ممتازِ عالم دین و ادیب قاری نثار احمد منگی انتقال کر گئے

کراچی : ممتاز عالم دین، استاذ العلماء، شاعر اسلام اور جماعت اسلامی شکار پور کے سابق امیر قاری نثار احمد منگی انتقال کر گئے ۔

مرحوم کچھ دنوں سے علیل تھے ۔ ان کی نمازجنازہ آبائی گوٹھ سک پل میں صاحبزادے حافظ زبیر احمد کی امامت میں ادا کی گئی ۔ جس میں جماعت اسلامی سندھ کے نائب امراء پروفیسر نظام الدین میمن، ممتاز حسین سہتو، جنرل سیکرٹری کاشف سعید شیخ، جمعیت سندھ کے سابق ناظم ڈاکٹر شہاب الدین غازی، امیر ضلع عبدالرحمان منگریو ، مقامی امیر عبدالسمیع بھٹی، امیر ضلع لاڑکانہ ، قاری ابو زبیر جکھرو، ڈسٹرکٹ بار کے سابق صدر عبدالقادر ابڑو، سابق امیر ضلع شکار پور ، ڈاکٹر محمود الاہی ہکڑو، استاد صدرالدین مہر، جماعت اور جمعیت کے کارکنان سمیت دیگر علمی و ادبی شخصیات، معززین شہر، علمائے کرام اور قریبی رشتہ دار بڑی تعداد میں شریک تھے ۔

مرکزی نائب امیر اسداللہ بھٹو ، سندھ کے امیر محمد حسین محنتی، سیکرٹری اطلاعات مجاہد چنا نے قاری نثار احمد کی وفات پر دلی دکھ کا اظہار کیا ہے ۔ صوبائی امیر نے ٹیلیفون پر ان کے صاحبزادے حافظ زبیر احمد سے تعزیت کرتے ہوئے قاری نثار احمد کی وفات کو تحریک اسلامی کا ناقابل تلافی نقصان قرار دیا۔

مذید پڑھیں :قاری عثمان ایک اور مسجد بچانے کیلئے میدان میں آ گئے

صوبائی امیر نے کہا کہ مرحوم تحریک اسلامی کا قیمتی سرمایا تھے ۔ ان کی دینی علمی اور تحریکی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔جمعیت اتحاد العلماء سندھ کے صبدر حافظ نصر اللہ عزیز چنا اور ناظم اعلیٰ مولانا حزب اللہ جکھرو نے بھی استاذ العلماء قاری نثار احمد کی وفات پر دلی دکھ و افسوس کا اظہار کیا ہے ۔

85 سالا قاری نثار احمد منگی شکار پور میں دینی علوم کی تدریس سے وابستہ رہے، قاری صاحب جن اساتذہ کے شاگرد رہے ، ان میں علامہ علی محمد کاکیپوٹہ جو خود علامہ اقبالؒ کے فلسفے میں استاد تھے ۔ مولانا محمد اسماعیل عودویؒ نمایان ہیں ۔ انہوں نے سندھ یونیورسٹی سے 1972 میں ایم اے عربی میں گولڈ میڈل حاصل کیا ۔ اوائل میں دارالقران میں مدرس رہے ۔ اس کے بعد مدرسہ ضیاء القرآن کے مہتمم اور مسجد بیت المکرم کے خطیب رہے ۔

جماعت اسلامی کے پرانے اراکین میں سے تھے ۔ کئی ہزار شاگردوں نے ان سے استفادہ کیا ۔ چند روز پہلے شکار پور کے اسکالر اور سیرت نگار پروفیسر اسرار احمد علوی مرحوم کا بھی اس بابرکت مہینے میں انتقال ہوا ، علوی صاحب خود فرماتے تھے کہ جب کبھی عربی لغت اور علوم ادبیات عربی میں کہیں مشکل مقام آتا تو قاری نثار احمد سے رجوع کرتے ۔

مذید پڑھیں :دیسی لبرل سسر ، کٹھ ملا اور قائد اعظم

قاری صاحب سندھی زبان کے بلند پایہ شاعر تھے ۔ ان کا مجموعہ کلام ” کلام حافظ” مہران اکیڈمی شکار پور سے 2020 میں شایع ہو چکا ہے ۔ قاری نثار احمد منگی کا تخلص "حافظ ” تھا ۔قاری صاحب ساری زندگی فقر کی زندگی گزاری ۔ سارا دن لوگ ملنے آتے ، ان کی مہمان نوازی بھی بے مثل تھی ۔ شکارپور جماعت اسلامی کی علمی لحاظ سے ایک شناخت تھے ۔

جماعت اسلامی کے مخالفین کے ہاں بھی قابل احترام تھے ۔ شکارپور سندھ کا وہ شہر ہے، جہاں علم و ادب، عصری خواہ دینی علوم کے ماہر عالم پیدا ہوئے ۔ آج اسی شہر کا ایک اور علم کا روشن مینار بھی ہم سے جدا ہو گئے ۔ مرحوم نے پسماندگان میں 3 بیٹے ،4 بیٹیا ں اور ہزاروں شاگرد سوگوار چھوڑے ہیں ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *