چوہدری پرویز الہی نے نصاب میں تبدیلی نہ کرنے کی یقین دہانی کرا دی

اسلام آباد : ہفتہ 24 اپریل کو پنجاب اسمبلی کے اسپیکر چودھری پرویز الٰہی نے مفتی منیب الرحمن اور قاری محمد حنیف جالندھری کو ٹیلی فون کر کے یقین دہانی کرائی کہ صوبائی اسمبلی کو بائی پاس کر کے قومی نصابِ تعلیم میں کسی کو یک طرفہ جوہری تبدیلی کرنے کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے گی ۔

ایسا لگتا ہے کہ بیوروکریسی کی طرف سے یہ انتشار پیدا کرنے کی منظّم سازش ہے اورنظام پرحکومتی گرفت کے کمزور ہونے کی دلیل ہے۔ ان دونوں حضرات نے چودھری پرویز الٰہی کا شکریہ ادا کیااور اس امر پر اتفاق کیا کہ قوم کو تقسیم کرنے کی ایسی سازشوں کا بروقت سدِّباب کیا جائے گا ۔

مفتی منیب الرحمن اور قاری محمد حنیف جالندھری نے اس امر پر حیرت کا اظہار کیا کہ چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان نے کس طرح ایک فرد سابق ریٹائرڈ بیوروکریٹ ڈاکٹر شعیب سڈل کو اتنا بڑا فیصلہ کرنے کا اختیار دیا اور پنجاب مائنارٹی کمیشن نے کس اتھارٹی کے ساتھ اسے نافذ کرنے کے احکامات جاری کیے ۔ جب کہ ابھی سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایسے کوئی احکامات جاری بھی نہیں کیے ۔

مذید پڑھیں :داؤد یونیورسٹی میں 14 مئی تک تعلیمی سرگرمیاں معطل

سپریم کورٹ آف پاکستان کا فرضِ منصبی انتظامیہ کے غیر آئینی اور غیر قانونی اقدامات پر نظر رکھنا اور بے لاگ انصاف فراہم کرنا ہے، انتظامی فیصلے کرنا حکومتِ وقت کا مینڈیٹ ہے ۔ اگر سپریم کورٹ ایسے انتظامی فیصلے کرے گی تو متاثرہ فریق لازماً اس پر احتجاج کرے گا اور اس طرح سپریم کورٹ کا وقار مجروح ہو گا ۔

دستوری نظام میں تمام ریاستی اداروں کا دائرہئ اختیار متعین ہوتا ہے اور اداروں کے ایک دوسرے کے دائرہئ اختیار میںبراہِ راست مداخلت سے نظام مفلوج ہو جاتا ہے۔ انھوں نے عزت مآب چیف جسٹس آف پاکستان جناب گلزار احمد سے اپیل کی ہے کہ عدالتِ عظمیٰ کے نام پر اس کی منظوری کے بغیر اس پیش رفت کا نوٹس لیا جائے ، جو ملک کے دینی طبقات میں بے چینی کا باعث بن رہی ہے ۔

مزید پڑھیں :مفتی تقی عثمانی سے منسوب ’’ کرونا علاج خوشخبری ‘‘ کی تردید

انھوں نے کہا کہ ہم غیر مسلم پاکستانی شہریوں کے تمام جائز قانونی حقوق کو تسلیم کرتے ہیں ، لیکن کسی کو یہ حق ہرگز نہیں دیا جا سکتا کہ اٹھانوے فیصد اکثریت پر اپنی مرضی مسلّط کرے اور اسلام اور اسلامی شعائر کو اس ملک میں اجنبی بنائے نیز تحریکِ پاکستان اور قیامِ پاکستان کے بنیادی فلسفلے کی نفی کرے ۔

ان کا کہنا تھا کہ دنیا کے جمہوری ممالک میں اس طرح کے کمیشن چھپ چھپا کر نہیں بنائے جاتے ، ان کی تشکیل کو متوازن بنایا جاتا ہے ، ان کے مینڈیٹ کو پبلک کیا جاتا ہے اور ان کی سفارشات پر رائے عامہ معلوم کی جاتی ہے ،مگر یہاں پسِ پردہ سب کچھ ہو جاتا ہے اور اس کے بعد جب ردِّ عمل آتا ہے تو ناقابلِ قبول تاویلات و توجیہات پیش کی جاتی ہیں ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *