لاہور ہائی کورٹ میں تعینات ججز کے بارے میں خوفناک رپورٹ کیا ہے ؟

تحریر : حامد سالار

لاہور ہائیکورٹ کی دو سال سے بائیس خالی اسامیوں کے لئیے 13 ججز کی منظوری دے دی گئی ہے، مگر جو 13 افراد ملک کے سب سے بڑے صوبے کی ہائیکورٹ کے جج بننے جا رہے ہیں، ان کی قابلیت اور میرٹ ملاحظہ فرمائیں ۔ چند سال بعد یہی ججز سپریم کورٹ میں بیٹھے ہونگے اور قاضی فائز عیسی جیسے کسی فرشتہ صفت منصف کی قسمت کا فیصلہ کر رہے ہونگے ۔ ہائیکورٹ کے جج کی تعیناتی اب لاہور جم خانہ کے بار روم میں ہوتی ہے ۔

ہائیکورٹ کا جج وہ تعینات ہو گا جس کا کوئی رشتہ دار سپریم کورٹ میں جج ہو گا یا ہائیکورٹ کا چیف جسٹس ہو گا ۔ اس بار بھی موجود لاہور ہائی کورٹ کے چیفس جسٹس نے اپنا رشتہ دار جج بنا لیا ۔

پہلا نام علی ضیاء باجوہ ہے ۔ اس کو ڈاکٹر خالد رانجھا نے تجویز کیا ہے اور یہ فواد چوہدری کا قریبی رشتہ دار ہے، تعلیمی قابلیت میں کوئی قابل ذکر رپورٹڈ کیس نہیں اور نہ ہی یہ سول جج لگنے کے قابل ہے ۔

مذید پڑھیں :ہیڈ کانسٹیبل امجد 11 برس سے پریڈی تھانے میں منشی تعینات

دوسرا نام سلطان تنویر کا ہے ۔ جو مشہور اسٹور Chen one کے مالک کے بیٹے کا سالا ہے اور یہی واحد وجہ ان کی مجوزہ نامزدگی کی ہے ۔

تیسرا نام راحیل کامران شیخ ہیں ۔ جو اکرم شیخ کے بیٹے ہیں ۔ ان کا تعلیمی معیار سب کو پتہ ہے مگر ارادہ ہائیکورٹ کو لیز کرنے کا ہے اور اگر یہ جج بن گئے تو وکلاء کو ہیلمٹ پہن کر عدالت آنا ہو گا ۔

چوتھا نام ہمیشہ سے اقتدار کے ایوانوں میں رہنے والے نعیم چٹھہ کا بیٹا اور ماناں والہ سے پی ٹی آئی کے ٹکٹ ہولڈر عابد چٹھہ کا ہے ۔ جو صرف اور صرف سیاسی وکیل ہے ۔

5 واں نام ندیم احمد اشرف بہاولپور سے ہے ۔ جس پر پنجاب بار کونسل کے ووٹ کی فروخت کا الزام ہے اور عمومی شہرت بطور کرپٹ ہی ہے ۔

اگلا نام طارق ندیم ملتان کا ہے ۔ جو موجودہ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کا قریبی رشتہ دار ہے اور یہی وجہ ہے اس انتہائی درجے کے نالائق کی نامزدگی جج ہونے کی ہے ۔

مزید پڑھیں :ناف پر دلچسپ معلومات : صدقہ جاریہ سمجھ کر شیئر کریں

ایک نام شان گل کا ہے جو اپنے بیک گراؤنڈ اور طاقتور حلقوں کی سفارش پر بار بار لاء آفیسر اور اب جج کے لئے نامزد ہو رہے ہیں ۔  اس ساری نامزدگی گیم کی ایک وجہ اور پس منظر ہے، موجودہ سیکریٹری قانون بہادر علی بلوچ جو قاسم خان کے قریب سمجھے جاتے ہیں ۔ سابقہ سیکرٹری قانون نذیر گنجیانہ کو زبردستی ہٹوا کر آئے ہیں ۔ حالانکہ ان کے سات ماہ باقی تھے اور بہادر علی وہی ہیں ، جنہوں نے مشہور زمانہ ٹیپو ٹرکوں والے 5 قاتلوں میں گوگی بٹ کی قبل از گرفتاری ضمانت کنفرم کی تھی ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *