واٹر بورڈ کو عالمی مالیاتی اداروں کے دبائو کی وجہ سے کارپوریشن بنانے کا فیصلہ

کراچی : (رپورٹ : محمد انور ) حکومت سندھ نے عالمی بینک کے دباؤ پر کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ ( کے ڈبلیو اینڈ ایس بی ) کو مزید خود مختار بنانے کے لیئے اسے نجی ادارے کی طرز پر کارپوریشن میں تبدیل کرنے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے ۔

اس بات کا انکشاف انتہائی قابل اعتماد ذرائع نے کیا ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کے ڈبلیو اینڈ ایس بی کو عالمی بینک کی مالی معاونت کی ضرورت ہے ۔ اس مقصد کے لیے پہلے ” کراچی واٹر اینڈ سیوریج امپرومنٹ پروجیکٹ “ کے نام سے ایک شعبہ منصوبہ جاتی شعبہ تخلیق کیا جا چکا ہے ۔ جب کہ اس مقصد کے تحت 13 رکنی بورڈ بھی قائم کیا جا چکا ہے ۔

مذکورہ بورڈ کے چیئرمین صوبائی وزیر بلدیات ناصر شاہ ہیں ۔ جب کہ ارکان میں سیکرٹری بلدیات و ہاؤسنگ ٹاؤن پلاننگ سید نجم شاہ ، سیکرٹری فنانس سید حسن نقوی ، سیکرٹری پلاننگ شیریں مصطفی ، ایڈمنسٹریٹر کراچی لئیق احمد جان اور علی لغاری ، جامعہ این ای ڈی کے وائس چانسلر ڈاکٹر سروش لودھی ، پروفیسر ڈاکٹر نعمان احمد ، پروفیسر ڈاکٹر نوشین ، سابق سیکرٹری داخلہ عبدالکبیر قاضی ، ڈاکٹر بخشل لغاری ، ظفر سبحانی ، شارق وہرا ، اور بیرسٹر عبدالستار پیر زادہ شامل ہیں ۔

مذید پڑھیں :واٹر بورڈ : راشد صدیقی کیخلاف NAB تحقیقات شروع

اس بورڈ کو کراچی واٹر اینڈ سیوریج کا اسٹیٹس تبدیل کر کے کارپوریشن میں تبدیل کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے ۔ چیئرمین بورڈ نے بورڈ کا تیسرا اجلاس 4 مئی بروز پیر کو طلب کیا ہے ۔ اجلاس میں دیگر امور کے ساتھ کے ڈبلیو اینڈ ایس بی کو کارپوریشن میں تبدیل کرنے غرض سے ایکٹ کے مجوزہ ڈرافٹ پر غور کیا جائے گا اور اسے صوبائی اسمبلی میں پیش کرنے کے لیے مزید بہتر بنایا جائے گا ۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کو ” کارپوریشن ” میں تبدیل کرنے کے لیئے بلدیاتی کونسل نہ ہونے سے فائدہ اٹھا کر بلدیہ عظمیٰ کراچی کی کونسل کی عدم موجودگی میں قانون منظور کرانا چاہتی ہے ۔ تاکہ بغیر کسی مزاحمت کے کراچی کے ڈھائی کروڑ باشندوں کو پانی فراہم اور سیوریج کا نظام دینے والے ادارے کو باآسانی کارپوریشن میں تبدیل کر کے اسے مزید خودمختار بنا دیا جائے ۔

مذید پڑھیں :پاکستان کے نامور ٹریڈ یونین رہنما شفیق غوری کا انٹرویو

واٹر بورڈ کی مزید خود مختاری سے فراہمی و نکاسی آب کے ٹیکسز میں من مانا اضافہ کرنے میں آسانی ہو گی اور مجوزہ کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن اس بارے میں بااختیار ہو جائے گا ۔ لیکن کراچی اور اس کے باشندوں کو ضرورت کے مطابق 1000 ملین گیلن یومیہ پانی مل سکے گا یا نہیں فی الحال یہ کہنا مشکل ہے ۔

قوی امکان ہے کہ جماعت اسلامی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے اسٹیٹس کو اس طرح پرسرار طریقے سے تبدیل کرنے کی مزاحمت کرے گی ۔ یہ بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پیپلز لیبر یونین نے ماضی نے واٹر بورڈ کی نجکاری کے لئے مثالی جد و جہد کی تھییں اور آئندہ بھی ممکنہ طور پر پیپلز لیبر یونین کارپوریشن کی راہ میں رکاوٹ بننے کی ہمت کر سکتی ہے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *