ہفتہ, نومبر 26, 2022
ہفتہ, نومبر 26, 2022
- Advertisment -

رپورٹر کی مزید خبریں

پاکستاناسلام آبادشعیب سڈل نصاب سے اسلامی مواد کیوں نکلوانا چاہتے ہیں ؟

شعیب سڈل نصاب سے اسلامی مواد کیوں نکلوانا چاہتے ہیں ؟

رپورٹ/عمر فاروق

اسلام آباد : اقلیتوں کے حقوق سے متعلق 2014 میں سپریم کورٹ کی جانب سے کیئے جانے والے ایک فیصلے پر عمل درآمد کے لیے ایک رکنی اقلیتی کمیشن بنایا گیا تھا ۔ جس کے سربراہ شعیب سڈل ہیں ۔ شعیب سڈل نے 30 مارچ کو یکساں قومی نصاب کے حوالے سے ایک رپورٹ جمع کروائی ہے ۔ جس میں انہوں نے تجویز دی ہے کہ یکساں قومی نصاب (سنگل نیشنل کریکولم) کے مختلف مضامین ( اردو، انگریزی، جنرل نالج وغیرہ) میں شامل تمام اسلامی اور مسلمانوں کے حوالوں کو نکال کر اسلامیات یا اسلامک اسٹڈیز کی کتب میں شامل کیا جائے کیونکہ یہ مضمون خصوصی طور پر مسلمان طلبہ کیلئے ہیں ۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سنگل نیشنل کریکولم کے تناظر میں دیکھیں تو اسلامی مواد کا اردو اور انگریزی کی کتب میں ہونا مذہبی ہدایت دیئے جانے میں شمار ہوتا ہے اور کسی بھی غیر مسلم کو یہ مواد پڑھنے کیلئے مجبور نہیں کیا جا سکتا ۔

انہوں نے مزید لکھا کہ آئین کی شق 22 کے مطابق تعلیمی اداروں میں پڑھائے جانے والے لازمی مضامین جیسا کہ اردو، انگریزی اور معلوماتِ عامہ کی کتب سے حمد، نعت، حضور پاک صلی اللہ علیہ و سلم، خلفائے اسلام ، اسلامی تاریخ کی نامور شخصیات اور مسلمانوں کے حوالے سے تاریخی حوالہ جات ختم کیے جائیں ۔

کمیشن نے اقلیتی حقوق کیلئے جدوجہد کرنے والے کئی اسکالرز اور سرگرم سماجی کارکنوں کے تحفظات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ لازمی مضامین میں اسلامی مذہبی مواد کا شامل کیا جانا اقلیتی طلبہ کو اسلامی مذہبی تعلیمات حاصل کرنے پر مجبور کرنے کے مترادف ہے۔
کمیشن نے پہلی تا پانچویں جماعت تک کے نصاب میں اردو، انگریزی اور جنرل نالج کے مضامین میں سے اسلام، اسلامی ہستیوں، ہیروز اور ہر قسم کے اسلامی مواد کی نشاندہی کرتے ہوئے اسے ان مضامین میں سے نکالنے کی سفارش کرتے ہوئے اسے صرف اور صرف اسلامیات میں شامل کرنے کی تجویز دی ہے ۔

مذید پڑھیں :وفاق المدارس نے 74605 حُفاظِ قرآن کے نتائج جاری کر دیئے

یعنی اسلامیات کے علاوہ کوئی اسلامی حوالہ یا مواد ہمارے نصاب میں شامل کسی دوسرے مضمون کا حصہ نہیں ہونا چاہئے ۔ تاہم وزارتِ تعلیم کے عہدیدار نے کمیشن کی رپورٹ سے عدم اتفاق کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہدایات پہلے ہی ٹیچرز کیلئے دے دی گئی ہیں کہ اقلیتی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو اسلامی نصاب پڑھنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا ۔ نہ ہی غیر مسلم طلبہ کا امتحان اسلامی مواد سے لیا جائے گا ۔

لیکن کمیشن نے وزارتِ تعلیم کے افسر سے اتفاق نہیں کیا اور لکھا کہ وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ غیر مسلم طلبہ کو اسلامی مواد پڑھنے سے علیحدہ کیسے رکھا جا سکتا ہے ۔ خصوصا اس وقت جب یہ مواد لازمی مضامین میں شامل کیا گیا ہے اور وہ بھی اس وقت جب پرائمری اسکولز میں ایک ٹیچر ہوتا ہے یا پھر ایک کمرہ ہوتا ہے یا پھر دونوں ہوتے ہیں ۔

کمیشن نے اپنے مشاہدات میں لکھا ہے کہ آرٹیکل 22(1) میں واضح طور پر لکھا ہے کہ کسی بھی ایسے طالب علم کو وہ مذہبی تعلیمات نہیں دی جا سکتی ، جن کا اس کے مذہب سے تعلق نہ ہو ۔ کمیشن نے یہ بھی لکھا کہ سنگل نیشنل کریکولم کے تناظر میں دیکھا جائے تو انگریزی اور اردو کی کتب میں اسلامی مواد کا ہونا مذہبی تعلیمات دینے کے زمرے میں آتا ہے اور کسی بھی غیر مسلم طالب علم کو اسے پڑھنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا ۔

واضح رہے کہ جس کے بعد سپریم کورٹ نے 31 مارچ کو وزارت تعلیم و پروفیشنل ٹریننگ کی رپورٹ مسترد کر دی اور عدالت نے سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ وزارت تعلیم کی یکساں نصاب سے متعلق رپورٹ اطمینان بخش نہیں ہے ۔ اب وزارت تعلیم نصاب میں کیا تبدیلیاں کرتی ہے یہ جلد واضح ہو جائے گا اور یہ ہے وہ خوفناک سازش جو ہمارے نصاب تعلیم کے ساتھ کی جا رہی ہے ۔

مذید پڑھیں :ایدھی فائونڈیشن نے بھارت کو بڑی پیش کش کیوں کی ؟

معلوم رہے کہ عمران خان نے دیگر نعروں کی طرح یکساں نصاب تعلیم کا بھی اعلان کیا تھا ۔ چنانچہ یکساں نصابِ تعلیم مرتب کرنے کے لیے وفاقی وزارتِ تعلیم کے زیر انتظام ”نیشنل کریکولم کونسل بنائی حکومت نے نیشنل کریکولم کونسل کے اراکین میں شہزاد رائے جیسے مشہور گلوکار اور دیگر این جی اوز کے نمائندے بھی شامل کرنے کا بھی اہتمام کیا گیا ہے ۔ موصوف سکولوں میں جنسی تعلیم کے علمبردار ہیں ۔ جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وولڈ بینک کے وسائل سے تیار کردہ نصاب کیسا ہو گا ۔

ذرائع کا دعوی ہے کہ ”نیشنل کریکولم کونسل نے ہر مضمون کے نصاب کے لیے جو رہنما خطوط وضع کیے ہیں، وہ تقریبا یکساں ہیں اور ان کا مرکزی خیال لبرل سیکولر ذہن تیار کرنا ہے مگر اس کے باوجود نصاب تعلیم کی بربادی میں جو کمی رہے گئی تھی ۔ وہ اب اقلیتی کمیشن کو آگے کر کے پوری کی جا رہی ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلیاں پہلے سے طے شدہ تھیں مگر اس کے لیے شعیب سڈل اور این جی اوز کے تحفظات کو جواز بنایا جا رہا ہے ۔

ذرائع کا کہنا یے کہ یکساں نصاب تعلیم کے حوالے سے شعیب سڈل ، اقلیتی کمیشن کی سفارشات وہی ہیں جو چند سال قبل امریکی این جی او پیس اینڈایجوکیشن نے پیش کی تھیں ، نصاب کی تیاری (کیریکولم ڈویلپمنٹ) کے عنوان پر امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی (یو ایس سی آئی آر ایف) نے پیس اینڈ ایجوکیشن (پی ای ایف) کی مشاورت کے ساتھ پاکستانی نصاب میں اپنی پیش کردہ تجاویز کو شامل کرنے پر اصرار کیا تھا ۔ جس میں واضح طور پر کہا گیا تھا کہ نصاب میں صرف اسلام کے بطورِ واحد دینِ حق بیان کرنے کو ختم کیا جائے اور اقلیتوں کے ہیروز کا ذکر بھی مناسب حد تک شامل کیا جائے ۔

مذید پڑھیں :واٹر بورڈ :طاقتور ترین افسر ایوب شیخ کی KWSSIP کی PD شپ ختم

پاکستان کے نصاب تعلیم میں 2010 اور 2011 میں انٹرنیشنل سینٹر فار ریلیجن اینڈ ڈپلومیسی (آئی سی آر ڈی) نے پاکستان کے پرائمری اور سیکنڈری تعلیمی نظام کا جائزہ لیا اور اساتذہ، جماعت کے ساتھیوں اور نصاب میں مذہبی اقلیتوں بالخصوص ہندوئوں اور مسیحی افراد کے ساتھ روا رکھے جانے والے تعصب اور عدم برداشت کی آڑمیںملک کے نصاب کے خلاف زہریلی اور خوفناک رپورٹ شائع کی تھی ۔اس رپورٹ کی روشنی میں ہمارے بہی خواہوں نے کتب میںمتعدد تبدیلیاں کیں ۔

پیس اینڈ ایجوکیشن نامی اسی این جی او کی سفارشات کی بنیاد پر پنجاب اور خیبر پختونخوا کے سرکاری اسکولوں کی نصابی کتب میں تبدیلیاں کی گئیں ۔ جس پر وقتا فوقتا احتجاج ہوتا رہا ہے ۔ ان این جی اوز کی آزادی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ای ای ایف کے سربراہ ڈاکٹر اظہر حسین اور ان کی تنظیم نے پی ٹی آئی کے پچھلے پانچ سالہ دورحکومت میں خیبر پختونخوا کے کئی دورے کیے اور ایلیمنٹری اور سیکنڈری تعلیم کی وزارتوں کے حکام سے ملاقات کر کے انہیں پاکستان میں تعلیم اور مذہبی امتیاز کی جعلی رپورٹس فراہم کیں اور ان سے درخواست کی کہ نصابی کتب سے تعصب پر مشتمل مواد خارج کیا جائے ۔

اس کے علاوہ ڈاکٹر اظہر حسین نے گورنر پنچاب چوہدری سرور سے بھی ملاقات کی اور انہیں نصابی کتب سے تعصب اور عدم برداشت پر مشتمل مواد خارج نہ کیے جانے کی صورت میں اقلیتوں کیخلاف ممکنہ تشدد کے خطرات سے آگاہ کیا۔ اب موجودہ حکومت انہی سفارشات کی روشنی میں یکساں نصاب تعلیم تیار کر رہی ہے مگر اس پر بھی این جی او مافیا خوش نہیں ۔ ان کی کوشش ہے کہ نصاب تعلیم سے ہرصورت اسلامی تعلیمات کا اخراج کیا جائے ۔

ویب ڈیسک
ویب ڈیسکhttps://www.alert.com.pk
شاکر احمد خان نوجوان صحافی ‛ بلاگر اور سماجی کارکن ہیں۔ حال ہی میں جامعہ کراچی سے شعبہ ابلاغ عامہ میں ماسٹر کیا ہے۔ وفاق المدارس کے بھی فاضل ہیں۔ آپ ایک بہترین معلم بھی ہیں۔ سماجی و معاشرتی مسائل سے متعلق لکھتے ہیں۔
متعلقہ خبریں

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا