آرمی چیف کی صحافیوں سے طویل ملاقات کی تفصیلات سامنے آ گئیں

آرمی چیف

لاہور: آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے گزشتہ روز 30 کے قریب صحافیوں کے اعزاز میں افطار ڈنر کا اہتمام کیا اور یہ ملاقات سات گھنٹے تک چلتی رہی جس میں بھارت کے ساتھ ہونے والے خفیہ مذاکرات، انٹرنل پولٹکس، افغان امور، ٹی ایل پی، ابصار عالم پر قاتلانہ حملہ سمیت نوازشریف کے حوالے سے بھی بات چیت ہوئی۔

پاک بھارت خفیہ مذاکرات کے حوالے سے قمر باجوہ نے کہا کہ شاہد خاقان عباسی کے دور حکومت یعنی 2017 میں بھارتی ملٹری لیڈر شپ کی جانب سے یہ خواہش کا اظہار کیا گیا تھا کہ بجائے دونوں طرف کی سول قیادت میں مذاکرات کے ملٹری لیول پر مذاکرات ہونے چاہئے جو بعد میں زیادہ دیر نہیں چل سکے اور دسمبر 2020 میں دوبارہ آغاز ہوا۔

مزید پڑھیں: آرمی چیف کا ایف ڈبلیو او کا دورہ؛ قومی اہمیت کے منصوبوں کو بروقت مکمل کرنے کی ہدایت

آرمی چیف نے کہا کہ ہمیں آرٹیکل 370 سے کوئی مسلہ نہیں بلکہ A35 پر خدشات ہیں جو کشمیر کی ڈیموگرافی سے متعلق ہے اور امید ہے کہ جلد اس پر پیشرفت ہو اور پینتیس اے واپس لیا جائے گا۔

آرمی چیف نے شاہد خاقان عباسی کا نام لیکر کہا کہ مزاکرات ان کے دور میں شروع ہوئے اور آج وہ کشمیر فروشی کا الزام لگاتے ہیں۔

ٹی ایل پی کے متعلق باجوہ صاب نے کہا کہ ٹی ایل پی اب بطور سیاسی جماعت کام کرے گی اور ملک کے امن و امان میں کوئی خلل نہیں ڈالے گی جبکہ صحافیوں کی طرف سے ایم این اے علی وزیر کے متعلق سوال پر کہا کہ علی وزیر نے بس سٹینڈ پر قبضہ کیا ہوا اور ان کی گرفتاری سے ہمارا کوئی تعلق نہیں۔

مزید پڑھیں: عید سے قبل صحافیوں کے بقایا جات اور تنخواہیں ادا کی جائیں : KUJ

ابصار عالم کے متعلق انہوں نے کہا کہ اس واقعے کو آرمی سے نہ جوڑا جائے، اس واقعے سے ایجنسیز کا دور دور تک کوئی تعلق نہیں۔

پاکستان کی اندرونی سیاست پر بات کرتے ہوئے سپہ سالار نے کہا کہ فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں لیکن پھر بھی ہمیں تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، انہوں نے کہا کہ نوازشریف کو ہٹانے میں ہمارا کوئی کردار نہیں بلکہ وہ اپنے بوجھ تلے دب گئے ہیں۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *