پاکستان کے نامور ٹریڈ یونین رہنما شفیق غوری کا انٹرویو

شفیق غوری نامور ٹریڈ یونین رہنماء، ماہر مزدور قوانین اور ریسورس پرسن ملک کے موقر علمی و تربیتی اداروں اور معاشرہ میں مزدور قوانین سے آگہی کی شمع روشن کئے ہوئے ہیں!

انٹرویو : اسرار ایوبی

سابق افسر تعلقات عامہ

ہم میں سے اکثر نے محنت کشوں کے مختلف پروگراموں میں ایک دھان پان سی لیکن گرجدار آواز کی مالک شخصیت کو مزدور قوانین کے موضوع پر فکر انگیز خطاب کرتے ہوئے دیکھا ہو گا ۔ جو اپنے نحیف جسم کے باوجود نہایت پرجوش انداز اور درد مندی سے حاضرین محفل کے سامنے وطن عزیز میں محنت کشوں کی فلاح و بہبود کے لئے تشکیل دیئے ہوئے قوانین پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے حکومت اور آجران کی جانب سے ان مزدور دوست قوانین پر عمل درآمد نہ ہونے کا گلہ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔آپ اپنی تقریروں اور لیکچروں میں بار بار شرکاء محفل، ٹریڈ یونین رہنماؤں اور محنت کشوں کو ملک کے مزدور قوانین اوران کے مقرر کردہ حقوق سے آگہی اور واقفیت کی تلقین کرتے نظر آتے ہیں۔شہر کراچی کی اس دردمند اورمزدور دوست شخصیت کا نام محمد شفیق غوری ہے،جو محنت کشوں کے حلقوں میں شفیق غوری کے نام سے مشہور ہیں۔ دیکھا جائے تو شفیق غوری کی شخصیت کی کئی جہتیں نظر آتی ہیں،جو انہیں دیگر مزدور رہنماؤں سے ممتاز کرتی ہے۔ان کی ذات میں ایک تجربہ کارٹریڈ یونین رہنماء، ماہر مزدور قوانین اورموثر ریسورس پرسن پنہاں ہیں ۔

شفیق غوری کے آباء واجداد کا تعلق کوٹہ راجھستان سے تھا اور آپ نے ماہ دسمبر 1953ء میں کراچی میں جنم لیا۔ پاکستان چوک کے ایک پرائمری اسکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد کراچی کے قدیم تعلیمی ادارہ سندھ مدرسۃ الاسلام سے میٹرک، ایس ایم کالج سے انٹرمیڈیٹ اور گورنمنٹ پریمیئر کالج ناظم آباد سے بی کام کا امتحان پاس کیا۔پریمیئر کالج میں اس دور کے ایک ممتاز مقرر وہاب صدیقی اور اسد اقبال بٹ ان کے ہم جماعت اور گہرے دوست تھے۔

تعلیم مکمل کرنے کے بعد آپ نے 1972 میں ذریعہ معاش کے لئے کراچی شپ یارڈ اینڈ انجینئرنگ ورکس کراچی میں اکاؤنٹس اسسٹنٹ کی حیثیت سے ملازمت اختیار کرلی۔چونکہ آپ دوران تعلیم طلبہ سیاست میں کافی سرگرم کردار ادا کر چکے تھے۔ لہذاء اپنے اسی سماجی خدمت کے مزاج کے باعث جہاز سازی کے اس عظیم ادارہ میں ملازمت کے دوران ملازمین کے مسائل کے حل کے لئے کوشاں رہے اور ان کی خدمت کے لئے ادارہ کی ٹریڈ یونین میں شمولیت کی راہ اپنائی۔ اس دور میں کراچی شپ یارڈ میں مقبول و معروف خاتون مزدور رہنماء محترمہ کنیز فاطمہ کی کراچی شپ یارڈ ورک مین یونین کا طوطی بولتا تھا اور معروف مزدور رہنماء سلیم رضا اس یونین کے قانونی مشیر تھے ۔

اسی دوران 1977ء میں ملک میں ذوالفقار علی بھٹو کی عوامی حکومت کا تختہ پلٹ کر مارشل لاء نافذ کردیا گیا تھا۔جس کے نتیجہ میں ملک میں اظہار رائے کی آزادی، جمہوریت اور ٹریڈ یونین تحریک کا گلا گھونٹ دیا گیا تھا۔ لیکن اس پرآشوب دور میں بھی ورک مین یونین کی جانب سے کراچی شپ یارڈ محنت کشوں کے دیرینہ مسائل اور حقوق کے لئے صدائے احتجاج بلند کرنے کا سلسلہ جاری رہا اور یہاں تک کہ اس مقصد کے لئے ایک کامیاب ہڑتال بھی کی گئی تھی۔جس کی پاداش میں 1979 میں شفیق غوری سمیت شپ یارڈ کے متعدد ملازمین کو اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھونا پڑ گئے تھے۔

لیکن اپنی ملازمت کھونے کے باوجودپر آپ نے اپنے عظیم مقصد کے حصول کے لئے ہار نہ مانی اور اپنی برطرفی کو لیبر ٹریبونل میں چیلنج کردیا تھا ۔ اس قانونی جدوجہد کے نتیجہ میں لیبر ٹریبونل نے آپ اور آپ کے دیگر برطرف ساتھیوں کو ملازمتوں پر بحال کرنے کا فیصلہ صادر کیا تھا۔ جس کے بعد آپ نے مزید کچھ عرصہ تک کراچی شپ یارڈ میں ملازمت جاری رکھی اور پھر 1980ء میں شپ یارڈ کی ملازمت ترک کرکے فولاد سازی کے عظیم کارخانہ پاکستان اسٹیل میں شمولیت اختیار کر لی۔ یہاں بھی آپ نے اس عظیم ادارہ میں خدمات انجام دینے والے ہزاروں محنت کشوں کے حقوق کی پاسداری کے لئے ٹریڈ یونین سرگرمیوں کا سلسلہ جاری رکھا اور اس جدوجہد کے نتیجہ میں آپ نے چند ہم خیال ساتھیوں کے ساتھ مل کر پیپلز ورکرز یونین کی داغ بیل ڈالنے میں اپنا سرگرم کردار ادا کیا۔

مذید پڑھیں :واٹر بورڈ : راشد صدیقی کیخلاف NAB تحقیقات شروع

بعد ازاں یہ یونین اسٹیل مل میں سی بی اے کا درجہ اختیار کرگئی اور آپ 1989-90 کے دوران پیپلز ورکرز یونین (سی بی اے) کے صدر کے عہدہ پر بھی فائز رہے ۔ آپ 2009ء تک پاکستان اسٹیل مل کے شعبہ ترقی انسانی وسائل سے منسلک رہے اور اس دوران آپ نے ادارہ کے ملازمین کے لئے مزدور قوانین سے واقفیت و آگہی اورپیشہ ورانہ مہارت میں اضافہ کے لئے مختلف تربیتی کورسوں مجموعہ مزدور قوانین، صنعتی تعلقات ، انتظامیہ اور کام کی جگہ صحت و حفاظت کے موضوعات پر کامیاب تربیتی کورسوں کا انعقاد کیا۔ شفیق غوری 2009ء میں پاکستان اسٹیل سے اسسٹنٹ منیجر کی حیثیت سے سبکدوش ہوئے تھے۔اس لحاظ سے آپ ای او بی آئی کے پنشن یافتہ بھی ہیں۔

سال 2000ء میں سلیم رضا کے اس جہان فانی سے کوچ کے بعد دیگر ساتھیوں کے درمیان کچھ اصولی اختلافات کے باعث کراچی میں نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن(NTUF) کی بنیاد ڈالی گئی ۔ آپ اس فیڈریشن کے تاسیسی رکن تھے۔لیکن بعد ازاں حالات نے پلٹا کھایا اوربعض ساتھیوں سے ذہنی آہنگی نہ ہونے اور مزدور مقاصد کے بجائے ذاتی مفادات کا مظاہرہ سامنے آنے کے باعث آپ نے اس فیڈریشن سے علیحدگی اختیار کرلی اور پھر سال 2012ء میں چند قریبی رفقاء کے تعاون سے ایک نئی مزدور تنظیم سندھ لیبر فیڈریشن (SLF) تشکیل دی۔ جس کا مقصد شہر کے مختلف صنعتی علاقوں میں ٹریڈ یونین کی تنظیم سازی کے ذریعہ محنت کشوں کو مزدور قوانین، صنعتی تعلقات، ان کے دستوری اور بنیادی حقوق سے آگہی فراہم کرنا، دوران آزمائش انہیں قانونی امداد کرنا اور ان کے منشور مطالبات تیار کرنا شامل ہے۔

شفیق غوری کو ابتداء ہی سے انسانی حقوق اور ملک کے محروم اور کچلے ہوئے محنت کش طبقہ کے لئے دستوری اور بنیادی حقوق اور مزدور قوانین سے آگہی فراہم کرنے اور ان کی پیشہ ورانہ تعلیم اور تربیت سے گہری دلچسپی رہی ہے اور اپنے اس مقصد کے حصول کے لئے آپ نے دوران ملازمت اور ٹریڈ یونین سرگرمیوں میں بھر پور مصروفیت اوربڑھتی عمر کے باوجود اس اہم شعبہ میں خود اپنے لئے اعلیٰ تعلیم اور تربیت کے حصول کا کوئی موقع ضائع نہ کیا۔ اسی مقصد کے تحت آپ نے 1990ء میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف لیبر ایڈمنسٹریشن اینڈ ٹریننگ (NILAT) کے 32ویں پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ کورس میں شرکت کی۔اسی طرح اگلے مرحلہ میں آپ نے وقت کے تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے 1995 ء میں الخیر یونیورسٹی سے ترقی انسانی وسائل کے مضمون میں MBA کی ڈگری بھی حاصل کی ہے ۔

پاکستان اسٹیل کی ملازمت سے فراغت کے بعد آپ نے اپنی ذات کو ملک کے لاکھوں محنت کشوں میں انجمن سازی، ٹریڈ یونین سرگرمیوں کے فروغ،مزدورقوانین، صنعتی تعلقات،شرائط ملازمت اور کو پروان چڑھانے اور آگہی فراہم کرنے اور سرکاری و نجی شعبہ کے انتظامی افسران کے لئے مزدور قوانین اور صنعتی تعلقات کے موضوع پر مشتمل تعلیمی و تربیتی کورسوں کے انعقادکے لئے وقف کر دیا ۔

اس مقصد کے حصول کے لئے آپ ایک عرصہ سے ملک کے قومی سطح کے موقر تعلیمی و تربیتی اداروں این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کراچی کے ذیلی تعلیمی و تربیتی ادارہ کنٹینیوس سنٹر فار ایمرجنگ ایجوکیشن (CCEE) سمیت،جامعہ کراچی(شام کی کلاسوں)، پریسٹن یونیورسٹی، نیوپورٹ یونیورسٹی، نیلاٹ اورپاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیبر ایجوکیشن اینڈ ریسرچ (PILER) میں وزٹنگ لیکچرار اور ریسورس پرسن کی حیثیت سے کارپوریٹ سیکٹر، صنعتی، کاروباری اور دیگر اداروں کے انتظامی اور ترقی انسانی وسائل کے شعبہ سے تعلق رکھنے والے مڈل منجمنٹ کے افسران اور طلبہ کو پاکستان کے مزدور قوانین، صنعتی تعلقات ایکٹ 2012ء، فیکٹری ایکٹ، شرائط ملازمت،ترقی انسانی وسائل، پیشہ ورانہ مہارت،عالمی تجارتی اور کاروباری معاہدوں (GPS Plus) کے موضوعات پر مبنی پر 8 ہفتوں پر مشتمل سر ٹیفکیٹ کورس کا انعقاد کراتے ہیں۔

مذید پڑھیں :قادر خان مندوخیل کا PTI سے PPP تک کا سفر

اس مقصد کے لئے آپ نے ملک میں رائج قوانین محنت،صنعتی تعلقات اور ترقی انسانی وسائل کے موضوعات پر اپنے وسیع مطالعہ اور گہری تحقیق اور وقت کے تقاضوں کے عین مطابق ایک معیاری نصاب مرتب کیا ہوا ہے۔ان موقر اداروں میں اپنے لیکچر کے دوران آپ ملٹی میڈیا پر سلائڈز کے ذریعہ موثر اور دلنشین انداز میں پریزنٹیشن دیتے ہیں۔ اسی طرح آپ انٹر نیشنل یونین آف فوڈ (IUF) کے زیراہتمام ہوٹل اور ریسٹورنٹ کی صنعت سے وابستہ محنت کشوں کے لئے ہوٹل منجمنٹ،فوڈ،بیوریجز،مزدور قونین و صنعتی تعلقات کے موضوع پر لیکچر بھی دیتے ہیں۔

آپ سال 2005ء سے ملک بھر کے محنت کشوں میں مقبول صفحہ محنت کش روزنامہ جسارت کراچی میں مزدور قوانین اور محنت کشوں کو درپیش مسائل کو اجاگر کرنے اور ان قوانین پر عمل درآمدکے لئے معلوماتی مضامین بھی تحریر کرتے ہیں۔یہ کہنا بیجا نہ ہو گا کہ شفیق غوری اس پیرانہ سالی میں بھی بڑے عزم اور سچے جذبہ کے ساتھ معاشرہ اور محنت کش طبقہ کے علاوہ ملک کے نامور اور موقر علمی و تربیتی اداروں کے ذریعہ لاکھوں افراد پر مشتمل ملک کے محنت کش طبقہ میں مزدور قوانین،صنعتی تعلقات اور فروغ انسانی وسائل کی شمع روشن کرنے میں کوشاں ہیں۔دیکھا جائے توشفیق غوری ملک کی ٹریڈ یونین تحریک کی جیتی جاگتی تاریخ ہیں اور ملک کے مزدور قوانین پر اتھارٹی کا درجہ رکھتے ہیں۔

شفیق غوری شعبہ محنت میں اپنے چار دہائیوں کے وسیع تجربہ اور گہرے مطالعہ کی بنیاد پر حکومت سندھ کی جانب سے قائم کردہ سندھ سہ فریقی لیبر اسٹینڈنگ کمیٹی کے رکن بھی ہیں اور اپنی اس حیثیت میں حکومت سندھ کو مزدور قوانین میں مزیدبہتری پیدا کرنے،عملدر آمد اور ان میں مزیداصلاحات کے لئے تجاویز کی فراہمی میں کوشاں رہتے ہیں۔ شفیق غوری کو ملک کی مزدور تحریک میں ایک نمایاں اور معتبر مقام حاصل ہے اور شعبہ محنت میں اپنی نمایاں خدمات اوروسیع تجربہ کی بدولت آپ کو دو بار بیرون ملک دوروں کا بھی موقع میسر آیا۔اس مقصد کے تحت آپ نے سال 2013ء میں سارک کانفرنس کے موقعہ کھٹمنڈو (نیپال) اور سال 2015 ء میں یورپی یونین کے زیراہتمامGSP Plus منصوبہ کے تحت جرمنی اور بلجیئم کا ایک ہفتے کا مطالعاتی دورہ کیا تھا۔ شفیق غوری مزدور تحریک میں اپنے طویل تجربہ اور صلاحیتوں کی بنیاد پر محنت کشوں اور ٹریڈیونین رہنماؤں کو تادیبی کارروائیوں کے دوران رضاکارانہ طور پر شوکاز نوٹس، چارج شیٹ کے جوابات کے علاوہ مختلف معاملات میں لیگل کیسز بھی تیار کرکے دیتے ہیں۔

اگر شفیق غوری کی ذاتی زندگی پر نظر ڈالی جائے تو انہوں نے بتایا کہ وہ 1989ء میں رشتہ ازداج میں منسلک ہوئے تھے اورالحمد للہ! اللہ تعالیٰ نے آپ کو دو صاحبزادوں سے نوازا ہے۔ بڑے صاحبزادہ MBA کے بعد ملازمت کر رہے ہیں جبکہ دوسرے صاحبزادہ ابھی ایم اے اکنامکس میں زیر تعلیم ہیں۔ 68 سالہ شفیق غوری کی مجموعی صحت اگرچہ قابل رشک ہے اور وہ اللہ کے فضل وکرم سے رائج الوقت مختلف امراض ذیابیطیس، فشار خون اور قلب سے تو محفوط رہے ہیں ۔ لیکن کافی عرصہ سے ان کی دائیں آنکھ میں تکلیف رہتی ہے اور کافی علاج و معالجہ کے بعد اب باقاعدہ ادویات کے سہارے چل رہی ہے اوردوسرے کچھ عرصہ سے ان کی کمر کے نچلے حصہ میں کچھ تکلیف رہتی ہے جس کے باعث وہ سیڑھیاں چڑھنے میں احتیاط کرتے ہیں ۔

مذید پڑھیں :کراچی : EFP کا یومِ مزدور پر 200 سالہ ٹریڈ یونین کی سرگرمیوں کو خراجِ تحسین

لیکن اس پیرانہ سالی کے باوجود شفیق غوری کا ملک کے محنت کش طبقہ کی فلاح و بہبود اور ملک کی صنعتوں، کاروباری، صنعتی اور دیگر اداروں میں مزدور قوانین،صنعتی تعلقات اور ترقی انسانی وسائل کے فروغ اور ان پرعملدرآمد کرانے کے لئے تمناء اور جدوجہد کا جذبہ اب بھی بھرپور اور توانا ہے ۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ کراچی شہر میں منعقد ہونے والے محنت کشوں کے تقریبا تمام پروگراموں اور سرکاری اجلاسوں میں نا صرف بڑے ذوق و شوق سے شرکت کرتے ہیں بلکہ ان کی جانب سے نہایت پابندی کے ساتھ شہر کے مختلف تعلیمی و تربیتی اداروں میں مزدور قوانین کے موضوع پرلیکچر دینے کا سلسلہ بھی جاری و ساری ہے۔اس مقصد کے حصول کے لئے آپ اپنی آمدورفت کے لئے اوبر کی سواری استعمال کرتے ہیں۔ کووڈ19 کی وباء اور لاک ڈاؤن کے دوران آپ نے اپنا بیشتر وقت اپنے گھر میں گزارا اور اس دوران بازار فیصل کریم آباد، کراچی کی دوسری منزل پر قائم ان کی تنظیم سندھ لیبر فیڈریشن کے دفتر کی سرگرمیاں بھی معطل رہی ہیں۔

شفیق غوری ٹریڈیونین تحریک میں معروف اور تجربہ کار مزدور رہنماء سلیم رضا (مرحوم)کو اپنے گرو کا درجہ دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ آپ ملک میں مزدور تحریک کی قد آور شخصیات نبی احمد،پروفیسر محمد شفیع ملک اور ایس پی لودھی(سعید پاشا لودھی) کی ملک کے محنت کشوں اور مزدور تحریک کے لئے ان کی طویل اور گرانقدر خدمات سے بھی متاثر ہیں۔شفیق غوری کا کہنا ہے ملک میں ٹریڈ یونین تحریک کے مستقبل اور بقاء کے لئے محنت کش طبقہ کو تمام اختلافات بالائے طاق رکھتے ہوئے یکجا اور متحد ہوکر مزید جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے۔ حکومت اور آجر برادری کو بھی یہ ذہن نشین کرنا ہو گا کہ دنیا کے دیگر ترقی یافتہ ممالک کی طرز پر اس مملکت خداداد میں بھی میں پائیدار صنعتی امن اور مستحکم پیداواری عمل کے لئے ملک کے تمام صنعتی،پیداواری،کاروباری،تجارتی اور دیگر اداروں میں محنت کشوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ اور اجتماعی سودا کاری کے لئے مثبت ٹریڈ یونین سرگرمیوں کا وجود ایک بنیادی ضرورت ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *