دو سے 3 فیصد طبقے کیلئے پورے نظامِ تعلیم کو ’’ڈکٹیٹ‘‘ کرنا ظلم ہے : اتحاد تنظیمات مدارس پاکستان

کراچی : اتحاد تنظیمات مدارس پاکستان کے مرکزی قائدین مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر ، مفتی منیب الرحمن ، پروفیسر ساجد میر ، مولانا عبد المالک ، علامہ سید ریاض حسین نجفی ،مولانا محمد حنیف جالندھری ،صاحبزادہ عبدالمصطفیٰ ہزاروی، مولانا محمد یٰسین ظفر ، ڈاکٹر مولانا عطاءالرحمن ، مولانا محمد افضل حیدری اور جامعہ دار العلوم کراچی کے نائب صدر مفتی محمد تقی عثمانی نے نصاب تعلیم کے متعلق اہم بیان جاری کیا ہے ۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ حال ہی میں سپریم کورٹ کے قائم کردہ ون مین کمیشن نے اپنی رپورٹ جاری کی ہے ، پھر اس کی متابعت (Follow up) میں پنجاب ہیومن رائٹس اینڈ مائنارٹی افیئرز ڈیپارٹمنٹ نے پنجاب کریکولم ٹیکسٹ بورڈ کو ہدایت جاری کی ہے کہ اسلامیات کے علاوہ دیگر مضامین کی نصابی کتب میں ،حمد ،نعت ،سیرت النبی اور دیگر دینی موضوعات پر مواد کی اشاعت پر پابندی لگائی جائے ۔

پنجاب ہیومن رائٹس کمیشن نے پنجاب کریکولم ٹیکسٹ بورڈ کو یہ ہدایات بھی جاری کردی ہیں کہ اسلامیات کے علاوہ دیگر مضامین کی نصابی کتب سے اسلام کی ان ساری علامات کو نکال دیا ہے ۔یہ ون مین کمیشن کی طرف اکثریت کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے اور اپنی انفرادی رائے مسلط کرنے کے مترادف ہے ۔

ملک کے نمائندہ قومی اقلیتی کمیشن نے جس میں تمام مذاہب کی نمائندگی ہے اس ون مین کمیشن کو نہ صرف تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے ، بلکہ اس کی اس انفرادی رائے کی پر زور مخالفت کی ہے کہ نصاب میں ایسی تبدیلی کی جائے ۔ اقلیتیں چاہیں تو اسلامیات کے مضمون کے متبادل اپنے طلبہ و طالبات کے لیے اپنے مذہبی اخلاقیات و تعلیمات پر مشتمل نصابی کتابیں مرتب کر کے نصاب میں شامل کرا سکتے ہیں، لیکن انھیں یہ حق نہیں دیا جا سکتا کہ پاکستان جیسے ملک میں جہاں پچانوے تا ستانوے فیصد تک آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے، دو تین فیصد آبادی پر مشتمل طبقہ پورے نظامِ تعلیم کو ڈکٹیٹ کرے، یہ جمہوری اقدار اور اکثریت کے مذہبی حقوق کے خلاف ہے۔

مذید پڑھیں :وفاق المدارس نے 4 لاکھ 3 ہزار 42 طلبہ کے نتائج کا اعلان کر دیا

کیا مشنری اداروں اور اشرافیہ کے لیے قائم جدید ترین تعلیمی اداروں کے نصاب کا کسی نے اس جہت سے جائزہ لیا ہے، ان کا تجزیہ کیا ہے، کیا سنگاپور ، ہانگ کانگ ، برطانیہ اور امریکا وغیرہ سے درآمد کردہ نصابی کتب کا کسی نے تفصیلی جائزہ لیا ہے، ان پر پابندی کا مطالبہ کیا ہے، اگر ہمارے حکمرانوں کی یہی روش رہی تو اس ملک میں دینی ومذہبی حقوق کے اعتبار سے پچانوے تا ستانوے فیصد مسلم آبادی اقلیت بن کر رہ جائے گی ۔

یہ انتہائی حساس معاملہ ہے اور ہمیں حیرت ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس کمیشن کی تشکیل کو متوازن نہیں بنایا تاکہ ایسی تجاویز سامنے آتیں جو سب کے لیے کسی نہ کسی درجے میں قابلِ قبول ہوتیں۔ ہم پنجاب حکومت، پنجاب مائنارٹی افیئرز ڈیپارٹمنٹ اور پنجاب کریکولم ٹیکسٹ بورڈ (PCTB) کو متنبہ کرتے ہیں کہ کسی ایسے اقدام سے پہلے اس کے بارے میں تمام طبقات کی آراء طلب کی جائیں ، صوبائی اسمبلیوں اور پارلیمنٹ کی متعلقہ کمیٹیاں ان پر عمیق نظر سے غور و فکر کریں تاکہ ملک میں انتشار پیدا نہ ہو، پاکستان میں اقلیتیں محفوظ ہیں ، انھیں تمام آئینی اور قانونی حقوق حاصل ہیں، لیکن ان کو بھی غالب ترین اکثریت کے دینی اور مذہبی جذبات کا پاس رکھنا ہو گا ۔

مذید پڑھیں :شعیب سڈل نصاب سے اسلامی مواد کیوں نکلوانا چاہتے ہیں ؟

اگر یہ پالیسی جاری رہی تو ایک وقت آئے گا کہ یہ مطالبہ کیا جائے گا کہ تحریک پاکستان ، متحدہ برصغیر پاک وہند کی تقسیم اور قیامِ پاکستان کے اسباب اور تاریخِ پاکستان کو ہمارے قومی نصاب سے خارج کر دیا جائے ، کیونکہ یہ دوقومی نظریے پر مبنی ہے اور اس سے اقلیتوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہے، نیز آگے چل کر یہ مطالبہ بھی آ سکتا ہے کہ دستورِ پاکستان سے قرآن وسنت کی بالادستی اور دیگر آرٹیکلز کو نکالا جائے ۔ اگر روزِ اول سے اس سازش کا سدِّباب نہ کیا گیا تو آگے چل کر یہ اقدامات بڑے پیمانے پر ملک میں انتشار کا باعث بنیں گے، جب کہ ملک پہلے ہی سیاسی انتشار کی زد میں ہے ،اس لیے دانش مندی کا تقاضا یہ ہے کہ شروع ہی سے اس کا سدِّباب کیا جائے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *