بائیو سائنسز سوسائٹی اور انڈس اسپتال کے اشتراک سے تھیلیسیمیا آگاہی سیمینار

کراچی : پاکستان میں دنیا بھر میں سب سے زیادہ تھیلیسیمیا کے مریض موجود ہیں ، ملک بھر سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق ایک لاکھ کے قریب افراد اس موذی بیماری میں مبتلا ہیں اور ایک اور اندازے کے مطابق ملک میں تھیلیسیمیا کے حامل 9 ہزار بچے ہر سال پیدا ہوتے ہیں ۔

حالانکہ پاکستان میں دستاویزی رجسٹری دستیاب نہیں ہے اس بیماری کا شکار ہونے والے مریضوں کا تخمینہ پانچ سے سات فیصد ہے جو کل آبادی کا 9 اعشاریہ 8 ملین بنتا ہے۔ یہ بات گزشتہ روز محمد علی جناح یونیورسٹی کراچی کی بائیو سائنسز سوسائٹی اور انڈس اسپتال کے اشتراک سے تھیلیسیمیا اور خون کا عطیہ مہم سے متعلق ہونے والے آگاہی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے بتائی گئی۔

سمینارکا تھیم ایک پوائنٹ خون کا عطیہ تین انسانی جانوں کو بچا سکتا ہے تھا۔ سیمینار سے ماجوکے بائیو سائنس کے شعبے کے سربراہ ڈاکٹر خطاب گل، انڈس ہسپتال کے ڈاکٹر ولید نجم اور ما جو کی لیب انسٹرکٹر تبدیل لاریب نے خطاب کیا۔

مذید پڑھیں :ایران کو مشکل میں نہیں دیکھنا چاہتے، محمد بن سلمان

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ماہرین نے بتایا کہ پاکستان میں بلڈ سیفٹی کی خاص طور پر ہم آہنگی ہے ہے جس کی وجہ سے ٹرانسفیوژن، ٹرانسمسایبل انفیکشن خاص طور پر ہیپاٹائٹس بی اور سی اور کچھ معاملات میں یہاں تک کہ ایچ آئی ای/ایڈز جیسے تھلیمکس دائمی طور پر منتقل ہونے والوں میں بہت زیادہ ہے ۔ اس سلسلے میں میں اصل محرکات میں تیز رفتاری دستی اسکریننگ ٹس کا استعمال ہے جس کا جائزہ نہیں لیا جاتا ہے ۔ عام طور پر ان کٹا میں حساسیت نہیں ہے اور وہ کم درمیانی درجے کے انفیکشن کا پتہ لگانے سے قاصر ہیں اور اس طرح غلط منفی نتائج دکھائے جاتے ہیں ۔

ماہرین کے مطابق تھیلسمیاکا علاج اپنی تمام موروثی پیچیدگیوں کے ساتھ ہی قدامت پسندی سے کیا جاتا ہے جس کے نتیجے میں موت واقع ہوجاتی ہے، جب تک بون میر و کی پیوند کاری جیسے حتمی علاج نہ کیا جائے اس کا تحفظ نا ممکن ہے مگر یہ ہماری آبادی کے ایک بڑے طبقے کے وسائل سے بالاتر ہے ۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ اس بیماری کو روکنے اور شرح اموات کو کم کرنے کرنے کا واحد طریقہ لوگوں کو تعلیم دینا ہے، جب کہ سندھ اور بلوچستان میں تھیلسمیا سے بچاؤ کی قانون سازی بھی کی گئی ہے ۔

مذید پڑھیں :این اے 249 ضمنی انتخاب اور ممکنہ پوزیشن !!

دوسری جانب یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ پاکستان میں۔ 66 اعشاریہ 7 فیصد شادیاں متناسب ہوتی ہیں۔ ماہرین نے مزید بتایا یہ کہ عالمی سطح پر تھیلسمیا بحیرہ روم کے علاقے، مشرق وسطیٰ، ٹرا نسکا کیشیا، وسطی ایشیا ، برصغیر پاک و ہند اور جنوب مشرقی ایشیا میں آبادی کو متاثر کرنے والی اور سب سے زیادہ پھیلنے والی جینیاتی خون کی بیماری ہے ۔

ایران ، قبرض، اٹلی اور یونان سمیت متعدد ممالک میں پاکستان سے کہیں زیادہ تھیلیسیمیا کے مریض پائے جاتے تھے لیکن یہ سب ممالک اپنے معاشروں کو اس بیماری سے پاک کرنے میں کامیاب ہوگئے اور ان ممالک میں گزشتہ کئی سالوں سے تھیلیسیمیا کے کسی مریض کی موجودگی کی اطلاع نہیں ہے۔

ماجو اور انڈس اسپتال کے اشتراک سے ہونے والے تھیلسمیا آگہی اور خون کا عطیہ دینے کے پروگرام کے تحت لگائے جانے والے بلڈ کیمپ کے موقع پر خون کا عطیہ دینے والوں کی فرسٹ اسکرینگ برائے کوویڈ 19، خون کا عطیہ دینے سے قبل میڈیکل چیک اپ اور 9 بیماریوں کے بلڈ ٹیسٹ رپورٹ بغیر کسی معاوضے کے فراہم کی گئیں۔ ماجو کے اساتذہ اور طلبا کی جانب سے اس موقع پر 52 بلڈ بیگ کا عطیہ دیا گیا ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *