی ہے اور راؤ انوار جیسے افسر ان کے لئے ملیر و گڈاپ سمیت کراچی بھر کی زمینوں کو بھی بزور بازو خالی کرا رہے ہیں۔

ویمن ڈیموکریٹک فرنٹ کی رہنما اور لیگل ایڈوائزر عبیرا اشفاق کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے آرڈر کی غلط تشریح کر کے لیزڈ مکانات کو قبضے کے زمرے میں ڈال کر کراچی کی ایک بڑی آبادی کی زمینوں کو کنسٹرکشن کمپنیوں اور ورلڈ بینک سے مال بنانے کے لئے خالی کرایا جا رہا ہے۔ یہ آبادیاں محنت کش طبقے پر مشتمل ہیں جن کو نہ قانونی چارہ جوئی کا اتنا علم ہے اور نہ ہی ان کے پاس قانونی لڑائی لڑنے کے وسائل ہیں جس کا فائدہ اٹھا کر تیزی سے ان کی زمینیں توڑی جا رہی ہیں۔

مذید پڑھیں :واٹر بورڈ : راشد صدیقی کیخلاف NAB تحقیقات شروع

کراچی بچاؤ تحریک اب تک 100 سے زائد اسٹے لے چکی ہے لیکن اتنی بڑی آبادی کے کاغذات جمع کرنے اور درخواستیں فائل کرنے میں وقت لگتا ہے جس کا فائدہ بلڈر مافیا کے لئے کام کرنے والی یہ حکومتیں اٹھا رہی ہیں۔

پروگریسو اسٹوڈنٹس فیڈریشن کراچی کی آرگنائزر ذہابیہ نے اس موقع پر بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ان غیر انسانی غیر جمہوری اور غیر قانونی مسماریوں سے نوجوانوں پر گہرا اثر پڑتا ہے اور ان کی تعلیم ہی نہیں ساری زندگی متاثر ہوتی ہے۔ گجر نالہ مسماریوں کے نتیجے میں ۳۰،۰۰۰۰ طلباٰ کی تعلیم متاثر ہو گی، ان کی تعلیم کا اژالہ حکومت کیسے کرے گی جبکہ اس کے پاس کوئی منصوبہ ہی نہیں۔

کیفے پیالہ کے متاثرین کے رہنما شمس کا کہنا تھا کہ اس وقت ایک بڑی مافیا حکومت کے بھیس میں سرگرم ہے جو ہمیں ہماری جائز زاملاک سے بے دخل کر کے ان زمینوں کو بڑے بڑے بلڈروں کوبیچنا چاہتی ہے اور ساتھ ہی ساتھ ورلڈ بینک سے متبادل گھر کے لئے ملنے والی رقم کو ہڑپ کرنا چاہتی ہے۔ میں ارباب اختیار، میڈیا کے دوستوں اور خاص کر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے اپیل کرتا ہوں کہ اس غیر قانونی آپریشن کا نوٹس لیں جو آپ کے فیصلے کی غلط انداز میں من مانی تشریح کر کے جاری ہے۔

آخر میں عوامی ورکرز پارتی اور گجرنالہ متاثرین کمیٹی کے رہنما عارف شاہ نے شرکا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہعوامی ورکرز پارٹی اور کراچی بچاؤ تحریک اجمہوری مظاہروں، قانونی کارروائی اور عالمی برادری میں ورلڈ بینک کے اس منصوبے میں ہونے والی زیادتیوں کو اجاگر کر کے اس جدوجہد کو تب تک جاری رکھے گی جب تک ہمیں ہمارے حقوق نہیں مل جاتے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *