برادرم عمر انور کی ایک اور بہترین و لائقِ تحسین کاوش

تحریر : مولانا طلحہ رحمانی 

راقم نے تقریبا دو برس قبل برادر عزیز مولانا "عمر انور” سلمہ اللہ کی سالوں علمی ،و تحقیقی تفسیری ذوق کی شاہکار کاوش ” آسان بیان القرآن و تفسیر عثمانی” پہ ایک مضمون لکھا تھا۔۔۔۔ پہلے اس تحریر کا ایک اقتباس پڑھیں ۔

نوجوانوں کیلئے ایک مثال مولانا عمر انور

مولانا عمر انور بدخشانی سلمہ اللہ فاضل نوجواں ہیں عظیم مرکز علم وصفاء جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹائون میں بزرگ استاد حضرت قاری حبیب الرحمن حفظہ اللہ سے حفظ قرآن کی سعادت کے بعد درس نظامی کی تکمیل اور اپنے محبوب استاد فقیہ وقت حضرت مولانا مفتی نظام الدین شامزئی شہیدؒکے زیر نگرانی فقہ اسپیلائزیشن (تخصص فی الفقہ) کے بعد اپنے مادر علمی میں تدریس اور تدوین فتاوی میں تقرری ہوئی،تکمیل درس نظامی یعنی دورہ حدیث (عالمیہ مساوی ایم اے) میں ملک بھر کے مدارس میں اول پوزیشن حاصل کی ۔

موصوف برادر عزیز مولانا عمرانور سلمہ اللہ دور حاضر میں علوم نقلیہ و عقلیہ کے ماہر، مفسر قرآن، شارح واستاد حدیث، ممتاز مدرس، مدبر ومربی اور محدث العصر علامہ بنوریؒ کے فرزند نسبتی (داماد) حضرت مولانا محمد انور بدخشانی حفظہ اللہ کے باصلاحیت فرزند ہیں۔ حضرت بدخشانی حفظہ اللہ کی علمی و تحقیقی خدمات سے اہل علم خوب واقفیت رکھتے ہیں۔ تقریبا چالیس سے زائد مطبوعہ اردو، فارسی اور عربی زبان میں درسی و فنی کتب کے مصنف ہیں، جن میں درس نظامی میں شامل کئی کتب فنون کی تسہیل بھی شامل ہیں، تقریباً چھ جلدوں پہ مشتمل آپ کی تفسیر قرآن زیر طبع ہے۔ آپ کا لکھا ہوا فارسی زبان میں قرآن مجید کا ترجمہ سعودی حکومت کی جانب سے لاکھوں کی تعداد میں چھپوا کر حجاج وزائرین میں تقسیم بھی کیا جا رہا ہے۔ چند برس قبل وفات پانے والی آپ کی والدہ ماجدہ رحمہااللہ فقیہ وقت مفتی اعظم حضرت مولانا مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ کی نواسی تھیں۔ جو عظیم علمی مرکز جامعہ دارالعلوم کراچی کے احاطۂ خاص میں علمائے ربانین و مرشدین امت اور اپنے آبائو اجداد کے پہلو میں آسودہ خاک ہیں۔

مولانا عمر انور سلمہ اللہ جامعہ بنوری ٹائون میں تدریسی ذمہ داریوں کے ساتھ شعبۂ دارالتصنیف و مجلس دعوۃ والحقیق سے بھی منسلک ہیں۔ گلشن اقبال کراچی کی بڑی جامع مسجد قباء کے امام و خطیب اور اسی مسجد میں عوامی حلقہ درس قرآن کے بہترین مدرس بھی ہیں۔ اور عرصہ سے ہفتہ وار درس قرآن و اصلاحی آن لائن کے علمی سلسلہ کے بھی روح رواں ہیں۔ تقریبا گزشتہ دو دہائیوں سے رمضان المبارک میں تراویح میں ختم قرآن اور خلاصہ تفسیر سے بھی کئی حضرات فیضیاب ہو رہے ہیں ۔

مزید پڑھیں :پاکستان میں برطانوی ، افریفی اور برازیلی وائرس کا انکشاف

تین جلدوں پہ مشتمل شاہکار قابل صد آفرین تفسیری خدمت کے ساتھ چند دیگر عنوانات پہ بھی بہترین جامع کتب بھی مرتب فرمائی ہیں۔ جن میں :’’قرآنی دعائیں مناجاتِ انبیاء و صالحین‘‘،’’مستند خلاصہ مضامینِ قرآنی‘‘،’’استخارہ سنت کے مطابق کیجیے‘‘،’’اسلام اور دور حاضر کے شبہات و مغالطے‘‘اور مولانا مناظر احسن گیلانی رحمہ اللہ کی سیرت پہ شاہکار ’’النبی الخاتمؐ‘‘ کی تسہیل، تدوین و حواشی پہ بھی بہت خوب کام کیا ہے،برادر موصوف سلمہ‘ اللہ کی مذکورہ کتب مطبوعہ موجود ہیں، جبکہ کئی اہم عنوانات پہ آپ کی تصنیفی و تحقیقی کاوشیں مزید جاری ہیں۔

مذکورہ چند تعارفی علمی وخاندانی نسبتوں کے ساتھ اللہ نے عمر میں ’’چھوٹے‘‘ نسبتوں و کمالات میں ’’بڑے‘‘ برادر مولانا عمر انور سلمہ اللہ کو درس و تدریس، تصنیف و تالیف، تحریر وخوش نما خطاطی کی فنی باریکیوں کو سمجھنے کی صلاحیت سمیت کتب بینی کی دنیا کے ایک بہترین مطالعہ کا حسیں ذوق بھی عطاء فرمایا ہے۔ اس عمر رواں کے چند برسوں میں تفسیر قرآن، علوم و فنون سے لگائو جہاں اپنی خاندانی نسبتوں کی امین ہیں وہیں ’’برادر موصوف سلمہ‘ اللہ‘‘ کو اپنے ہم عصروں میں ممتاز بھی بناتی ہیں۔

تحصیل علم سے حیاتِ عمل کے چند برسوں کے اوقات کو جس درجہ قیمتی بنایا وہ طلاب علم کیلئے بھی یقیناً ایک نمونہ اور مثال ہے,’’برادر موصوف‘‘ سے قربت کی کئی وجوہات میں جہاں مذکورہ علمی و خاندانی نسبتیں ہیں وہیں راقم کے ’’ماموں جان‘‘ جانشین محدث العصر مولانا سید سلیمان بنوری حفظہ اللہ(نائب رئیس و استاد الحدیث جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹائون کراچی) سے ہمہ وقت کا تعلق خاص کا ہونا بھی اہم وجہ ہے۔ اسی بناء پہ سالوں برادر محترم سے ملاقاتیں کبھی روز روز اور کبھی چند ایام کے تعطل کے بعد ہونا ایک روایتی سا معمول رہا ہے۔

مذید پڑھیں :بھارتی گلوکار بد اخلاقی سے پیش آنے پر ضلعی مجسٹریٹ پر برس پڑے

ابھی تقریبا تین برس قبل والد ماجد امام اہل سنت حضرت مولانا مفتی احمدالرحمنؒ کی حیات و خدمات پہ ماہنامہ بینات کی جانب سے شائع ہونے والے اشاعت خاص کی تیاری میں تصحیح وتزین، عنوانات و سرورق سے لیکر طباعت تک کے کئی مراحل و امور کی انجام دہی میں راقم کی عملاً موصوف کے ساتھ ہمراہی رہی، اور الحمدللہ مہنیوں کا کام دنوں اور دنوں کا گھنٹوں میں ہونے میں برادر محترم کی جہاں کاوشوں کا ثمرہ رہا وہیں ان کا اپنی نسبتوں کی بناء پہ تعلق خاص کا بھی بڑا دخل رہا۔ اس دوران راقم کے بے باک مزاج کو تحمل سے برداشت کر کے جس جذبہ و اخلاص اور بے لوث ہوکر ایک تاریخی دستاویز کو مرتب کرنے میں جو بنیادی کردار ادا کیا اس پہ خاندانِ کامل پوریؒ و بنوریؒ ہمیشہ ان کا ممنون مند اور دعاگو رہا ہے اور ان شاء اللہ رہے گا۔ اس تاریخی اشاعت کے ایام میں انکی کئی پوشیدہ صلاحیتیں راقم پہ آشکارہ ہوئیں جس سے برادر موصوف سلمہ اللہ سے والہانہ تعلق وباہمی محبت مزید گہری سے گہری ہوتی گئی۔

مذکورہ اقتباس راقم نے تقریبا دو برس قبل حج کے باسعادت سفر سے واپسی میں دوران سفر ایک مضمون میں کیا تھا۔۔۔۔۔

یہ مضمون برادر عزیز مولانا عمر انور سلمہ اللہ کی تاریخ ساز تفسیری کاوش "آسان بیان القرآن وتفسیر عثمانی” کے حوالہ سے تھا،مکمل مضمون ماھانہ "وفاق المدارس” سمیت پاکستان کئی معروف دینی جرائد وبعض اخبارات میں قسط وار بھی شائع ھوا تھا۔ آج جب "برادرم موصوف”سلمہ اللہ کا ایک اور کارنامہ دوران سفر نظر سے گزرا تو فوری رابطہ کیا ۔۔۔۔ جس پر تفصیل کا علم ھوا تو دل سے دعائیں نکلیں اور چند برس قبل کا ایک کام جو باوجود کوشش کہ راقم نہ کر سکا ۔۔۔ وہ بھی یاد آ گیا۔

وہ کام کیا تھا۔۔۔۔۔؟؟؟؟

کینیڈا سے تعلق رکھنے والے ایک معزز دوست نے راقم سے بات کی کہ آپ کی نشریاتی کمینی ہے آپ اکابر کی چند کتب کو آڈیو میں ریکارڈ کروادیں۔۔۔اور پھر دوسرے مرحلے میں بعض تفاسیر کا انہوں ذکر کیا۔۔۔۔انہوں نے بیرون دنیا میں اس کی اھمیت و ضرورت پہ تفصیل سے ذکر کیا،۔۔جس میں ان کا کہنا تھا کہ آج زندگی کی مصروفیات میں مطالعہ یا کتاب بینی تقریبا مفقود ھوچکی ہے اور پھر موبائل کے زیادہ استعمال سے دینی معلومات کا حصول یا جستجو بھی ختم ھوتا جارھا ہے،ان حالات میں صوتی یعنی آڈیو کی صورت میں ھونے سے اپنے وقت کی سہولت کے پیش نظر استفادہ کیا جارھا ہے،خصوصا جو حضرات روزانہ اپنی ڈیوٹی یا ملازمت وغیرہ کیلئے بذریعہ کار آتے اور جاتے ہیں وہ دوران سفر اس سہولت سے بہت فائدہ اٹھالیتے ہیں اور پھر اللہ نے فطری طور پہ اپنے دین میں جو کشش رکھی وہ آڈیو اس کشش کے حصول کا ایک بڑا ذریعہ ہے ان کا کہنا یہ بھی تھا کہ ھمارے مسلمان بھائیوں اور مسلم گھرانوں کو دین کی تفہیم کیلئے اس رجحان میں اضافہ ھوا ہے۔۔۔۔دوسری اھم بات اس میں انہوں نے یہ بھی بتائی کہ ھماری مستند کتب وتفاسیر کے صوتی مواد نہ ھونے کی وجہ سے کئی غیر مستند تصنیفی مواد میں لوگوں کی دلچسبی زیادہ ھورھی ہے۔۔۔جس سے ھمارے مسلمان بھائی اور گھرانوں میں تجددپسندانہ افکار بھی تیزی سے پروان چڑھ رھے ہیں۔۔۔مجھے یاد ہے کہ انہوں نے اس وقت مجھے ایسے بعض حضرات کی چند چیزیں دیکھائیں اور کچھ کلپ بھی سنوائے ۔

مذید پڑھیں :سیاسی بھرتی ہونے والے FIA کے 53 افسران نوکری سے فارغ

اپنے مذکورہ دوست کی مخلصانہ دینی فکر پہ مستقل کام کرنے کا ارادہ کرلیا تھا اور مشورہ کے بعد اھم نوعیت بعض دینی ضروری کتب اور تفسیر کا بھی تعین کر لیا تھا لیکن اچانک راقم پہ جان لیوا حادثہ رونما ھوگیا۔۔۔جس کی وجہ سے تقریبا زندگی کے دوسال مکمل صاحب فراش ھونے اور کئی امراض و عوارض کی بناء پہ وہ کام ایک خواب کی مانند رہ گیا۔۔۔۔کیونکہ مکمل صحت یابی کے حصول کیلئے مستقل علاج کا سلسلہ ھنوز بھی جاری ہے ۔۔۔ اور پھر دیگر کئی ضروری امور کی ایسی مصروفیات بھی شروع ہوگئیں کہ کوششوں کے باوجود بھی کئی خواھشوں کی تکمیل میں کامیابی حاصل نہ ھو سکی۔

اب چند برسوں بعد برادر عزیز مولانا عمر انور سلمہ اللہ نے اردو کی جن دو موقر ومعتبر تفاسیر کو یکجا کر کے تسہیل کا جو کارنامہ انجام دیا اس میں ایک قدم مزید آگے کی طرف لے جاتے ہوئے میرے اس خواب کو حقیقت کی تعبیر دیتے ہوئے بہترین اسلوب اور قرینہ سے اپنی آواز میں ریکارڈ کروانا شروع کیا۔۔۔۔اس میں کئی جدید سہولیات کا اضافہ بھی "برادرم موصوف” سلمہ اللہ نے کیا۔۔۔ "موصوف سلمہ اللہ کی تفسیری خدمت کی انجام دہی پہ راقم نے مذکورہ مضمون لکھا اور اس مضمون میں "نوجوانوں کیلئے ایک مثال مولانا عمر انور” کے عنوان کے اقتباس پہ اپنے ھی بعض "محبین” نے مبالغہ آرائی سمیت دیگر چند بے ترتیب اعتراضات پہ مبنی باتیں کیں۔۔۔اور بعض نے کہا کہ "ھم اپنے ھی لوگوں کیلئے محبت کا ایسا اظہار کریں تو یہ مناسب نہیں”۔

اس طرح بے ربط اور بے ترتیب باتوں کی وجہ سے "ان” سے کچھ تناؤ کی کیفیت بھی رھی۔۔۔۔کیونکہ جو باتیں اس قسم کے حضرات کررھے تھے وہ سمجھ سے آج تک باھر ہیں۔۔۔کیونکہ وہ باتیں حسد یا بغض میں بھی نہیں کررھے تھے۔۔۔بس اس خوف سے کہ "لوگ کیا کہیں گے” کے عمومی طرز والے انداز سے راقم باتیں کیں۔۔۔اب ان باتوں کا ایک نہیں بلکہ کئی جواب ان کو دئیے۔۔۔۔کہ حضور کیا اپنوں کی حوصلہ افزائی کے بجائے حوصلہ شکنی کی جائے۔۔۔؟؟ یا ھمارے ایک پیارے اور محبوب بھائی نے ایک کارنامہ انجام دیا ہے ھم اس کا اظہار اس لئے نہ کریں کہ "لوگ کیا کہیں گے”

کیا مضامین میں تعریف کے بجائے بلاوجہ تنقید یا منفی ذھن سے ھی لکھا جائے۔۔۔۔؟؟؟

اور حیرت کی بات تو یہ کہ بعض "مرحومین” جو سالوں دین کی بے لوث اور مخلصانہ خدمت انجام دیتے دیتے دنیا سے چلے گئے ان کی اچھائیوں کو لکھنا بھی "ان” کو پسند نہ آیا۔۔۔۔۔اور اکثر اس نوعیت کی تحریروں میں بھی ایسے کیڑے نکالے گئے جیسے کوئی بہت ھی غلط کام کردیا گیا ھو۔۔۔۔اب اس سوچ اور انداز فکر پہ کیا کہوں اور کیا لکھوں۔

مذید پڑھیں :قادر خان مندوخیل کا PTI سے PPP تک کا سفر

یہ باتیں یہاں یوں یاد آ گئیں کہ اپنے محبوب دوست اور پیارے بھائی "عمر انور” سلمہ اللہ کے بارے میں اس مضمون پہ ھی اس طرح عجیب اور نہ سمجھنے آنے والے اعتراضات کئے گئے تھے۔۔۔۔ان معترضین میں بعض کا تو مسئلہ حسد و بغض کی صورت میں واضح تھا۔۔۔۔لیکن افسوس تو ان کی باتوں کا ھوا جن کے بارے میں راقم کا ماننا ہے کہ "ان” کو یقینا بغض ،حسد یا کینہ نہیں۔۔۔۔بس صرف ایک خوف۔۔۔۔ "لوگ کیا کہیں گے”
چلیں۔۔۔۔ اب اس بات کو یہیں ختم کرتے ہوئے اپنے موضوع پہ آتے ہیں۔۔۔۔اور اس عنوان پہ پھر کبھی قلمی خون جگر جلائیں گے۔۔۔۔

اس تفسیری ذوق میں برادرم موصوف مولانا "عمر انور” سلمہ اللہ نے ایک قدم آگے کی جانب بڑھاتے ہوئے صوتی خدمت بھی انجام دینا شروع کر دی ۔

اس حوالہ سے چند باتیں۔۔۔۔۔

1) اس کام کی ابتداء "برادرم موصوف” سلمہ اللہ نے آخری سورتوں سے کی، تاکہ وقت کے ساتھ ساتھ بڑی سورتوں کیلئے ھمت کم نہ پڑے۔۔یہاں یہ بات پیش نظر رھے کہ یہ آسان کام نہیں بلکہ اس کی تکمیل میں مہینوں لگیں گے۔۔۔۔برادرم موصوف سلمہ اللہ اس کام کو دیگر لوگوں میں تقسیم کر کے بھی کرسکتے تھے لیکن انہوں نے اپنی کئی دینی و علمی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ اس عظیم خدمت کی سعادت کے حصول کیلئے خود ھی کوشش شروع کی ہے۔۔۔اللہ تعالی ان کو اپنی شان کے مطابق اجر عطاء فرمائے۔۔۔۔آمین

2) یہ تفسیر اور ترجمہ کوئی جدید نہیں بلکہ وہی شہرہ آفاق ترجمہ وتفسیر ہے جو حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ نے بیان القرآن کے نام سے لکھی اور اردو کی مایہ ناز تفسیر "معارف القرآن” میں فقیہ وقت مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ نے "خلاصہ تفسیر” کے عنوان سے اپنی تفسیر میں مکمل شامل بھی کیا ۔۔۔یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ "بیان القرآن” الحمدللہ مکمل اس صوتی مجموعہ میں شامل ہے۔۔۔۔ احباب جانتے ہیں کہ ھمارے "برادرم مولانا عمر انور سلمہ اللہ” کی "والدہ رحمہااللہ” حضرت مفتی محمد شفیع عثمانی رحمہ اللہ کی "نواسی” تھیں۔۔۔اس لئے اپنی نسبی و روحانی دونوں نسبتوں کو اس کاوش میں جمع کیا جو راقم کے نزدیک ایک حسیں امتزاج بھی ہے۔۔۔۔۔اللہ تعالی اس عالی خدمت کو ان کی والدہ ماجدہ رحمہااللہ اور خاندان کے دیگر افراد سمیت تمام مشائخ کیلئے صدقہ جاریہ کے طور پہ قبول و منظور فرمائیں ۔۔۔آمین

3) اس صوتی مجموعہ میں بعض جگہ مختصر ضروری تسہیل اور وضاحت کیلئے”معارف القرآن” کے حصہ "معارف ومسائل” سے بھی حسب ضرورت مدد لی گئی ہے۔۔۔۔

مذید پڑھیں :پاکستان کے نامور ٹریڈ یونین رہنما شفیق غوری کا انٹرویو

4) یہ صوتی مجموعہ اھل علم و عوام الناس کیلئے یکساں مفید ہے۔۔علماء ومدریسن،آئمہ وخطباء جو درس قرآن کے مفید سلسلہ سے منسلک ہیں ان کو تمام تفسیری نکات کا انشراح ھونا یقینی ھوگا۔۔۔۔جبکہ عوام کیلئے آسان ترین انداز میں تفہیم کا بہترین مجموعہ ہے۔۔۔۔

5) سورتوں اور آیتوں میں باھم ربط کی ترتیب جس طرح بیان القرآن میں ہے اسی طرح یہاں بھی قرآن کریم کے نظم وربط کو "مولانا موصوف” نے اپنی آواز میں ریکارڈ کروایا ہے۔۔۔۔ تاکہ آیتوں کے درمیان ربط کے ساتھ ساتھ مکمل سورت کا خلاصہ ماقبل ومابعد کا سننے والے کے تسلسل کو برقرار رکھنے کیلئے مفید ومعین ھو۔۔۔۔

6) پاکستان سمیت دنیا بھر میں اردو زبان سے واقفیت رکھنے والے مسلمانوں کیلئے ایک گرانقدر تحفہ ہے،جو سوشل میڈیا کے تمام ضروری ذرائع پہ آسانی سے حاصل کر کے محفوظ بھی کیا جاسکتا ہے اور جدید سہولت کے مطابق "آن لائن” سوشل میڈیا کے لنکس کے ذریعہ سنا جاسکتا ہے۔۔۔۔ احباب بھی اس کو صدقہ جاریہ کے طور پہ دیگر دوستوں اور مسلم گھرانوں تک پہنچانے کیلئے کوشش کریں۔۔۔۔تاکہ رب تعالی کے پاک کلام کی تمام خیر و براکات کا باسعادت حصول سب کے حق میں مقدر ھو۔۔۔۔

7) آخری پارہ کی اکثر سورتوں کے ساتھ سورہ یسین،سورہ مزمل اور سورہ الملک الحمدللہ مکمل ھوچکی ہیں۔۔۔سورہ کہف کے چار حصے آچکے ہیں، آخری عنقریب آجاے گا۔۔۔ان شاءاللہ جلد ہی یہ ممتاز اور قابل رشک کارنامہ اپنے اختتام کو پہنچے گا۔۔۔

رمضان اور قرآن لازم و ملزوم ہیں۔۔۔اس مناسبت سے تکوینی طور پہ اس قرآن وتفسیری خدمت کا احیاء اس ماہ میں ھونا بھی خیر ھی خیر کا باعث ہے۔۔۔۔

احباب رمضان المبارک کے ان باسعادت وقبولیت کے لمحات میں پاک پروردگار کے پاک کلام کی نسبت سے ھمارے محبوب برادرم "عمر انور” سلمہ اللہ کیلئے جہاں خصوصی دعا فرمائیں وہیں اس مبارک کام کی جلد تکمیل کیلئے بھی اھتمام سے دعاء کی درخواست ہے۔۔۔۔

اس صوتی مجموعہ کے لنکس یہاں فیس بک کے کمنٹ میں دیدیں گے تاکہ ساتھی بآسانی خود بھی استفادہ کرسکیں اور دیگر احباب کو بھی متوجہ کرتے ہوئے اس دینی وعلمی ترویج کا حصہ بنیں۔۔۔جزاکم اللہ

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *