تیز گام ایکسپریس میں آتشزدگی سے 65 افراد خاکستر

کراچی سے لاہور جانے والی تیز گام ایکسپریس میں رحیم یار خان کے قریب سلنڈر پھٹنے سے آگ لگ گئی جس کے نتیجے میں جاں بحق افراد کی تعداد 65 ہوگئی، جس میں سے 17 لاشیں ناقابل شناخت ہیں۔

بہاول پور، رحیم یارخان کے سرکاری اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔

ریلوے ذرائع کے مطابق تیزگام ایکسپریس کراچی سے راولپنڈی جا رہی تھی جس میں سلنڈر پھٹنے سے تین بوگیوں میں آگ لگی۔

آگ نے 3 بوگیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ مسافر ٹرین میں سلنڈر سے انڈا بوائل کررہے تھے کہ اچانک آگ بھڑ ک اُٹھی، متعدد افراد نے کود کر جان بچائی۔

ڈی سی او ریلویز کراچی جنید اسلم نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ متاثر ہونے والی تین بوگیوں میں 207 افراد سوار تھے جبکہ ان میں زیادہ تر مسافر حیدرآباد سے ٹرین میں چڑھے تھے۔

جنید اسلم کے مطابق ایک بوگی میں 78 افراد اور دوسری بوگی میں 77 افراد کی بکنگ تھی جبکہ  بزنس کلاس کی بوگی میں 54 افراد کی بکنگ تھی۔

ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر باقر حسین نے بتایا کہ 10 لاشوں کی شناخت ہوگئی ہے جبکہ دیگر جاں بحق افراد کی شناخت ڈی این اے کے ذریعے کی جارہی ہے۔

وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کا بیان

وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کے مطابق ٹرین کی اکانومی کلاس میں آگ لگی۔ تبلیغی جماعت کے لوگ اجتماع میں جارہے تھے۔

شیخ رشید نے کہا کہ زیادہ ہلاکتیں مسافروں کےچلتی ٹرین سےچھلانگ لگانے کی وجہ سے ہوئیں جبکہ شدید زخمیوں کو رحیم یار خان منتقل کیاجارہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کھاریاں اور ملتان میں برن یونٹس ہیں۔

اس کے علاوہ انہوں نے بتایا کہ بوگیوں میں لگی آگ پر قابو پالیا گیا ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ مسافروں کےدو سلنڈر پھٹنے کے باعث بوگیوں میں آگ لگی تھی۔

انہوں نے کہا کہ اس واقعے میں ریلوے کی غلطی نہیں، مسافروں کی غلطی ہے۔ مسافر ٹرین میں سلینڈر کیسے لے کر پہنچے ، اس کی تحقیقات کی جائے گی۔

شیخ رشید نے مزید کہا کہ دو گھنٹے میں ٹریک بحال کردیا جائے گا۔

وزیر صحت پنجاب یاسمین راشد کا بیان

وزیر صحت پنجاب یاسمین راشد نے کہا ہے کہ ٹرین سانحےمیں جاں بحق افرادکے اہل خانہ کے غم میں شریک ہیں۔

یاسمین راشد کا کہنا ہے کہ ٹرین سانحے میں جاں بحق افراد کےناموں کی فہرستیں آویزاں کی جائیں، سی ای او بہاولپور اور سی ای اورحیم یار خان زخمی افراد کے علاج کی نگرانی کریں۔

وزیر صحت پنجاب نے کہا کہ ضلع بہاولپور اور رحیم یارخان کے سرکاری اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔

ایمرجنسی نافذ کرنے کا مقصد زخمی افراد کے بہترین علاج کو یقینی بنانا ہے۔

ڈسٹرکٹ ہیڈ آفیسر باقر حسین کا ابتدائی بیان

ڈسٹرکٹ ہیڈ آفیسر باقر حسین کا کہنا ہے کہ دو بو گیوں میں لگی آ گ بجھا دی گئی ہے جبکہ تیسری بوگی کی آگ کی شدت میں بھی کمی آ گئی ہے۔

باقرحسین نے بتایا کہ آگ لگنے کے باعث جاں بحق افراد کی تعداد 13 ہوگئی ہے۔

ریلوے ذرائع کے مطابق جلی ہوئی بوگیاں الگ کر کے متاثرہ تیز گام کو روانہ کر دیا گیا ہے۔

سی ای او ریلوے اعجاز احمد کا ابتدائی بیان

سی ای او ریلوے اعجاز احمد نے بتایا کہ متاثرہ بوگیوں میں دو اکنامی اور ایک بزنس کلاس بوگی ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ اس سانحے سے کوئی ٹریک متاثر نہیں ہوا، ٹرینیں چل رہی ہیں۔

ڈی سی او ریلویز کراچی جنید اسلم کا ابتدائی بیان

ڈی سی او ریلویز کراچی جنید اسلم کا کہنا ہے کہ تیز گام کی 3، 4 اور5 نمبر کی بوگی میں آگ لگی۔ تینوں متاثرہ بوگیوں کےزیادہ ترٹکٹ ایک ہی مسافر کے نام پر بک کرائے گئے تھے۔

جنید اسلم نے کہا کہ ایک ہی مسافر کے نام پر ٹکٹ جاری ہونے سے انفرادی نام نکالنے میں مشکل ہورہی ہے۔

وزیراعظم کی تعزیت

وزیراعظم عمران خان نے غمزدہ خاندانوں سے اظہار تعزیت  کیا اور سانحے  میں زخمیوں کو بہترین طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت جاری کر دی۔

 

رپورٹ بشکریہ جنگ

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *