شرافی گوٹھ میں سرکاری اراضی پر قبضے کیلئے پولیس معاون بن گئی

کراچی : تھانہ شرافی گوٹھ میں ایک بار پھر ٹھیکدار عابد جعلی دستاویزات کی بنیاد پر پلاٹوں پر قبضے ، پانی کے ہائیڈرنٹ ، منشیات فروشی سمیت غیر قانونی سرگرمیوں کی کھلی چھوٹ دے دی ہے ۔

اعلی عدلیہ کے معزز ججز پر مشتمل بینچ سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں سرکاری زمین پر قبضے ختم کرانے کے لئے متعلقہ اداروں کو سخت ہدایت کے ساتھ نااہلی پر برہمی کا اظہار بھی کیا گیا تاہم دوسری ہی جانب ایسٹ زون کے ضلعی ملیر میں پولیس کی مکمل سرپرستی میں ناکلاس اراضی پر قبضے کرائے جا رہے ہیں ۔

شرافی گوٹھ کے علاقے مرتضیٰ چورنگی شاہراہ الطاف سے متصل ملیر ندی اور دیھ شرافی کی ناکلاس اراضی سمیت پاکستان ریلوے اور کراچی سرکل ریلوے کی اراضی پر قبضہ شروع کر دیا گیا ہے ۔ قبضہ کے عوض پولیس کے ساتھ لین دین کرنے والے عابد ٹھیکیدار کی تھانہ شرافی کے بیٹر کامران عرف نیازی کے ساتھ ہونے والی خفیہ میٹنگ کی ویڈیو موصول الرٹ کو موصول ہو گئی ہے ۔

ذرائع کے مطابق شرافی گوٹھ تھانے کے سامنے قائم نجی چائے کے ھوٹل پر گزشتہ رات مذکورہ تھانے کا پولیس بیٹر کامران عرف نیازی عرف اعوان اور عابد ٹھیکیدار کی ملاقات ہوئی جس میں طے پایا گیا کہ شرافی گوٹھ کے علاقے دیھ شرافی میں ناکلاس اراضی پر قبضہ کرنے کیلئے چائنہ کٹنگ پر باؤنڈی وال تعمیر کی جائے گی ، غیر قانونی پلاٹنگ پر مکان بھی تعمیر کیا جائے گا ، اور اس کے بدلے مزرور فراہم کرنے والا ٹھیکیدار عابد ایس ایچ او شرافی گوٹھ کے دست راز اور بیٹر پولیس اہلکار کامران عرف نیازی عرف اعوان کی کو مبینہ طور پر رشوت کے پیسے فراہم کرے گا ۔

مذید پڑھیں :مہران ٹائون پہنور گوٹھ میں راشد صدیقی نے پھر ہائیڈرنٹ چلوا دیا

زرائع کے مطابق سابق ایس ایچ او شرافی گوٹھ نے ناکلاس اراضی پر غیر قانونی تعمیرات پر ٹھیکیدار عابد اور اس کے مزدوروں کو حراست میں لیکر ان کے خلاف مقدمہ بھی درج کیا تھا ۔ جب کہ موجودہ ایس ایچ او عدیل شاہ اور ہیڈ محرر لقمان کی سرپرستی میں وہی ٹھیکیدار دوبارہ سرگرم ہو گیا ہے ۔

ذرائع کے بقول شرافی گوٹھ کی ناکلاس اراضی، جعلی گوٹھوں کے نام پر چائنہ کٹنگ اور پاکستان ریلوے کی زمین پر قبضے میں ملوث بااثر لینڈ گریبرز ٹھیکیدار عابد کی پشت پناہی کرتے ہیں ۔ جو کہ شعبہ تفتیش کو نذرانے دے کر دوسرے روز ہی ضمانت کروا لیتے ہیں ۔ زرائع کے مطابق عابد ٹھیکیدار کو ضمانت ملتے ہی پھر سے قبضہ مافیا کے سرغنوں کی ایما پر غیر قانونی تعمیرات شروع کر دیی جاتی ہے ۔

ذرائع کے بقول دو ہفتے قبل عابد ٹھیکیدار نے شرافی گوٹھ کے بدنام قبضہ مافیا کے اہم سرغنہ سے پانچ لاکھ روپے رشوت کے عیوض پولیس بیٹر کامران عرف نیازی عرف اعوان کو دیئے تھے ۔ جس کے بعد دیھ شرافی میں غیر قانونی جعلی سوسائٹی میں غیر قانونی تعمیرات کی اجازت دی گئی ہے ۔

مذید پڑھیں :ناقص کارکردگی پر SHO شرافی گوٹھ کو شوکاز جاری

واضح رہے کہ حالیہ سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں میں کراچی سرکل ریلوے، سرکاری زمینوں پر قبضے مسمار نہ کرنے پر معزز جج صاحبان زمہ دار اداروں کے سربراہان پر برہمی کا اظہار کیا تھا، تاہم اعلیٰ عدلیہ میں کراچی میں غیر قانونی تعمیرات، سرکاری اراضی پر قبضے اور تجاوزات کے خلاف اہم کیس زیر سماعت ہونے کے باوجود ضلع ملیر کے تھانے شرافی گوٹھ پولیس عدالت کے حکم پر عملدرآمد کے بجائے ناکلاس سرکاری زمین پر قبضہ مافیا کو پیداگیری کا زریعہ بنا رکھا ہے ۔

معلوم رہے کہ تھانہ شرافی گوٹھ کے ایس ایچ او عدیل شاہ علاقے میں غیر قانونی ہائیڈرنٹ چلوانے کے عوض نور محمد عرف نورا ، اجمل آفریدی ، طارق خٹک ، شعور الدین میمن ، فضل عباسی ، رویز جدون ، رزاق پانی والا سمیت دیگر پانی چوروں سے بھی ماہانہ لاکھوں روپے لیکر غیر قانونی پانی کی چوری کرا رہا ہے اور دوسری جانب ایس پی ملیر سنگھار ملک کی جانب ناقص کارکردگی کی وجہ سے عدیل شاہ کو شوکار بھی دیا ہوا ہے ۔

اس حوالے سے نمائندہ https://alert.com.pk نے ایس ایس پی ملیر عرفان بہادر سے بھی رابطہ کیا تاہم انہوں نے فون ریسیو نہیں کیا ، تاہم انہیں عدیل شاہ اور ٹھیکدار عابد کے حوالے سے ہونے والی ڈیلنگ کی تفصیلات سے آگاہ کر دیا گیا ہے ۔ ان کا موقف موصول ہونے پر شائع کر دیا جائے گا ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *