مولانا کو آزادی مارچ سے کیا حاصل ہوا؟

کالم : عبدالقدوس محمدی

اپنی نوعیت کا منفرد،تاریخی اور تاریخ ساز آزادی مارچ تکمیل سے قبل ہی ڈھیر سارے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا……مولانا فضل الرحمن اور ان کے جملہ رفقاء کو مبارک ہو ……بہت سے دوست یہ سمجھتے ہیں کہ اگرعمران خان نے استعفیٰ نہ دیا یا اسلام آباد پہنچ کر مولانا”کیک“ میں سے کچھ بڑا حصہ لینے کامیاب نہ ہوئے تو آزادی مارچ کے مقاصد حاصل نہیں ہوپائیں گے۔

اگرچہ ابھی تو یہ کہنا بھی قبل از وقت ہے کہ استعفی کا کیا بنے گا؟اور کس طرح کا استعفیٰ لیا جائے گا؟اس بات کا بھی امکان ہے کہ جیسے ق لیگ میاں محمد اظہر نے بنائی تھی لیکن بعد ازاں میاں محمد اظہر منظر عام سے بالکل غائب ہوگئے اور اب مدتوں بعد حماد اظہر کی شکل میں سامنے آئے ہیں۔ اسی طرح ممکن ہے عمران خان کو بھی میاں اظہر بنانے کا فیصلہ کیا جاچکا ہو اور انہوں نے اپنے حصے کا کام مکمل کرلیا ہو۔ اب اگلا کام جن کے حصے کا ہے ان کے سپر د کیاجانا مقصود ہو جیسا کہ معروف صحافی روف کلاسرا صاحب نے عمران خان سے ملاقات کے بعد بتایا کہ انہوں نے اپنی زبان سے اس کا اعتراف کیا کہ ”میں سوچ رہاہوں استعفی دے دوں“ ……جب انسان کے اعصاب اس حد تک آجائیں کہ وہ ملک کے معروف اور سینئر صحافیوں کے سامنے برملا استعفی دینے کے ارادے کا اظہار کرے توخود اندازہ کیجیے کہ معاملہ کہاں پہنچ گیا ہے ……لیکن اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ مولانا حکومت گرانے میں کامیاب نہیں ہوتے یا کوئی استعفی نہیں لے سکتے تو بھی کیا مولانا نے گھاٹے کا سودا کیا؟ہماری دانست میں مولانا اس کے باوجود بھی بہت سے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب ہوچکے ہیں۔اس وقت عالمی دنیا بالخصوص ہمارے خطے اور پاکستان کے حالات کو سامنے رکھا جائے تو مولانا مارچ کے آغاز سے قبل ہی بہت کچھ جیت چکے جیسا کہ حسن نثار جیسامایوسی کا سوداگر،پی ٹی آئی کا کٹر حامی اور مذہبی طبقے کا برترین مخالف اور ناقد بھی یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہے……

مولانا فضل الرحمن کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ وہ ایک مرتبہ پھر تاریخ کے اس موڑ پر یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہوگئے کہ پاکستان اور اسلام لازم وملزوم ہیں ……اس ملک کا مستقبل لبرل ازم یا سیکولرازم سے وابستہ نہیں بلکہ جن مقاصد کے لیے مملکت خداداد کو حاصل کیا گیا تھا ان مقاصد سے انحراف اجتماعی خود کشی تو ہوسکتا ہے بہتر آپشن ہرگز نہیں۔اس وقت صورت حال یہ تھی کہ پاکستان کی مذہبی شناخت،اسلامی قوانین،بالخصوص قادیانیت اور ناموس رسالت کا معاملہ،دینی مدارس کا نظام اور سب کچھ داو پر لگا ہواتھا اور یوٹرن سرکار کے ذریعے ماضی کے ہر خیر کے سلسلے سے انحراف کا منصوبہ تیار تھا اس پلاننگ کو مولانا فضل الرحمن نے ناکام بنا دیا ہے۔ مولانا فضل الرحمن اگر چہ حکمت عملی کے تحت اور قومی یکجہتی پیدا کرنے کے لیے وقتی طور پر تحفظ ختم نبوت اورناموس رسالت کے قانون کے حوالے،”نام نہاد مذہبی کارڈ“کے معاملے میں خاموش ہوئے ہیں لیکن وہ قوتیں جو اسلامی قوانین اور مذہبی شناخت کو مٹانے کے درپے تھیں انہیں بخوبی پیغام چلا گیا ہے اور سب کو اندازہ ہوگیا ہے کہ پاکستان میں دین اسلام کے معاملے میں کسی قسم کی مہم جوئی اتنی آسان نہیں۔ مولانا فضل الرحمن نے تحفظ ناموس رسالت کے عنوان سے پندرہ کامیاب ملین مارچ کیے کسے نہیں معلوم کہ یہ آزادی مارچ انہی کا تسلسل ہے۔اگرچہ اس وقت بظاہر تحفظ ناموس رسالت اور قادیانیت کے معاملے میں وہ قوتیں بھی وقتی طور پر پسپا ہوگئی ہیں لیکن مستقبل میں دوبارہ جب بھی اس حوالے سے سوچا گیا تومولانا فضل الرحمن کی طرف سے جس افرادی قوت کا بھرپور مظاہرہ کیا گیا یہ ایک مدت تک ”تھرٹ“ بن کر کھڑا رہے گا۔

یہاں یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ ہمارے ہاں لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ سارے نقشے محض مقامی اور داخلی اسٹبلشمنٹ کے اشاروں پر بنتے اور بگڑتے ہیں لیکن عالمی اسٹبلشمنٹ کو سرے سے نظر انداز کردیا جاتا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مقامی اسٹبلشمنٹ تو پھر بھی مقامی اور اپنی ہے وہ اصل مسئلہ نہیں بلکہ بہت سے مواقع پر مقامی اسٹبلشمنٹ”نصرت“ کا ذریعہ بنتی ہے اصل مسئلہ عالمی اسٹبلشمنٹ ہے اس کی پالسیوں کو روکنے کے لیے اور عالمی اسٹبلشمنٹ پردباؤ برقرار رکھنے کے لیے بھی بہت سے اقدامات اٹھائے جاتے ہیں جیسا کہ نائن الیون کے بعد ایم ایم اے ایک قوت بن کر ابھری دو صوبوں میں حکومت حاصل کی اور مرکز میں ایک مضبوط اپوزیشن کے طور پر موجود رہی یہ تمام تر بندوبست عالمی اسٹبلشمنٹ کے لیے سپیڈ بریکر کا کام کرتا رہا ورنہ عالمی دباؤ بہت کچھ بہا کر لے جاتا۔

آزادی مارچ کے ہنگام مولانا فضل الرحمن نے جو ایک اور بڑی کامیابی حاصل کی وہ یہ کہ ان کی جماعت پہلے کے پی کے اور بلوچستان کے دور افتادہ علاقوں کی جماعت تھی مولانا فضل الرحمن اس تمام تر محنت کے بعد نہ صرف یہ کہ حقیقی معنوں میں قومی دھارے میں آگئے بلکہ اگر دیکھا جائے تو مولانا فضل الرحمن ہی اس وقت وفاق پاکستان کی علامت بن کر ابھر ے ہیں۔کبھی محترمہ بے نظیر چاروں صوبوں کی زنجیر کہلاتی تھیں پھر نواز شریف نے کچھ عرصہ مقبولیت حاصل کی لیکن اب بینظیر کی جماعت سندھ کی جماعت بن کررہ گئی، نواز شریف پنجاب کے لیڈر ہیں جبکہ مولانا فضل الرحمن چاروں صوبوں کے مقبول رہنماء بن کر ابھرے ہیں۔

مولانا فضل الرحمن بہت آسانی سے پشاور سے مارچ شروع کرکے اسلام آباد کے دروازوں پردستک دے سکتے تھے لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا بلکہ کراچی اور سکھر سے براستہ پنجاب اسلام آباد کا رخ کیا اور بالائی علاقوں کو اسلام آباد آکر مارچ جوائن کرنے کو کہا…… لمبا، تھکادینے والا روٹ بھی دراصل مولانا فضل الرحمن نے پورے پاکستان میں اپنا اثر ونفوذ پیدا کرنے کے لیے اپنایا ہے اور اس میں وہ بڑی حد تک کامیاب بھی ہوئے ہیں خاص طور پر وہ علاقے جن میں مولاناکا پہلے زیادہ اثرونفوذ نہیں تھا انہیں اندازہ ہواہے کہ مولانا کی اگر اندرون سندھ اتنی پذیرائی ہے تو خیبرپختونخواہ اور بلوچستان کا کیا عالم ہوگا؟

مولانا فضل الرحمن پہلے پہل صرف مسلکی سیاست کرتے تھے وہ دیوبندی مکتبہ فکر کے لیڈر سمجھے جاتے تھے پھر انہوں نے خود کو تمام مکاتب فکر کا نمائندہ بنا کر پیش کیا اور جیسے تیسے بن پڑا تمام مسالک کو ساتھ جوڑ کر رکھا اب مولانا فضل الرحمن اس سے ایک قدم آگے بڑھ کر قومی سیاستدان کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ بعض لوگ یہ کہتے سمجھتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمن نواز شریف یا زرداری کی جنگ لڑرہے ہیں ایسا ہرگز نہیں بلکہ مولانا دراصل نواز شریف اور زداری کے کندھے پر بندوق رکھ کراپنی اوردینی مقاصد کی جنگ لڑرہے ہیں۔ آپ کچھ دیر کے لیے تصور کیجیے کہ اگر مولانا فضل الرحمن اس وقت ایک خالصتاً مذہبی حلوس لے کر کراچی سے روانہ ہوتے تو ان کے بارے میں حکومتی تیور کیسے ہوتے؟عوامی تاثر کیسا ہوتا؟لوگ ان سے لاتعلق رہتے ……حکومت انہیں ایک شدت پسند مذہبی جتھہ باور کرواتی لیکن مولانا تمام سیاسی جماعتوں کے متفقہ لیڈر اور حقیقی اپوزیشن رہنما کے طور پر سامنے آئے ہیں اس سے مولانا نے ایک فائدہ تو یہ حاصل کیا کہ اس سرگرمی کو ایک بھر پور سیاسی سرگرمی بنانے میں کامیاب ہوگئے اور دوسرا کام یہ کیا کہ خود پی پی،مسلم لیگ،اے این پی اور دیگر تمام جماعتوں کے کارکنان کو اپنی طرف پوری طرح سے متوجہ کرلیا ……اس حکمت عملی کا نتیجہ ہے کہ سب لوگوں نے پی ٹی آئی کے حامیوں کے علاوہ مولانا فضل الرحمن کو سنا، سمجھا،ان کے کلپ،ان کابیانیہ، ان کی سیاست کے پروموٹر صرف مذہبی کارکنان ہی نہیں بلکہ جملہ سیاسی کارکنان ہیں ……اس وقت مزاحمت کے خمیر سے اٹھنے والی پی پی کے کارکن مولانا فضل الرحمن کو بھٹو سمجھ رہے ہیں جبکہ نون لیگ کے کارکن انہیں نواز شریف اور مریم نواز کی وجہ سے جو خلا پیدا ہوا اس کا کفارہ قرار دے رہے ہیں اس وقت بڑی دلچسپ صورت حال ہے ن لیگ کے کارکن جے یو آئ کے پرچم لہراتے پھر رہے ہیں اور پی پی کے جیالے مولانا فضل الرحمن پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کر رہے ہیں-

اس لیے اگر مولانا اس مارچ کے نتیجے میں استعفیٰ نہ بھی لے پائے تویہ جو”ایج” انہیں حاصل ہوگیا اور وہ بحرانوں کے اس دور میں جس طرح مرد بحران بن کر ابھرے ہیں یہی ان کے سیاسی مستقبل کے لیے کافی ہے۔

مولانا فضل الرحمن نے اس تما م تر مہم جوئی کے ذریعے اپنے اوپر لگنے والے بہت سے داغ دھوڈالے ہیں بلکہ داغ تو نہیں کہنا چاہیے دراصل وہ مخالفین کی جانب سے اڑائے گئے چھینٹے تھے جنہیں مولانا نے مٹا دیاہے،مولانا کے بارے میں جو پروپیگنڈہ پہلے سے چل رہا ہے یہ مارچ اس کے توڑ کا ذریعہ ہے اور ان کے بارے میں جو تاثر تھا کہ وہ ہمیشہ ہر حکومت کا حصہ ہوتے ہیں ……ایک آدھ وزارت یا کشمیر کمیٹی کی چئیرمین شپ کی مار ہیں یاان پر جوجو الزامات لگتے رہے مولانا نے ان سب کو عملا جھوٹ ثابت کردکھایا ہے……مولانا نے اس مارچ سے قبل اور اس کے دوران جس طرح مضبوط اعصاب اور استقامت سے کام لیا وہ بھی خاصے کی چیز ہے۔

لگتا یوں ہے جیسے مولانافضل الرحمن اس مارچ کے ذریعے دراصل مذہبی سیاست کو مائنس کرنے اور مذہبی طبقات کے لیے مشکلات پیدا کرنے والی پالیسیوں کے راستے میں بند باندھنا چاہتے ہیں …… مولانا فضل الرحمن کوجب جب گیم سے باہر رکھنے کی کوشش کی گئی وہ اگلی دفعہ اس سے زیادہ قوت سے ابھر کر سامنے آئے ہیں اس وقت بھی بادی النظر میں یہی لگتا ہے کہ اگر چہ مولانا نئے انتخاب کروانے میں کامیاب نہیں ہوسکتے لیکن انہوں نے اپنے اور اپنے رفقاء کے لیے اگلے انتخابات کو محفوظ اور شفاف بنانے کی بھر پور کوشش کی ہے اور امید واثق ہے کہ آئندہ مولانا اور مذہبی سیاست کو اتنے آرام سے بے دخل اور لا تعلق کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی جاسکے گی۔اب سوال یہ ہے کہ مولانانے مسلسل اپنی مٹھی بند کیوں کر رکھی ہے؟اور ابھی تک پوری صورت حال واضح کیوں نہیں ہورہی یہ بہرحال سو الاکھ کا سوال ہے جس کا جواب کسی کے پاس بھی نہیں …… اس وقت تک تو مولانانے اپنے تمام پتے بڑی کامیابی سے کھیلے ہیں،انہوں نے رہبر کمیٹی کے طورپرفیس سیونگ کا بھی بندوبست کررکھا ہے ……اس وقت اصل بات یہ ہے کہ اگر مولانا اور ان کے رفقاء اس احتجاج کو پر امن رکھنے اور پر امن طریقے سے اختتام پذیر کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں اور کوئ نیا "کھڑاک” نہیں کر دیتے تو یہی ان کی اصل کامیابی ہوگی جس کے دوررس اثرات مرتب ہوں گے…… ان شاء اللہ

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *