دیار خلافت کا سفر شوق (پچیسویں قسط)

دیار خلافت کا سفر شوق (پچیسویں قسط)
تحریر : مولانا ڈاکٹر قاسم محمود

اس کے ساتھ ہی ناشتے میں کھائے جانے کے قابل دنیا کی ہر نعمت ہال میں مخصوص جگہوں پر رکھی ہوئی تھی۔ منتظمین نے کھانے کی طرح ناشتے کا بھی بہترین انتخاب کیا تھا۔ طرح طرح کی سلادوں کے ساتھ ساتھ انواع و اقسام کے تازہ و خشک پھل فروٹ، گرم مشروب سب کچھ وافر موجود تھا۔ مولانا عبد الحسیب صاحب نے ہمیں پہلے ہی بتا دیا تھا کہ تمام احباب جلدی کریں، کیونکہ آگے ذرا طویل سفر ہے، اس لئے ہم فجر کی نماز پڑھ کر ہی اپنا سامان اٹھا کر کمروں سے نکل آئے تھے۔ سامان ہوٹل کی لابی میں رکھ کر منتظمین کی رہنمائی میں ہم ناشتے کیلئے پہنچے، جہاں یہ تمام نعمتیں دعوت طعام دے رہی تھیں۔ ہم نے ہلکا پھلکا سا ناشتہ کیا اور سامان اٹھا کر ہوٹل سے باہر آگئے۔

آج ہمیں بورصہ چھوڑنا تھا، آگے کافی لمبا سفر درپیش تھا، ہم بورصہ چھوڑ رہے تھے مگر بات وہی سردیوں کے پر لطف کمبل کی تھی کہ آپ چھوڑنا بھی چاہیں تو کمبل آپ کو چھوڑنے پر آمادہ نہ ہو، بورصہ کو ہم آج چھوڑ رہے تھے، مگر بورصہ کہاں ہمیں چھوڑ سکتا ہے، وہ تو ہماری تاریخ کا حصہ اور اب اسلام کی عظمت رفتہ کا امین یہ خوبصورت شہر ہمارے دل میں بس گیا تھا۔ باغ و بہار کا یہ سدا بہار شہر، کبھی ہمارے دل سے نہیں نکلے گا۔ اس کی رعنائی، دلربائی، مناظر کی دلفریبی اور عظیم اسلامی ورثے و ثقافت کا شکوہ کیسے بھئی کیسے دل سے نکل سکتا ہے۔ ہم نے محض اس کی تاریخ پڑھی ہوتی اور اسے کبھی دیکھا نہ ہوتا تو یقیناً وہ کیفیات ہرگز نہ ہوتیں جو آج اس شہر کو دیکھنے اور یہاں کچھ خوبصورت اور یادگار لمحات گزارنے کے بعد ہم محسوس کر رہے تھے۔ ہم سامان اٹھا کر نکلے تو پاؤں سیروں بھر بھاری ہوگئے تھے، جو اس بات کی علامت و عکاس تھیں کہ یہ شہر ہمارے دل سے نکلے گا اور نہ ہم کبھی اس کے حسن سحرناک کے جلوؤں کے حصار سے کبھی نکل پائیں گے۔

بورصہ کی ایک اور اہمیت یہ بھی ہے کہ اس شہر میں فرانس کے خلاف الجزائر کی تحریک آزادی کے عظیم مجاہد امیر عبد القادر الجزائری بھی اپنی جد و جہد کے دوران اٹھارہ سو تیس کی دہائی میں اس شہر میں جلاوطن رہے تھے۔ بہت عرصہ بعد ایران میں انقلاب سے پہلے انقلاب کے رہبر خمینی صاحب بھی اس شہر میں جلاوطنی کا کچھ عرصہ گزار چکے ہیں۔ بہر حال یہ اسلاف کی عظمتوں اور مجاہدین و خلافت اسلامیہ کی سطوت و شوکت کا امین ہے یہ شہر۔ اللہ تعالیٰ اسے ہمیشہ آباد و مامون رکھے۔

ہوٹل سے باہر آکر ہم منتظمین کی رہنمائی میں اپنی اپنی بسوں پر سوار ہوگئے۔ حسب معمول حضرت پیر طریقت مولانا مفتی محمود الحسن مسعودی صاحب دامت برکاتہم کی ادعیہ مسنونہ اور اوراد و اذکار سے ہمارے اگلے سفر کا آغاز ہوا۔

بسیں چوڑی کشادہ آرام دہ اور صاف و ہموار ہائی وے پر دوڑی چلی جا رہی تھیں۔ بھاگتے دوڑتے مناظر بورصہ شہر کو پیچھے چھوڑ رہے تھے اور ہم نظاروں سے محظوظ ہوتے ہوئے اپنی نشستوں پر براجمان حالات و مناظر پر تبصرے بھی کئے جا رہے تھے۔ بعض ساتھی اپنے معمولات میں مشغول تھے۔ کچھ موبائل کے کیمرے کی آنکھ میں مناظر کو عکس بند کر رہے تھے۔ کچھ حضرات فون پر بات چیت کر رہے تھے۔ کچھ دیر بعد بسوں نے رفتار دھیمی کر دی اور ایک مضافاتی شہر کے آثار ابھر کر سامنے آگئے۔

(جاری ہے)

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *