دیوبندی مکتبہ فکر کا سیاسی اثر ختم کرنے کیلئے TLP کو میدان میں اتارنے کا فیصلہ

رپورٹ:آغا خالد

جے یو آئی کے دھرنے کو بے اثر کرنے کے لئے دیو بندی مکتبہ فکر کے خلاف بریلوی مکتبہ فکر کو فعال کرنے کیلئے تحریک لبیک کو ایک بڑے جلسے کا ٹاسک دیا گیا ہے ، جو مینار پاکستان پر 2 نومبر کومنعقد کیا جائےگا .اور یہ جلسہ پی ٹی آئی کے 2013 کے جلسے کو بھلا دے گا .

اس جلسے میں دو لاکھ کرسیاں رکھنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے جبکہ پی ٹی آئی ، مسلم لیگ ق لیگ ، شیخ رشید گروپ اور ایم کیو ایم کو بھی جلسے کو کامیاب بنانے کیلئے افرادی قوت فراہم کرنے کیلئے کہا گیا ہے ، چہ جائے کہ ان میں سے کوئی جماعت بھی تحریک لبیک کے جلسے میں معاونت کی تصدیق نہیں کررہی مگر ذمہ دار ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے جے یو آئی اور دیوبندی طبقہ کو کارنر کرنے کا اب حتمی فیصلہ کرلیا ہے .

اس سلسلے میں پیدا ہونے والے خلاء کو بریلوی طبقہ سے پر کیا جائے گا ، جبکہ انتظامیہ کو اس سلسلے میں بعض مسائل کا سامنا بھی تھا کہ 27 اکتوبر کے دھرنے میں جانے والے اور ان کے برعکس تحریک لبیک کے جلوس اور جلسوں میں شرکت کرنے والوں کا حلیہ ملتا جلتا ہوگا . اس طرح گرفتاریوں میں پولیس کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا .

تاہم اس کا حل یہ نکالا گیا کہ تحریک لبیک 31 اکتوبر سے جلسے جلوس شروع کرے گی اور اس کے کارکن بھی لاہور پہنچنے کیلئے 31 کے بعد ہی روانہ ہوں گے ، جبکہ ریلوے کے ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ جلسے میں شرکت کرنے والوں نے اتنے بڑے پیمانے پر بکنگ کروائی ہے کہ اس سے دو مزید ٹرینیں چلائی جا سکتی ہیں .

حکومت اس سلسلے میں بھی غور کررہی ہے کہ کراچی سے دو یا اس سے زائد مزید اسپیشل ٹرینیں چلائی جائیں جو جلسے میں شرکت کے خواہش مندوں کو لاہور تک پہنچائیں .تحریک لبیک نے دوسری جماعتوں سے تعاون لینے کی تردید کی ہے ، تاہم اس کے ذرائع نے دعوی کیا ہے کہ 2 نومبر کا جلسہ تاریخی اہمیت کا حامل ہوگا جو ملک میں مذہبی سیاست کا رخ نئے سرے سے متعین کریگا.

معلوم رہے کہ حکومت دیوبندی مکتبہ فکر کے طاہر اشرفی سمیت دیگر علما کو ساتھ ملانے کےباوجود بھی ناکام ہو چکی ہے کہ وہ مولانا فضل الرحمن کی طاقت کو کم کرسکے اور دیوبندی مکتبہ کی اہمیت کو کم کر سکے .

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *