آزادی مارچ شرکاء کے لئے تنگی کو جواز بنا کر ڈی چوک کی جانب جائے گا .رپورٹ

آزادی مارچ کے لئے گراؤنڈ میں جگہ تنگ ہونے کو جواز بنا کر رہبر کمیٹی انتظامیہ سے پرامن رہنے کی شر ط پر ڈی چوک جائے گی، سیکٹر ایچ نائن کے گراؤنڈ میں ایک لاکھ سے زائد افراد کے بیٹھنے و سونے کا انتظام ناکافی ہے ، اسٹیج سے 10 گز کے فاصلے تک رضا کاروں کا حصارقائم رکھا جائے گا۔

اسلام آباد انتظامیہ اور رہبر کمیٹی کے مابین ہونے والے معاہدے کے مطابق آزادی مارچ کے شرکا ڈی چوک کے بجائے سیکٹر ایچ نائن کے اتوار بازار کے ساتھ گراؤنڈ میں اپنا پڑاؤ ڈالیں گے ۔ اس گراؤنڈ کا کل احاطہ 25 ایکڑہے ، اس بازار کا ایک کونہ کشمیر ہائی وے کے ساتھ جبکہ دوسرا کونہ میٹرو بس اسٹیشن اور ڈبل روڈ کے ساتھ منسلک ہے۔ رہبر کمیٹی کی جانب سے کیئے گئے معاہدے کے مطابق آزادی مارچ کے شرکا کو جلسہ کرنے اور دھرنا دینے کے لئے اتوار بازار کی جگہ دی گئی ہے .

جس میں رہبر کمیٹی اور جے یو آئی دونوں راضی ہیں تاہم اس میں اگر آزادی مارچ کے شرکا نہ سمو سکے تو اس صورت میں انتظامیہ کے لئے نیا امتحان کھڑا ہو جائے گا جس سے نمٹنے کے لئے انتظامیہ کے پاس کوئی بھی چارہ نہیں ہے سوائے آزادی مارچ کو ڈی چوک بھیجنے کے بجائے کوئی چارہ نہیں ہے۔اس حوالے سے فیصلہ کیا گیا ہے کسی بھی طور آزاری مارچ کا معاہدہ توڑنے میں پہل نہیں کرنی ہے جبکہ حکومت توڑ چکی ہے تاہم اس گراؤنڈ میں جگہ کم پڑنے کی صورت میں آزاری مارچ کو ڈی چوک منتقل کرنے کا جواز مل جائے گا.

جس کی درخواست رہبر کمیٹی انتظامیہ سے کرے گی۔معلوم رہے کہ جمعیت علمائے اسلام کے انصارالاسلام کے 30ہزار کے لگ بھگ باوردی رضا کار جلسے کے اسٹیج کے علاوہ شرکا کے آخری کونے پر موجود ہونگے جب میں سے 10ہزار کے قریب رضا کاروں کو اسٹیج سے آگے باصف ہو کر سیکورٹی پر معمور کیا جائے گا جس کی وجہ سے گراؤنڈ میں مذید کمی واقع ہو گی جبکہ ہر شخص کا بستر رکھنے اور سامان رکھنے کی وجہ سے بھی جگہ کم پڑے گی جس کی وجہ سے انتظامیہ کو متبادل جگہ دینا ہو گی۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *