نیب کے نام پر KMC افسران کے تبادلوں و تقرری کا انکشاف

کراچی ( رپورٹ : اسلم شاہ) بلدیہ عظمی کراچی (KMC) سمیت دیگر بلدیاتی و شہری اداروں میں قومی احتساب بیورو اور دیگر تحقیقاتی اداروں کے نام پر افسران و عملے کی تبادلے و تقرری کا انکشاف ہوا ہے، بعض افسران نے حساس اداروں کی خدمات حاصل کر رکھا ہے۔

اس بارے میں سابق سینئر ڈائریکٹر ہومین رسورسس KMC جمیل فاروقی نے تصدیق کرتے ان کا کہنا تھا موجود ایڈمنسٹریٹر کراچی لیئق احمد اور سابق ایڈمنسٹریٹر کراچی افتخار شلوانی پر شدید دباو تھا اور نیب نے بعض افسران کی تعیناتی پر دباو بڑھاتے رہے اور بعض حساس فون کال بھی موصول ہوتے رہے ہیں ۔

سابق ڈائریکٹر جمیل فاروقی کا کہنا تھا کہ حساس اداروں نے میری کلیرنس دیدی ہے اور میں جلد تعینات ہو جائے گا ۔ اس بارے میں KMC کے اکثریت افسران کو آگاہ کر چکے ہیں ۔ ان سے دریافت کیا گیا کہ ان کے دورمیں تقرری اور تبادلے کا حکم بھی ایسی طرح آتا رہا ہے سابق میئر کراچی نے عمران صدیقی کی تقرری کا حکمنامہ بھی تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی آفتاب صدیق اور بعض حساس اداروں کے فون کام پر کیا گیا تھا ۔

مزید پڑھیں: KMC کی ملکیت 113 قیمتی گاڑیوں پر کے ڈی اے کا قبضہ

گریڈ 18 کے ڈائریکٹر امتیاز ابڑو کی تقرری بھی کسی فون کال پر کی گئی ہے، اور وہ اب بھی گریڈ 19 کے عہدہ سینئر ڈائریکٹر اسٹیٹ کے عہدے پر براجمان ہے اور عدالتی حکم نامہ سے انکاری ہے، مصد ق ذرائع کا کہنا تھا کہ میرٹ، سینارٹی،اور تجربہ کار افسران کی تقرری سیاسی اور انتظامی بنیاد کے ساتھ ساتھ دیگر اداروں کا دباو کے باعث تبادلے و تقرری من پسند افسران کا کیا جا رہا ہے ۔

سابق میئر کراچی وسیم اختر کے دور میں بعض مخصوص افسران کی تبادلے اور تقرری کا عمل کی وجہ سے افسران دوحصو ں میں تقسیم ہوگئے من پسند چہیتے افسران کی موج لگ سا گیا اور دوسرے جانب افسران کو بدعنوان اور نااہل کے ساتھ کام چور قراردیتے ہوئے تعیناتی نہیں کیا گیا ہے بعض افسران دونوں ہاتھوں لوٹ مار کرنے کی مکمل آذادی مل گیا تھا ۔

KMC کے ایڈمنسٹریٹر لیئق احمد پر ہمیشہ افسران کی تقرری کرنے میں بعض حلقوں کا دباو کی تصدیق کرتے ہوئے افسران کی تمام تبادلے اور تقرری کی گئی ہے اب بھی چند افسران جونیئر ہونے کے باوجود او پی ایس کی حیثیت میں فرائض ادا نہیں کررہے ہیں KMCکے عدالتی فیصلے پر کسی قواعہ و ضابط اور قانون پر عملدآمدکا ایک مذاق بن کررہ گیا ہے ۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ ایڈمنسٹریٹر کراچی لیئق احمد کے پرسنل سیکریٹر ی محمد ظفر حسین جو عباسی شہید اسپتال میں سپرٹنڈنٹ کے فرائض ادائیگی کررہے تھے ان کا تقرری بھی فون کام کا نتیجے قرار دیا جا رہا ہے اور مستقل سیکریٹر ی کے فرائض اداکررہے تھے انصار صدیقی کو فوری طور پر عہدے سے ہٹا کر HRM میں رپورٹ کرنے کی ہدایت کردی گئی ہے ۔

مزید پڑھیں: گورنمنٹ فزیکل کالج سکھر میں 10 کے بجائے صرف 2 اساتذہ ہی تعینات

جبکہ ایڈمنسٹریٹر کراچی کے ایک افسر کا کہنا تھا کہ انصار صدیقی اور مختار بیگ کو عہدے سے سبکدوش کر دیا گیا ہے ۔ ایڈمنسٹریٹر کراچی لیئق احمد بعض افسران اور عملے سے بدگمانی پید ا ہوگئی ہے اور مذید عملے کو عہدے سے فارغ ہونے کی توقع ظاہر کیا جا رہا ہے ۔

جبکہ ایک عملے نے بتایا کہ ایڈمنسٹریٹر کراچی کے معاون خصوصی خالد خان کے ساتھ محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکشین سے گریڈ 17کے افسر محمد آصف کا سیکریٹر یٹ میں غیر اعلانیہ نگران بن گئے ایڈمنسٹریٹر کراچی بھی براراست ہدایت جاری کررہے ہیں وہ جونیئر افسر ہونے کے باوجود گریڈ 18،19، 20کے افسران کو ہدایت دے رہے ہیں اور لگتا ہے کہ KMC پر سندھ گورٹمنٹ کے افسران کا مکمل کنٹرول قائم ہو چکا ہے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *