پنجاب ٹیکس بک بورڈ کا اقدام نظریہ اسلام و نظریہ پاکستان کی خلافورزی ہے، عیق الرحمن، مولاناصفی اللہ

لاہور (پریس ریلیز) پنجاب میں پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کو دینی مواد کو صرف اسلامیات کی کتاب تک محدود کرنا ایک سمجھ سے بالاتر سفارش اور اس پر عمل درآمد کیا گیا تو یہ ایک نا قابل قبول عمل ہو گا، تمام لازمی کتب سے اسلامی تاریخ و ثقافت کے اسباق کے ساتھ ساتھ اردو کی کتب سے حمد و نعت کوصرف اس لئے مکمل طور پر ختم کرنا کہ چونکہ ان کتب کو اقلیت سے تعلق رکھنے والے بچے پڑھتے ہیں لہٰذا یہ سلیبس کا حصہ ہی نہ ہوں۔ یہ دراصل ملک کی اکثریت جو کہ اسلام سے وابستہ ہے ان کے بچوں کی دینی و اسلامی تربیت کے ساتھ کھلواڑ ہے۔

لہٰذا جمعیت علماء اسلام پنجاب اس سفارش کی مکمل طور پر نہ صرف مذمت کرتی ہے بلکہ یہ بھی واضح کرتی ہے کہ اگر اس طرح کا کوئی اقدام اٹھایا گیا تو جمعیت علماء اسلام اس کے خلاف بھرپور تحریک چلائے گی۔

ان خیالات کا اظہار امیر جمعیت علماء اسلام صوبہ پنجاب جناب ڈاکٹر عتیق الرحمن، ناظم عمومی جمعیت علماء اسلام صوبہ پنجاب جناب مولانا صفی اللہ اور ترجمان جے یو آئی پنجاب اقبال اعوان نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کیا ۔

مزید پڑھیں: ملک بھر میں دفعہ 144 نافذ کرنے کا فیصلہ، ماسک نہ پہنے کی صورت میں بھاری جرمانہ عائد ہوگا

انہوں نے مزید یہ بھی کہا کہ ہم وزیر تعلیم اور شعبہ تعلیم کے تمام پالیسی میکرز سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ اگر اس طرح کی کوئی بھی تجویز یا سفارش زیر بحث ہے تو اسے ردی کی ٹوکری کے نظر کر دیا جائے۔اگر اقلیت کے بچے اسلامی روایات، تاریخ و ثقافت سے روشناس ہو جائیں گے تو یہ ان کا بھی علمی فائدہ ہو گا۔ اور پھر اگر اس طرح کی سفارشات پر عمل ہونا شروع ہو گیا تو کل کو اسکول اسمبلی اور بزم ادب کہ جن میں حمد و نعت اور اسلامی مواد پر مشتمل تقاریر پیش کی جاتی ہیں جیسے پروگرامات ختم کرنے کی سفارشات بھی گھومنا شروع ہو جائیں گی، کیونکہ وہاں بھی اقلیتی بچے موجود ہو تے ہیں۔ لہٰذا ارباب اختیار کچھ ہوش کے ناخن لیں اور اس طرح کی تمام سفارشات جو مختلف این جی اوز کی طرف سے سامنے لائی جاتی ہیں انہیں نظر انداز کیا جائے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *