پہلی بار لاکھوں کے اجتماع میں لیڈی پولیس طلب نہیں کی گئی .

اسلام آباد میں ہونے والے اب تک کے تمام احتجاجی جلسوں و مارچ میں پہلی بار لیڈی پولیس کی ذمہ داری نہیں لگائی گئی،اسلام پولیس اور ڈپٹی کمشنر حمزہ شفقات کے مطابق جمعیت علمائے اسلام کے جلسوں میں ویسے بھی خواتین کو نہیں بلایا جاتا اس لئے ہمیں ان کے جلسوں میں بھی خواتین پولیس کی ڈیوٹیوں کی ضرورت پیش نہیں آتی ہے .

تاہم اب مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتوں کی جانب سے بھی شامل ہونیو الے قافلوں میں خواتین نظر نہیں آئی ہیں جس کی وجہ سے خواتین پولیس اہلکاروں کی ڈیوٹی نہیں لگائی جائے گی۔ چونکہ مارچ صرف مردوں پر مشتمل ہے اس لیے اسلام آباد پولیس، انسداد دہشت گردی سکواڈ کے دستے، ایف سی، پنجاب پولیس اور کشمیر پولیس کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔

اس وقت اسلام آباد میں آزادی مارچ کے پیش نظر 23 ہزار پولیس اہلکار سپیشل ڈیوٹی پر موجود ہیں جس میں سے 16 ہزار اہلکاروں کی بیرونی نفری بھی شامل ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *