آزادی مارچ شرکا نے میٹرو روکے بغیر احتجاج کرکے ریکارڈ‌ بنا دیا .

رپورٹ: اختر شیخ

آزادی مارچ کے شرکا نے لاہور مینار پاکستان کے سامنے لاکھوں کی تعداد میں آزادی چوک پرجمع ہو کر قائدین کا خطاب سنا .جہاں پر مسلم لیگ ن کے قائدین نے آزادی مارچ کے شرکا کا استقبال بھی کیا تھا . لاہور کے جڑواں شہروں کے قافلے لاہور مینار پاکستان پر جمع ہوئے تھے جہاں پر وہ مرکزی قافلے کا حصہ بنے تھے .

لاہور آزادی چوک پر آزادی مارچ کے لاکھوں شرکا کے احتجاج کے باوجود میٹرو بس جارہی ہے

اس موقع پر مرکزی قافلے مینار پاکستان کے سامنے آزادی چوک پر ، ہیڈ بریج کے اوپر اور نیچے طویل قطاروں میں کھڑے رہے اور درمیان سے میٹرو بسیں آرام سے اپنا سفر جاری رکھے رہیں . اس منظر نے جہان پاکستان میڈیا کو حیران کیا وہیں پر اس منظر سے عالمی میڈیا نمائندے بھی حیران ہوئے بغیر رہ نہ سکے .

جمعیت علمائے اسلام و آزادی مارچ کے سخت ناقدین بھی اس پرامن ترین مارچ کی داد دیئے بغیر نہیں رہ سکے ہیں .جمعیت علمائے اسلام پر تنقید بھی کرنے والے معروف کالم نگار رعایت اللہ فاروقی نے میٹرو کی تصویر لگا کر لکھا ہے کہ جمعیت علمائے اسلام کے اس عمل نے انہیں حیران کردیا ہے .

رعایت اللہ فاروقی کی جانب سے لکھی گئی پوسٹ جس پر خاصی پذیرائی ملی ہے

سرکاری ادارے سے وابستہ عبدالسمیع قائم خانی نے فیس بک پر اپنی ایک پوسٹ میں دو تصاویر لگا کر رکھا ہے کہ ” پہلی تصویر میں آزادی چوک پر ” ڈنڈا بردارمولویوں ” کا احتجاج / جلسہ ہورہا ہے اور میڑو بس بھی اپنے معمول کے مطابق چل رہی ہے.
جبکہ
دوسری تصویر میں تحریک انصاف کے باشعور اور پڑھے لکھے کارکنان نے میٹرو بس کو ایسے ہی جام کردیا تھا جیسے عمران خان نے پاکستان کی ترقی کو کیا ہوا ہے.”

عبدالسمیع قائمخانی کی جانب سے لکھی گئی پوسٹ کا عکس

ادھر مفتی محمود اکیڈمی سے وابستہ جمعیت علمائے اسلام کے رہنما ڈاکٹر قطب الدین عابد کا کہناہے کہ ہم نے اپنے کارکنان کی تربیت کی ہے کہ ملک کے کسی بھی سرکاری ادارے یا غیر سرکاری ادارے کی ایک اینٹ کو بھی ہم نے اپنی جگہ سے نہیں ہلانا ہے اور یہی ہم نے ماضی قریب میں ہونے والے 15 ملین مارچ میں پر امن رہ کر ثابت کیا ہے اور لاہور آزای چوک پر بھی میٹرو کو جاری رکھ پر احتجاج کرکے ثابت کیا ہے کہ جمیعت علمائے اسلام ملک بھی سب سے پرامن جماعت ہے .

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *