دیسی لبرل سسر ، کٹھ ملا اور قائدِ اعظم

محمد علی جناح

جب رتن بائی نے محمد علی جناح سے اظہار محبت کیا تو قائد اعظم پہلے ہکے پھر بکے رہ گئے ۔ کیونکہ دو تین بڑے ایشوز تھے ۔ سب سے پہلے تو رتن بائی پارسی مذھب سے تعلق رکھتی تھیں ۔ اس کے بعد ان کی عمر محض سترہ برس تھی ۔ جناح صاحب نہ صرف ان کے ابا سر ڈنشا پیٹٹ کے قریبی دوست تھے ۔ بلکہ رتن بائی سے بھی عمر میں چوبیس سال بڑے تھے ۔

خیر دونوں میں جلد عہد و پیماں ہو گئے اور طے پایا کہ شادی کر لی جائے ، اب ہند کے مخصوص سماج میں یہ سب اتنا بھی آسان نہ تھا لیکن قائد اعظم ہندوستان کے نامور وکیل اور مسلمانوں کے بڑے رہنماء تھے ۔ دماغ بھی خوب چلتا تھا ۔ پہلے تو انہوں نے رتی بائی کو اسلام پہ کچھ لٹرییچر فراہم کیا ۔ اس کے بعد ایک روز شام میں ڈنشا پیٹٹ کے گھر کافی پینے اور گپ شپ کرنے پہنچ گئے ۔

پیش نظر رہے کہ جناح صاحب کے سسر صاحب ہندوستان کے امیر ترین اور روشن خِیال لوگوں سے ایک تھے ۔ جو لبرل اور سیکیولر اقدار پہ یقین رکھتے تھے ، قائد اعظم نے سر ڈنشا کے گھر پہنچے ۔ سبزہ زار میں کرسی ٹیبل پہ بیٹھے ۔ سگار لگایا اور مختلف موضوعات پہ گفتگو کرتے ہوئے اچانک ڈنشا پیٹٹ سے پوچھا کہ مختلف فرقوں { مذاھب } کے لوگوں کی باھم شادیوں سے متعلق آپ کی کیا رائے ہے ؟

سر ڈنشا جو کہ اصل کہانی نہیں جانتے تھے ۔ ایک { بظاہر } اچھے لبرل کی طرح گویا ہوئے کہ ’ایسی شادیوں سے قومی یگانگی اور یکجہتی میں خاصا اضافہ ہو گا اور ہو سکتا ہے کہ انجام کار یہی شادیاں فرقہ وارانہ منافرت کا آخری حل ثابت ہوں ۔‘ جناح صاحب تو گویا اسی جواب کے منتظر تھے ۔ فوری بولے ” تو پھر میں آپ سے رتن کا ہاتھ مانگتا ہوں ” ۔

مذید پڑھیں :کراچی پریس کلب کا ممبران خواتین کی خدمات کیلئے تقریبِ ایوارڈ کا انعقاد

سر ڈنشا نے جب یہ سنا تو ان کا لبرل ازم ناک کے رستے بہہ گیا ۔ کانوں سے دھواں نکلنے لگا ۔ وہ فوری لبرل سے دیسی لبرل میں تبدیل ہوئے اور چیختے چلاتے ہوئے اس خیال کو لغو اور مضحکہ خیز قرار دیدیا ۔ سر ڈنشا کے چیخنے چلانے کا یوں بھی فائدہ نہ تھا کہ رتن بائی پوری طرح جناح صاحب کیساتھ تھی ۔

سر ڈنشا کی ایک بری عادت ہر معاملے کو عدالت لیجانا تھی ۔ جب انہوں نے جناح و رتن کے درمیان ظالم سماج بنکر بھی دیکھ لیا کہ ان کی دال نہیں گل رہی تو انہوں نے اپنے ماضی کی حرکتوں سے مجبور ہو کورٹ میں یہ کہہ کر اپنے عہد کے بڑے وکیل اور امیر ترین قانون دان قائد اعظم کے خلاف یہ کہہ کر درخواست دائر کر دی کہ جناح میری بیٹی کو ورغلا کر شادی کر رہا ہے ۔

اس کا مقصد میری جائیداد کا حصول ہے ۔ سر ڈنشا ویسے بھی انگریز حکام سے لیکر گھریلو ملازموں تک ہر ایک کے خلاف مقدمات عدالت میں لیجانے کے حوالے سے پہلے ہی بدنام تھے ۔ خیر ایسے گھٹیا الزامات کو جناح صاحب نے ایک دو سماعتوں ہی میں اڑا کر رکھ دیا ۔ بس عدالت نے یہ کہا کہ رتن بائی اٹھارہ برس کی عمر میں خود شادی کرنے کا اختیار رکھتی ہیں ۔ وقت کہاں کسی کے لئِے رکتا ہے ، سو گزر گیا ۔ پہلا مرحلہ طے ہونے کے بعد دوسرا مگر شاید پہلے سے زیادہ مشکل مرحلہ درپیش تھا ۔ کیونکہ اب رتن کو مسلمان ہو کر کسی ایک آدھ فرقے کو جوائن کرنا تھا { ویسے ممکنہ طور پہ یہ اسوقت فرنگی نظام کی ضرورت ہو گی کیونکہ اسلام تو ایسی قدغوں کا پابند نہیں ۔ کلمہ پڑھو مسلمان ہو جاو } ۔

قائد اعظم جو کہ پہلے اسماعیلی مذھب سے تعلق رکھتے تھے ۔ کچھ عرصہ قبل خود سے فرقے یا مسلک کی چھاپ ختم کر چکے تھے ۔ جس کے سبب اسماعیلی کمیونٹی کے بڑے ان سے شدید ناراض تھے ۔ { خود جناح صاحب کی تین بہنوں کی شادیاں شیعہ سنی اور اسماعیلی گھرانوں میں ہوئیں تھیں اور ان کے بھائی احمد جناح نے ایک سوئس خاتون سے شادی کی } جناح صاحب نے اپنے اسماعیلی دوستوں کی وساطت سے سر آغا خان سوئم کی والدہ لیڈی شمس علیشا کو پیغام بھیجا کہ رتن بائی کو اسماعیلی مذھب میں شامل کر لیں مگر لیڈی شمس جو پہلے ہی اسماعیلی عقیدہ چھوڑنے پہ قائد اعظم پہ برہم تھیں ، رتن کو اسماعیلی کمیونٹی کا حصہ بنانے سے صاف انکار کر دیا ۔

مذید پڑھیں :ممتازِ عالم دین و ادیب قاری نثار احمد منگی انتقال کر گئے

جس کے بعد قائد اعظم نے چاھا کہ رتن بائی اثنا عشری شیعہ مذھب قبول کر لیں مگر وہاں سے بھی تذبذب ہی ملا ۔ دونوں فرقوں سے مایوسی کے بعد جناح صاحب کے پاس اب سنی علماء کے پاس جانے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا ۔ انہوں نے اپنے سنی دوست عمر سوبانی سے سارا حال کہہ دیا ۔ جنہوں نے مولانا آزاد کے والد کی تعمیر کردہ مسجد کے امام اور عالم دین مولانا نذیر احمد سے رابطہ کر کے سارا قصہ سنایا تو انہوں نے رتن بائی کو مسلمان کرنے میں منٹ نہیں لگایا ۔ فوری ملاقات کا اہتمام ہوا اور انہوں نے رتن کو کلمہ پڑھا دیا ۔

دلچسپ پہلو یہ ہے کہ جب رتن مولانا نذیر کے ہاتھوں اسلام قبول کر رہی تھیں تو اسوقت ان کے اہلخانہ آتشکدے کی سالانہ تقریبات میں شریک تھے اور رتن کسی بہانے سے رک گئیں تھیں ۔ سر ڈنشا و والدہ کے لوٹنے سے پہلے رتن اسلام قبول کر کے گھر آ گئیں اور سر ڈنشا کو دوسرے روز اخبار سے پتہ پڑا کہ کیا قیامت بیت گئی ۔

دوسری جانب جب خوجہ اثنا عشری جماعت بمبئی کے سربراہ خان بہادر سیٹھ بچو علی کو علم ہوا کہ ہمارے ٹھکرانے کے بعد رتن سیدھا سنی یا دیو بندی مولوی کے ہاتھ اسلام قبول کر گئیں تو ان کی فرقہ پرست غیرت فوری جاگی اور انہوں نے قائد اعظم کو پیغام بھیجا کہ آپ رتن کو یہاں لائیں ۔ ہم اسے شیعہ بنائیں گے ۔ یوں پارسی سے اسلام وہاں سے سنی اور سنی سے شیعہ بننے کا رتن بائی کا سفر مکمل ہوا ۔ رتن بائی نے قائد اعظم سے محبت کی قیمت اپنے باپ کی اس زمانے میں کڑوڑوں کی جائیدا ٹھکرا کر ادا کی ۔ نکاح کے فوری بعد جناح صاحب نے رتن بائی کو سوا لاکھ کی خطیر رقم کا تحقہ پیش کیا ۔

مذید پڑھیں :داؤد یونیورسٹی میں 14 مئی تک تعلیمی سرگرمیاں معطل

نکاح اور قبول اسلام کے بعد سر ڈنشا پھر عدالت پہنچے ۔ اغوا کا کیس دائر کیا ، جج نے قائد اعظم سے استفسار کیا کہ کیا واقعی آپ نے رتن کو اغوء کیا ہے ؟ اس سے پہلے کہ محمد علی کچھ جواب دیتے رتن بائی نے ڈائس سنبھالا اور جج صاحب کو اعتماد سے جواب دیا کہ ” مجھے نہیں ، میں نے جناح کو اغواء کیا ہے ” ۔

یوں اس کہانی کا ہمیشہ کے لئِے انجام طے پا گیا ، سر ڈنشا کی بقیہ زندگی گوشہ نشینی میں بسر ہوئی ۔

{ بی بی سی کے لئِے لکھی کی گئی عقیل عباس جعفری صاحب کی تحریر سے استفادہ کیا گیا ہے }

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *