فلسطین فاؤنڈیشن کا رمضان کا آخری جمعہ کو یومُ القدس منانے کا مطالبہ

کراچی : فلسطین فاونڈیشن پاکستان اور انسٹیٹیوٹ آف ریسرچ اینڈ ریفارمز پاکستان کے زیر اہتمام اتوار اور پیر کی درمیانی شب کو آن لائن کانفرنس بعنوان ’’اسرائیل کے ساتھ تعلقات کا مسئلہ فلسطین اور کشمیر پر اثرات‘‘ کا انعقاد کیا گیا ۔

آن لائن کانفرنس کی صدارت پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر داخلہ اور چیئر مین آئی آر آر سینیٹر رحمان ملک نے کی ۔ کانفرنس سے معروف دفاعی تجزیہ نگار جنرل (ر) غلام مصطفی ، بلوچستان عوامی پارٹی کی رہنما اور سابق سینیٹر ستارہ ایاز ، جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر مشتاق احمد ،جمعیت علماء اسلام (ف) سے تعلق رکھنے والے سینیٹر طلحہ محمود ، پاکستان عوامی تحریک کے مرکزی رہنما خرم نواز گنڈا پور، مرکز مطالعات پاکستان و خلیج کے صدر ناصر شیرازی اور فلسطین فاونڈیشن پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر صابر ابو مریم نے خطاب کیا ۔

مقررین کا کہنا تھا کہکشمیر کاز اورر فلسطین کاز پاکستان کی نظریاتی بنیاد ہیں ۔ اسرائیل غاصب صہیونیوں کی جعلی ریاست ہے اور فلسطین ، فلسطینیوں کا وطن ہے ۔ رمضان المبارک کا آخری جمعہ یوم القدس منایا جائے، حکومت سرکاری سطح پر تقریبات کا انعقاد کرے ۔

مذید پڑھیں :کراچی : NA-249 میں PSP کارکنان نے PPP جیالوں پر حملہ کر دیا

مقررین نے کہا کہ کشمیر اور فلسطین میں صہیونی و بھارتی ایک جیسے مظالم ڈھا رہے ہیں ۔ مسلم دنیا اپنے مقصد سے اور اہداف سے ہٹ رہی ہے ۔ سرائیل اور بھارت مسلم دنیا کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں ۔اسرائیل نے داعش کے ذریعہ مشرق وسطیٰ کو تباہ و برباد کرنے کی کوشش کی ۔ مسئلہ فلسطین اور کشمیر کے حل کے لئے امت مسلمہ کو باہمی اتحاد کی ضرورت ہے ۔ کشمیر اور فلسطین میں بھارت اور اسرائیلی مظالم ایک جیسے ہیں ۔

سیاسی رہنماءوں کاکہنا تھا کہ اسرائیل کو حقیقی خطرہ پاکستان سے ہے، پاکستان، ایران اورترکی کو، امریکا، اسرائیل اور بھارت کے خلاف کھڑے ہونا پڑے گا ۔ کشمیر اور افغانستان میں اسرائیل موجود ہے ۔ قاسم سلیمانی کا قتل اور قبلہ اول کے خلاف امریکی حکومت کے فیصلے دنیا کا امن تباہ کرنے کی سازش ہیں ۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم آج مقبوضہ فلسطین سے نظر چرالیں تو ہم کشمیر پر کیسے اپنے مؤقف کو دنیا کے سامنے رکھ سکتے ہیں ;238;انہوں نے مزید کہا کہ عالم اسلام کی ذمہ داری ہے کہ وہ فلسطین اور بیت المقدس کی آزادی کی کوشش کرے ۔ او آئی سی انجمن غلامان امریکا ہے کہ مسلم ممالک کے حکمرانوں سے کوئی امید نہیں ۔ مقررین کاکہنا تھا کہ دنیا بھر میں ہونے والی منفی اور دہشت گردانہ سرگرمیوں میں اسرائیل ہی ملوث نکلتا ہے ۔ ہماری صفوں میں بھی غدار موجود ہیں ۔ ہمیں ان کالی بھیڑوں سے بھی نمٹنا ہو گا ۔

مذید ہڑھیں : جسٹس عیسیٰ کیخلاف انکوائری پر سابق ڈی جی FIA بشیر میمن کے انکشافات

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر حضرات کاکہنا تھا کہ اسرائیل پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوئی کوشش ہاتھ سے نہیں جانے دیتا، اسرائیل پاکستان کا سب سے بڑا دشمن ہے ۔ مسلح جد وجہد ہی اسرائیل سے نجات کا واحد حل ہے، غاصب اسرائیل بے یقینی صورتحال سے دو چار ہے اور یہ اسرائیل کا زوال ہے ۔ کشمیر کاز اور فلسطین کا ز پاکستان کی نظریاتی بنیاد ہیں ۔ اسرائیل غاصب صہیونیوں کی جعلی ریاست ہے اور فلسطین ، فلسطینیوں کا وطن ہے ۔ رمضان المبارک کا آخری جمعہ یوم القدس منایا جائے، حکومت سرکاری سطح پر تقریبات کا انعقاد کرے ۔

مقررین نے مزید کہا کہ بھارت اسرائیل اور امریکہ مسلمانوں کے خلاف ایک ساتھ ایک خطرناک منصوبے پر کام کررہے ہیں ۔ ان کاکہنا تھاکہ امریکا نے اسرائیل کے ہر ناجائز اقدام میں اس کا بھرپور ساتھ دیا ہے، سابق امریکی صدر ٹرمپ نے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا، جولان ہاءٹس جو ملک شام کا حصہ تھا ۔ اس کو اسرائیل کو دے دیا ، جیسے یہ ان کے باپ کی جاگیر ہو،ڈیل آف سینچری پیش کی جو ناکام ہوئی تو معاہدہ ابراہیم کے نام سے ایک اور منصوبہ شروع کیا ۔ قاسم سلیمانی کو قوانین کی پامالی کرتے ہوئے قتل کر دیا گیا ۔

مذید پڑھیں :اشتہاری بورڈز مافیا نے محکمہ بلدیات سندھ کو رام کرلیا

اسرائیل نے اپنا اثر رسوخ اردگرد کے ممالک سوڈان، اومان، مصر، اور دیگر عرب ممالک پر ڈال دیا ہے حتیٰ کہ کشمیر اور افغانستان میں بھی ان کی موجودگی کی مصدقہ اطلاعات ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ اسرائیل نے پورے خطے میں اپنے پنجے گاڑدیئے ہیں اور اس میں بھارت اور امریکا اس کے ساتھ ساتھ ہیں ، ایسی صورتحال میں اسرائیل کو اگر کسی ملک سے خطرہ ہے تو وہ پاکستان ہے اور کسی حد تک ایران سے ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو قو میں خون دینا اور قربانی دینا سیکھ جاتی ہیں ان کو شکست نہیں دی جاسکتی، کشمیر اور فلسطین آزاد ہیں جغرافیائی طورپر آزادی باقی ہے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *