سرکاری اراضی کی ڈھائی ارب میں لیز کا انکشاف

رپورٹ : محمد اصغر

صوبہ سندھ میں سرکاری اراضی کی بندر بانٹ کا بڑا اسکینڈل ایک بار پھر منظر عام پر آچکا ہے ، سندھ ریونیو ڈیپارٹمنٹ کے اہلکاروں نے کراچی کی سینکڑوں ایکڑ ارضی کو اونے پونے بیچ کر قومی خزانے کو ڈھائی ارب روپے سے زائد کا نقصان پہنچا دیا ہے ۔ صوبائی حکومت نے سرکاری اراضی کی بندر بانٹ کا سلسلہ پھر سے شروع کردیا ہے ، سندھ حکومت نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سرکاری اراضی کو 99 سال کی لیز پر دینے کا آغاز کردیا ہے ، کراچی میں ضلع ملیر میں 252 ایکڑ سرکاری ارضی کو 99 سالہ لیز پر دیے جانے کا انکشاف ہوا ہے .

محکمہ اینٹی کرپشن سندھ نے صوبے میں سرکاری اراضی کی بندر بانٹ کے خلاف 19 انکوائریاں مکمل کرلی ہیں ، انکوائری رپورٹس وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ کے حوالے کردی گئی ہیں ، جس میں ملزمان کے خلاف مقدمات درج کرنے کی سفارش کی گئی ہے محکمہ اینٹی کرپشن سندھ کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے سندھ حکومت سرکاری اراضی کی الاٹمنٹ پرپابندی لگانے کا حکم دے رکھا ہے سپریم کورٹ کے مطابق سندھ ریونیو ڈیپارٹمنٹ سرکاری اراضی کو 30 سال یا 99 سال تک کی لیز پر نہیں دے سکتا محکمہ اینٹی کرپشن سندھ نے سفارش کی ہے کہ سرکاری اراضی کی لیز سے حاصل کی گئی رقم ضبط کی جائے اور سرکاری اراضی کی لیز کو کالعدم قرار دیا جائے .

سندھ اینٹی کرپشن نے قبضہ مافیاز کی نشاندہی کردی ہے محکمہ ریونیو سندھ سے تمام تر ریکارڈ قبضے میں لے لیا گیا ہے اینٹی کرپشن سندھ کے مطابق سرکاری اراضی کی الاٹمنٹ میں انتہائی بے ضابطگیاں پائی گئی ہیں یہ زمینیں فراڈ کے ذریعے الاٹ کی گئی ہیں قبضہ مافیا نے سندھ ریونیو افسران کی ملی بھگت سے سرکاری اراضی لیز پر الاٹ کرا لی ہے جعل سازی سے زمینیوں کی الاٹمنٹ کے ذریعے 2 ارب 52 کروڑ روپے کا نقصان پہنچایا گیا .

انکوائری رپورٹ کے مطابق سندھ حکومت نے جولائی 2018 سے اگست 2019 تک سرکاری اراضی کی لیز کے 117 چالان جاری کیے ہیں جنہیں قبضے میں لے لیا گیا ہے سرکاری اراضی کو پہلے 30 سال کے لیے لیز پر دیا گیا جسے بعد میں 99 سال میں تبدیل کردیا گیا ہے لیز پر جاری کی گئی اراضی کا اصل ریکارڈ اور لیز کی رقم غائب کردی گئی ہے لیز پر دی گئی اراضی کا مقصد بھی نہیں بتایا گیا صوبہ سندھ میں منظم طریقے سے ایک پورا مافیا کام کررہا ہے .

انکوائری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اللہ دین بروہی کو اگست 2019 میں ملیر ٹاون کی 6 ایکڑ اراضی 99 سال کی لیز پر دے دی گئی اللہ دین بروہی نے محکمہ ریونیو سندھ کے اہلکاروں کی ملی بھگت سے سرکاری اراضی کی لیز حاصل کی اینٹی کرپشن سندھ نے سیکریٹری سندھ دانش سعید سیکشن آفیسر لئیق احمد ، مختیار کار گڈپ ٹاون صابر حسین میرانی اور اللہ دین بروہی کے خلاف انکوائری مکمل کرلی ہے
اینٹی کرپشن سندھ نے انکوائری رپورٹ میں کہا ہے کہ سندھ حکومت نے آمنہ بانو کو 40 ایکڑ ارضی لیز پر دیا جس کے چالان سے ظاہر ہوتا ہے کہ سابق سیکریٹری آفتاب احمد کے جعلی دستخط کیے گئے سرکاری اراضی صرف 35 لاکھ روپے فی ایکڑ پر لیز پر دی گئی جس کی قیمت بھی ادا نہیں کی گئی 2017 میں آمنہ بانو کے بیٹے واحد عبدالقادر نے قیمت کی معافی کی درخواست دی جسے منظور کرلیا گیا اینٹی کرپشن سندھ کے مطابق ملزمان سیکریٹری سندھ آفتاب احمد میمن سیکشن آفیسر غضنفر عباسی نے ملی بھگت سے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا علی اکبر ہنگرو ، خادم حسین کتریو ، حبیب اللہ کلواڑ اور واحد عبدالقادر کے خلاف کارروائی کی سفارش کردی ہے .

سندھ حکومت نے محمد جمیل اور محمد منصور کو ملیر کراچی میں 20 ایکڑ اراضی 99 سال کی لیز پر دی گئی آغا سراج احمد اسسٹنٹ کمشنر ریونیو بن قاسم کراچی ، خیر محمد ڈیہری ، موسی مورائی اور راغو بھیل کی ملی بھگت سے محمد جمیل اور منصور کو اراضی لیز پر دی گئی سرکاری اراضی صرف 8 لاکھ روپے فی ایکٹر پر لیز پر دی گئی .

عامر عباس کو 10 ایکڑ ، اعظم ایمپکس کو 5 ایکڑ رفیق احمد صدیقی کو 36 ایکڑ اور مسرور علی سیال کو 16 ایکڑ اراضی لیز پر دی گئی سیکریٹری لینڈ آفتاب احمد ، سیکشن آفیسر عمران حمید ، قاضی جان محمد ، آغا سراج احمد طفیل خاصل خیلی اور مشتاق احمد قریشی کی ملی بھگت سے اراضی لیز پر دی گئی .

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *