تبلیغی اجتماع کا پہلا مرحلہ 3 کو ختم دوسرا 7 نومبر کو شروع ہو گا .

تحریر : مولانا مجیب الرحمن انقلابی

رائونڈ میں منعقد ہونے والا عالمی اجتماع جس میں پوری دنیا سے لاکھوں مسلمان شرکت کر رہے ہیں اس کاپہلا سیشن 31 اکتوبر جمعرات کی شام سے شروع ہو چکا ہے اوریہ پہلے مرحلے میں 3 نومبر بروز اتوار اجتماعی دُعا کے ساتھ اختتام پذیر ہوگا۔ تبلغی اجتماع کا دوسرا سیشن 07 نومبر جمعرات کی شام سے 10 نومبربروز اتوارتک ہوگا اوریہ سیشن بھی اجتماعی دعا کے ساتھ اختتام پذیر ہوگا۔اس عالمی اجتماع میں پاکستان سمیت پوری دنیا سے لاکھوں مسلمان شرکت کر رہے ہیں ۔آج جس تبلیغی تحریک کی سارے عالم میں صدائے باز گشت ہے اس کے بانی حضرت مولانا محمد الیاس ؒ ہیںجن کے مجاہدوں، ریاضتوں اور روحانیت واخلاص سے اس تحریک کی ابتداء ہوئی۔

زبان پر ذکر الٰہی ، آنکھوں میں شب بیداری کے آثار، پیشانیوں پر سجدوں کے نشان، کاندھوں پر بستر، ایک ہاتھ میں ضروری سامان اور دوسرے ہاتھ میں تسبیح لیے بے شمار قافلے اپنے مخصوص انداز اور ترتیب سے آج پوری دنیا میں ملک ملک شہر شہر، نگرنگر اور قریہ قریہ اپنے قدموں کو دینِ اسلام کی ترویج و اشاعت کیلئے اللہ کے راستہ میں بڑی دلسوزی کے ساتھ سفرکرتے لوگوں کے دروازے پردستک دیتے ہیں، ان قافلوں کو عرف عام میں ’’تبلیغی جماعت‘‘ کہا جاتا ہے چوبیس گھنٹوں میں کوئی ایسا وقت اور لمحہ نہیں گزرتا جس میں تبلیغی جماعت کی نقل وحرکت پوری دنیا میں کہیں نہ کہیں جا ری نہ ہو۔

بانی تبلیغی جماعت حضرت مولانا محمد الیاس کاندھلویؒ کا گھرانہ ان خوش قسمت خاندانوں میں سے ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے مقبولیت و محبوبیت سے خوب نوازا تھا۔اس خاندان میں علماء وفضلائ، اہل کمال، مقبولین اور اللہ والے لوگ پیدا ہوتے رہے ہیں۔ جہاں اس خاندان کے مردوں میں جذبہ جہاد، تقویٰ ونیکی، دین کی اشاعت و ترویج کا عام رواج تھا وہاں ان کی عورتیں بھی دینداری، عبادت گزاری، شب بیداری اور ذکر و تلاوت میں پیچھے نہ تھیں۔

آپ کے والد مولانا محمد اسماعیلؒ ولی کامل اور والدہ محترمہ بھی ’’رابعہ سیرت‘‘ خاتون تھیں جنہو ں نے آپ کی پرورش و تربیت میں کوئی کمی نہ چھوڑی، چھوٹی عمر میں ہی قرآن مجید اور دینی علوم کی تعلیم احسن طریقہ سے امتیازی شان اور نمایاں اندازمیں مکمل کر لی تھی، نیکی و تقوی کی صفات بچپن میں ہی آپ کے اندر نمایاں اور خاندان میں آپ کی شہرت ولی کامل کی تھی ۔آپ نے جہاں شیخ الہند مولانا محمود الحسن جیسے مجاہد عالم دین سے علم حاصل کیا وہاں دوسری طرف آپ نے اپنے وقت کے قطب الاقطاب حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ کے ہاتھ پر بیعت کرکے تصوف و سلوک کی منازل طے کیں۔

بانی تبلیغی جماعت حضرت مولانا محمد الیاسؒ نے جب اپنے گردوپیش کا جائز ہ لیا تو ہر طرف دین سے دوری عقائد کی خرابی اور اعمال و عقائد کا بگاڑ دیکھا کہ لوگ شرک و بدعت، جہالت اورر ضلالت و گمراہی کے ’’بحرظلمات‘‘ میں ڈوبے ہوئے ہیں تو ان کے دل پر چوٹ لگی اور وہ امت محمدیہ ؐ کی اصلاح کے سلسلہ میں متفکر و پریشان دیکھائی دینے لگے۔پہلے جو خاندان اور قصبات و علاقے اور شہر ’’رشد و ہدایت‘‘ کے مراکز سمجھے جاتے تھے ان میں بھی اس قدر تیزی کے ساتھ انحطاط و زوال ہوا کہ اب ان کی ’’مرکزیت‘‘ ختم ہوتی جارہی تھی ، اس لیے آپ یہ چاہتے تھے کہ عوام الناس میںپھر سے دینداری پیدا ہو، خواص کی طرح عوام میں بھی دین کی تڑپ اور طلب پیدا ہو، ان میں دین سیکھنے سکھانے کا شوق و جذبہ انگڑائیاں لے، اس کے لیے وہ ضروری سمجھتے تھے کہ ہر ایک دین سیکھے، کھانے، پینے اور دیگر ضروریات زندگی کی طرح دین سیکھنے اور اس پر عمل کرنے کو بھی اپنی زندگی میں شامل کریں۔طالب بن کر خود مدارس و مکاتب اور خانقاہوں میں آئیں۔ مگر ظاہر ہے کہ یہ بہت ہی محدود لوگ ہوتے ہیں اس لیے مولانا الیاس کاندھلویؒ ضروری سمجھتے تھے کہ اس ’’دعوت و تبلیغ‘‘ کے ذریعہ ایک ایک دروزاہ پر جا کر لوگوں میں دین کے ’’احیائ‘ کی طلب پیدا کرنا تھی۔ یہ کام اسی دعوت والے طریقہ سے ہوگا جو طریقہ اور راستہ انبیاء کرام علیہم السلام کاتھا ۔

حضرت مولانا محمد الیاسؒ کی دین کے لیے تڑپ و بے چینی اور درد وبے قراری دیکھنے میں نہیں آتی تھی ، بعض اوقات اسی فکر میں آپ ’’ماہی بے آب‘‘ کی طرح تڑپتے آہیں بھرتے اور فرماتے تھے میرے اللہ میں کیا کروں کچھ ہوتا ہی نہیں۔ جب بے چینی بڑھتی تو راتوں کو فکر سے اٹھ کر ٹہلنے لگتے۔ ایک رات اہلیہ محترمہؒ نے آپ سے پوچھا کہ کیا بات ہے نیند نہیں آتی؟ کئی راتوں سے میں آپ کی یہی حالت دیکھ رہی ہوں۔۔۔، جواب میں آپ نے فرمایا کہ! کیا بتلاؤں اگر تم کو وہ بات معلوم ہو جائے تو جاگنے والا ایک نہ رہے دو ہو جائیں۔ جب ایک جاننے والے نے خط کے ذریعہ آپ سے خیریت دریافت کی تو آپ نے سوز ودرد میں ڈوبے ہوئے قلم کے ساتھ جواب دیتے ہوئے تحریر فرمایا کہ ’’طبیعت میں سوائے تبلیغی درد کے اور خیریت ہے‘‘۔

اور پھر مولانا محمد الیاسؒ خود سراپا دعوت بن کر ’’دعوت و تبلیغ ‘‘ والے کام کو لے کر بڑی دلسوزی کے ساتھ دیوانہ وار ’’میوات‘‘ کے ہر علاقہ میں نکل کھڑتے ہوئے۔ جب لوگوں نے آپ کی آواز پر ’’لبیک‘‘ نہ کہا تو آپ بے چین و بے قرار ہو کر راتوں کو خدا کے حضور روتے گڑگڑاتے اور پوری امت کی اصلاح کے لیے دعا کرتے۔حضرت مولانا محمد الیاس کاندھلویؒ اپنے ایک مکتوب میں میواتی حضرات کو تحریر فرماتے ہیں کہ ’’میں اپنی قوت و ہمت کو تم میواتیوں پر خرچ کر چکا ، میرے پاس بجز اس کے کہ تم لوگوں کو قربان کردوں کوئی اور پونجی نہیں ہے۔اور پھر دنیا نے دیکھا کہ میواتی حضرات نے اپنے جان و مال اور زندگیوں کو اس کام پر قربان کر دیا۔اور وہ دعوت و تبلیغ کی فکر لے کر ملک ملک، شہر شہر دین کی خاطر پھرنے لگے۔

مولانا الیاسؒ کی احیائے اسلام کی یہ عالمگیر تحریک جسے بظاہر لوگ صرف کلمہ و نماز کی تحریک کہہ کر اس کی اہمیت کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں یہ کوئی معمولی کام اور تحریک نہیں بلکہ یہ عملی طور پر زندگی میں پورے دین کے نفاذ کی تحریک ہے۔جس کیلئے مولانا الیاسؒ نے اس کام کے طریقہ کار اور اصول وضع کر دیئے ہیں، جن پر عمل کرکے کارکنان سارا سال مصروف عمل رہتے ہیں۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *