SBCA کے کرپٹ افسران نے فیڈرل بی ایریا میں غیر قانونی تعمیرات کی اجازت دے دی .

رپورٹ : اختر شیخ

ڈائریکٹر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی گلبرگ ٹاؤن نے رہائشی پلاٹس B-23/B-24 بلاک 17 فیڈرل بی ایریا پر ہونے والی کمرشل تعمیرات کو غیر قانونی قرار دے کر کام بند کرنے اور جگہ کو سیل کرنے کا اپنا حکم واپس لے لیا ہے .

23 اکتوبر 2019 کوڈائریکٹر نے حکم نامہ 30 اکتوبر 2019 کو یہ کہہ کر واپس لے لیا ہے کہ سیل ہٹانے کی مشروط اجازت دی جارہی ہے کہ جگہ کسی غیر قانونی کام میں استعمال نہیں کی جائے گی ،اس کے بعد رہائشی پلاٹس پر تعمیراتی کام زوروشور سے جاری ہیں۔

غیر قانونی تعمیرات پر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی گلبرگ ٹاؤن نے ایکشن لیتے ہوئے مورخہ 23 اکتوبر 2019 کو فیڈرل بی ایریا بلاک 17 عقب مامجی اسپتال،رہائشی پلاٹ نمبر B-23/B-24 پر مامجی انتظامیہ کی جانب سے غیر قانونی کمرشل تعمیرات کو بزیعہ نوٹس نمبر
SBCA/DD/GBT/2019/354 انڈر سیکشن 7A ، سندھ بلڈنگ کنٹرول آرڈیننس 82-1979 پلاٹ نمبر B23/B24 پر ہونے والی تعمیرات کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے دونوں پلاٹس کو سیل کردیا تھا۔

اپنا ہی حکم نامہ مبینہ رشوت کے عوض واپس لے لیا گیا

1 نومبر بروز جمعہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے پلاٹ نمبر B-23/B-24 کو بزریعہ لیٹر SBCA/DD/GBT/2019/313/ کے ذریعے ڈی سیل کر کے اپنے پرانے لیٹر کی نفی کردی اور دونوں پلاٹس کی سیل کھول دی ، جس کے بعد مامجی انتظامیہ نے رہائشی پلاٹس پر کمرشل تعمیرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کردیا ہے ۔

سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے افسران کا جاری کرنا حکم نامہ

مامجی انتظامیہ کی جانب سے رہائشی آبادی میں کمرشل تعمیراتی کام کے خلاف اہل محلہ سراپا احتجاج بن گئے ، اس موقع پر جماعت اسلامی ضلع گلبرگ وسطی کی نائب امیر کامران سراج ، چیئرمین پبلک ایڈ کمیٹی یونین کمیٹی 27 شعیب فیاض ، سابق یوسی ناظم سجاد حیدر دارا سمیت اہل محلہ و کارکنان کی بڑی تعداد نے احتجاج کیا اور اعلی حکام سے ایس بی سی اے کا نوٹس واپس لینے اور رہائشی آبادی میں کمرشل تعمیرات کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے.

معلوم رہے کہ اس محکمے کے افسران لاکھوں روپے رشوت لیکر غیر قانونی تعمیرات کرانے میں ماہر ہیں ، نیب کی جانب سے ایسے افسران کے آمدن سے زائد اثاثوں کی تحقیقات کرنے پر ہوشربا انکشافات سامنے آئیں گے .

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *