این اے 249 ضمنی انتخاب اور ممکنہ پوزیشن !!

تجزیہ : عبد الجبار ناصر

قومی اسمبلی کا حلقہ این اے 249 بلدیہ ٹائون کراچی کی آبادی تقریباً8 لاکھ ہے اور مختلف لسانی اکائیوں کی آبادی ہے ۔ یہ حلقہ کراچی کے دو اضلاع میں آتاہے ، ضلع غربی اور ضلع کیماڑی میں ۔ موجودہ این اے 249 کے علاقے 1970ء میں این ڈبلیو 128، 1977ء میں این اے 183، 1985ء سے 1997ء تک این اے 184 اور این اے 185، 2002ء سے 2013ء تک این اے 239 اور 240 شامل رہے ہیں۔

عام انتخابات 2018ء میں تحریک انصاف کے فیصل واوڈا کامیاب قرار دئے گئے تھے اور دہری شہریت کے حوالے سے حلف نامے میں مبینہ غلط بیانی کے خلاف کیس کے بعد انہوں نے 3 مارچ 2021ء کو استعفیٰ دیا ۔ ضمنی انتخاب کے لئے پولنگ 29 اپریل 2021ء کو (آج) صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک پولنگ ہو گی ۔ 2100 سے زائد انتخابی عملہ اور 3 ہزار سے زائد سیکیورٹی اہلکار تعینات ہیں ۔ صوبائی الیکشن کمشنر اعجاز انور چوہان ، ڈسٹرکٹ یٹرننگ آفیسر سید ندیم حیدر ، ریٹرننگ آفیسر محمد سجاد خٹک اور الیکشن کمیشن کے دیگر حکام متحرک ہیں، جبکہ پورے پاکستان کے میڈیا ، سیاسی و سماجی قائدین اور عوام کی نظریں نتائج پر مرکوز ہیں۔

ضمنی انتخاب کے لئے مختلف جماعتوں اور کل امیدوار 30 ہیں ، مگر اصل مقابلہ 6 امیدواروں کے مابین متوقع ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے مفتاح اسماعیل ۔

حلقے میں ن لیگ کی پوزیشن سے 1990ء مستحکم ہے ۔ جمعیت علماء اسلام پاکستان ،عوامی نیشنل پارٹی اور ایم ایم اے میں شامل جماعتوں کی حمایت کے بعد مفتاح اسماعیل بظاہر نمبر 1 کی پوزیشن پر پہنچ چکے ہیں ، مبصرین کا کہنا ہے کہ ان حالات میں مفتاح اسماعیل کی ناکامی حیران کن ہوگی۔حلقے کے مذہبی طبقے میں کئی برسوں سے مفتاح اسماعیل کے والد کا اچھا اثر رسوخ ہے۔عام انتخابات 2018ء میں ن لیگ کے صدر میاں شہباز شریف کو 34626 اور متحدہ مجلس عمل کے سید عطااللہ شاہ کو 10307 ووٹ ملے تھے ۔ جماعت اسلامی کے سوا ایم ایم اے میں شامل باقی تمام جماعتیں مفتاح اسماعیل کی حمایت کرچکی ہیں ، جبکہ جماعت اسلامی خاموش ہے۔

تحریک انصاف کے امجد اقبال آفریدی

ملکی سطح پرپارٹی اور حلقے کی سطح پر سابق ممبر فیصل واوڈا کی مبینہ مایوس کن کارکردگی کے ساتھ ساتھ پارٹی کے اندر گروپنگ (حلقے سے تحریک انصاف کے منتخب رکن سندھ اسمبلی ملک شہزاد اعوان کی ٹکٹ کے حوالے سے شدید مخالفت کو اہم قرار دیا جارہاہے اور یہ معاملہ وزیر اعظم عمران خان تک گیا، مگر ذرائع کا کہناہے کہ کلی طور پر تنازع حل نہیں ہوا ہے)اور دیگر سنگین مسائل کا سامنا ہے ، بیشتر مبصرین کا کہنا ہے کہ دوسری پوزیشن کا حصول بھی ایک مشکل مرحلہ ہوگا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ایک مذہبی جماعت کے ساتھ حالیہ دنوں وفاقی حکومت کا رویہ بھی تحریک انصاف امیدوارکے لئے مشکلات کا باعث بن سکتاہے، تاہم اہم امیدواروں میں سے حلقے کا مقامی امیدوار ہونے کا فائدہ بھی مل سکتا ہے۔ عام انتخابات 2018ء میں تحریک انصاف کے فیصل واوڈا کو 35349 ووٹ ملے تھے ۔

مذید پڑھیں :ام رباب چانڈیو کی 21 ویں سالگرہ،سماجی تنظیموں کی جانب سے پروگرام کا انعقاد

پاک سرزمین پارٹی کے سید مصطفی کمال

پاک سرزمین پارٹی کی انتخابی مہم بہت ہی بہترین رہی ہے اور اسی کی وجہ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ سید مصطفی کمال مفتاح اسماعیل کو ٹف ٹائم دے سکتے ہیں ۔ 2018ء کے عام انتخابات میں پاک سرزمین پارٹی کو 1617 ووٹ ملے تھے اور اب اگر پاک سر زمین پارٹی کے ووٹ میں چند ہزار کا اضافہ بھی ہوتا ہے تو یہ بھی بڑی کامیابی اور آئندہ کے لئے کراچی میں پی ایس پی کے لئے مثبت ثابت ہوگا۔

حالیہ کالعدم مذہبی جماعت کے مولانا نزیر احمد

اس حلقے میں مذکورہ مذہبی جماعت کا ووٹ بنک اچھا خاصا ہے ، مگر اس بار یہ تقسیم نظر آرہا ہے ۔ مذکورہ مذہبی جماعت کے لئے سنی تحریک کے بانی سلیم قادری مرحوم کے فرزند بلال احمد قادری مشکلات پیدا کرسکتے ہیں اور یہ بھی کہ سابق امیدوار مفتی عابد حسین کو ٹکٹ نہ ملنے اور حکومت کے ساتھ مذاکراتی عمل سے لاتعلق رکھنے سے بھی مشکلات ہونگی ، کیونکہ مفتی عابد حسین حلقے میں کافی متحرک ہیں ، جبکہ مذہبی جماعت کے اسی حلقے سے رکن سندھ اسمبلی کی کارکردگی پر بھی لوگ سوالات اٹھا رہے ہیں۔ مجموعی طور پر مذہبی جماعت کے لئے مشکلات بھی ہوسکتی ہیں ، تاہم بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ حالیہ واقعات کی وجہ سے ہمدردی کا ووٹ بھی مل سکتا ہے۔ عام انتخابات 2018ء میں مذکورہ مذہبی جماعت کے مفتی عابد حسین کو 23981 ووٹ ملے تھے۔

مذید پڑھیں :بھارت میں کورونا بےقابو، زندگی مہنگی اور موت سستی کردی

پیپلز پارٹی کے قادرخان مندوخیل

عام انتخاب 2018ء میں قادر خان مندوخیل کو 7236 ووٹ ملے تھے اور اب پیپلزپارٹی کی کوشش ہوگی وہ اپنے ووٹ بنک میں اضافہ کرے اور اس بات کا امکان ہے کہ پیپلز پارٹی کسی حد تک اپنے مقصد میں کامیاب بھی ہوگی ،کیونکہ صوبائی حکومت ہونے کا کہیں نہ کہیں پیپلزپارٹی کے امیدوار کو فائدہ ملے گا، یوں بھی کہا جاسکتاہے کہ پیپلزپارٹی کی اصل نظر آئندہ عام اور بلدیاتی انتخابات ہیں۔

متحدہ قومی موومنت پاکستان کے حافظ مرسلین

اس حلقے میں سابق ایم کیوایم (22 اگست 2016ء سے پہلی والی)کا اچھا خاصا ووت بنک ہے ، مگر اب وہ تین حصوں میں تقسیم ہے (1) ایم کیوایم لندن ۔(2)ایم کیوایم پاکستان اور (3)پاک سرزمین پارٹی ۔ اس لئے ایم کیوایم پاکستان کے امیدوار کو بھی شدید مشکلات کا سامنا ہو گا۔ بظاہر یہی محسوس ہوتا ہے کہ ایم کیوایم لندن کے خاموش حامی خاموش رہیں گے اور اگر پاک سرزمین پارٹی کی پوزیشن بہت ہی بہتر یعنی جیت والی نظر آئی تو وہ اپنا وزن سید مصطفی کمال کے مخالف مضبوط امیدوار کے پلڑے میں ڈال سکتے ہیں ، یہ عمل کسی کی محبت میں نہیں بلکہ پاک سرزمین پارٹی کی مخالفت میں ہوگا۔ اگر یہ ووٹ منظم ہوکر مفتاح اسماعیل کے سوا کسی اور کو ملا تو مفتاح اسماعیل کے لئے مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں ۔ عام انتخاب 2018ء میں ایم کیوایم پاکستان کے امیدوار اسلم شاہ کو 13534 ووٹ ملے تھے۔

خلاصہ !

ماضی کے عام انتخابات، بلدیاتی انتخابات، حلقے کی جغرافیائی پوزیشن ، فیصل واوڈا کی کارکردگی ، انتخابی مہم اور ظاہری زمینی حالات و حقائق کو مد نظر رکھ کربات کی جائے تو اصل مقابلہ نمبر 1 کی بجائے نمبر 2 اور اس سے بعد کی پوزیشنوں کے لئے ہے، کیونکہ نمبر 1 پربیشتر مبصرین ن لیگ کے مفتاح اسماعیل کو قرار دے رہے ہیں۔ حالات سے یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ جو امیدوار اپنے حامیوں کو گھروں سے نکالنے میں کامیاب رہا وہی فائدہ اٹھاسکتا ہے ۔ یاد رہے کہ حتمی فیصلہ ووٹرز نے ہی کرنا ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *