درسی کتب سے ختم نبوت، اسلامی مواد نکالنا قبول نہیں : علماء و مشائخ فیڈریشن

کراچی : ملک بھر کے علما ء مشائخ نے کہا ہے کہ درسی کتب سے ختم نبوت اوراسلامی مواد نکالنا کسی بھی صورت قبول نہیں ایسے کسی بھی اقدام کی ملک بھر کے علما ء مشائخ شدید مذمت کرتے ہوئے بھر پور مزاحمت کرینگے ۔

اسلامی فلا حی ریاست میں ایسے کسی بھی غیر آئینی اقدم کی آئین پاکستان ہرگز اجازت نہیں دیتا ، سیکولر، بے دین طبقات اسلامی فلا حی ریاست پاکستان کیخلاف سازشوں میں مصروف ہیں۔

ان خیالات کا اظہار ملک بھر کے علما ء مشائخ کی نمائندہ تنظیم علماء مشائخ فیڈریشن آف پاکستان کے چئیرمین سفیر امن پیر صاحبزادہ احمد عمران نقشبندی کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں علما ء مشائخ نے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔  اجلاس میں مرکزی سیکریٹری جنرل پیر ارشد قمر، نائب صدر پروفیسر علامہ محمود عالم خرم جہانگیری، پروفیسر ڈاکٹر جلال الدین نوری، پروفیسر ڈاکٹر سعید ، پروفیسر ڈاکٹر مہربان ایڈوکیٹ، پروفیسر ڈاکٹر ضیاء الدین، فقیر ملک شکیل قاسمی، سید مسرور ہاشمی خانی، مفتی فیض الہادی، مفتی محمدحفیظ اللہ صدیقی، علامہ سید محسن کاظمی، محمد شاہ بخاری، دربار حقانی کے خلیفہ مجتبیٰ حسنین، شجاعت احمد صدیقی، احمد مہران گورایا ایڈوکیٹ، صاحبزادہ محمد بلال چشتی، محمد جنید احمد اور دیگر نے شرکت کی ۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پیر صاحبزادہ احمد عمران نقشبندی نے کہا کہ پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا ہے اور نفاذ نظام مصطفےٰﷺ کے لیے ہمارے اسلاف اور علما ء مشائخ نے قربانیاں دی ہیں ۔ آئین پاکستان کے تحت اسلام نے سب سے زیادہ اقلیتوں کو حقوق دیے ہیں ۔  آئین پاکستان کے تحت اسلامی فلا حی ریاست پاکستان میں اقلیتوں سمیت ہرقوم مذہب اور علاقے کے اقوام وعوام کو حقوق ملیں گے۔ ظلم جبر ناانصافی بدعنوانی کیخلاف اقلیتیں بھی عوام کیساتھ ہے ۔

مذید پڑھیں :جنوبی افریقی کرکٹر نے اہلیہ سمیت اسلام قبول کرلیا

درسی کتب سے ختم نبوت اوراسلامی مواد نکالنے کی سازش اقلیتیں نہیں اسلام و نظریہ پاکستان کے دشمن کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب بک بورڈ کی لازمی مضامین کی کتب سے دینی مواد کو صرف اسلامیات کی کتاب تک محدود کرنا نظریہ اسلام و پاکستان کیخلاف اور سمجھ سے بالاتر ہے، اردو کتب سے حمد و نعت کو صرف اس لیے مکمل طور پر ختم کرنا کہ چونکہ ان کتب کو اقلیت سے تعلق رکھنے والے بچے پڑھتے ہیں غلط ہے ۔

یہ دراصل بچوں کی دینی اسلامی تربیت کیخلاف سازش ہے، بچے بچپن سے ہی اسلامی ماحول کی طرف راغب ہوں ، اسلامی تعلیمات سے روشناس ہوں یہ عالم کفر برداشت نہیں کرتا ۔ عصری تعلیمی اداروں میں اقلیتوں کو اسلامیات کے بجائے اخلاقیات پڑھائی جا رہی ہے یہ بھی ٹھیک ہے لیکن دیگر تمام مضامین سے اسلامی تاریخ و ثقافت اور مذہب کے اسباق و مضامین نکالنا یہ کسی صورت قبول نہیں، اسلام کا کون سا ایسا سبق ہے جو اقلیت یا اس کے مذہب کو متاثر کرتا ہے ۔

دشمن نہیں چاہتے مسلمانوں کے بچے حقیقی مسلمان بنیں، اسلام سے ان کا تعلق بہتر ہو ملک میں اسلامی نظام اور نفاذ نظام مصطفےٰ ﷺ کی راہ ہموار ہو ۔ عالم کفر کسی صورت برداشت نہیں کرتا کہ پاکستان سمیت کسی بھی ملک کا سیاست، عدالت، معاشرت، معیشت اسلامی ہو اگر اس طرح ہوا تو یہ مثالی جدید اسلامی ترقی افتہ مملکت بنے گا ۔

مذید پڑھیں :کرونا وائرس سے بچاؤ کیلئے حکومتی اقدامات کی اشد ضروت ہے : صفدر خان باغی

علماء مشائخ اور 22 کروڑ عوام نہ صرف پاکستان بلکہ یہاں کے عدلیہ، سیاست، پارلیمان، جمہوریت بلکہ معیشت، معاشرت اور تعلیم کو قرآن و سنت کے تابع بنائیں گے تاکہ یہ دنیاکا جدید حقیقی اسلامی فلاحی مملکت بن سکے۔ انہوں نے کہا کہ تحفظ ناموس رسالت ؐ ہر مسلمان کے ایمان وعقیدے کا حصہ ہے ۔

موجودہ حکمرانوں کی جانب سے نبیؐ کی حرمت پر معاش کو ترجیح دینا شرمناک طرز عمل ہے ۔ ریاست کے معاملات نااہل افراد کے ہاتھو ں میں ہیں۔ نبیؐ کی محبت ہمارے ایمان کا حصہ ہے ان کی حرمت ہر مسلمان کے لیے اپنی جان،مال، اولاد اور گھرسے زیادہ اہم ہے ۔ قوم کو معاشی تنگی کا خوف دلانے کے بجائے حکمرانوں کی ذمے داری ہے کہ مسلمان حکمران ہونے کی حیثیت سے عوام کے جذبات کی ترجمانی کریں اور اپنے طرز عمل سے نوجوانوں کو مشتعل نہ کریں۔

علماء مشائخ نے مطالبہ کیا کہ گستاخ ملک کے سفیر کو ملک بدر اور معافی مانگنے تک فرانس حکومت سے تعلقات معطل کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ جس دن توہین رسالت قوانین کا درست استعمال شروع ہو گیا، لاقانونیت کا راستہ بند ہو جائے گا ۔

مذید پڑھیں :داؤد یونیورسٹی میں 14 مئی تک تعلیمی سرگرمیاں معطل

295C کو ختم کرنے کی سازش کرنے والے ملک دشمن خانہ جنگی چاہتے ہیں ۔ پارلیمنٹ عوام کی ترجمانی کرتی تو چوکوں، چوراہوں پر احتجاج کی ضرورت نہ ہوتی۔ ریاست اور عدلیہ کو اپنی ذمے داریاں پوری کرنا چاہیے ۔ آئین پاکستان میں ہر شہری کے برابر حقوق ہیں لیکن عملی طور پر سرمایہ دار کے لیے الگ اور غریب کے لیے الگ قوانین ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ 3 سال میں عمران خان مسائل کے سامنے کلین بولڈ ہوئے، غیر جانبدار ایمپائر ہی جہانگیر ترین اور اس جیسے دیگر بدعنوانوں کااحتساب کر سکتا ہے ۔ تمام پارٹیوں کا گند ایک جگہ جمع کر کے تبدیلی اور فلاحی ریاست نہیں بن سکتی ۔ حکومت اور اپوزیشن سمیت تمام ادارے بند گلی میں جاچکے ہیں، ملکی مسائل کوحل کرپشن، چور بازاری سے پا ک دیانتدار قیادت ہی کر سکتی ہے ۔ قوم نے 73 برسوں سے کرپٹ مافیا کو آزمایا جس کے باعث مسائل کا شکار ہوئی، ظالم جاگیردار اور کرپٹ سرمایہ دار اپنی دولت کی طاقت کی وجہ سے اقتدار پر قابض ہوجاتے ہیں۔ پاکستان کو ان ظالموں سے آزاد کروانے کے لیے طویل جدوجہد کی ضرورت ہے جس کے لیئے علماء مشائخ سمیت تمام دینی قوتوں کو ایک نکاتی ایجنڈے پر متفق ہوکر میدان عمل میں آنا ہو گا ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *