مفتی کفایت اللہ کیوں گرفتار کئے گئے ہیں ؟

جمعیت علمائے اسلام کے رہنما مفتی کفایت اللّٰہ کی گرفتاری کیوں عمل میں لائی گئی ہے ؟ اس حوالے سے ابتدائی طور پر ملنے والی معلومات کے مطابق مفتی کفایت اللہ کی گرفتاری ڈپٹی کمشنر مانسہرہ کے حکم پر عمل میں لائی گئی ہے .

ڈپٹی کمشنر مانسرہ کیپٹن ریٹائرڈ اورنگزیب حیدر کی جانب سے جاری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ مفتی کفایت اللّٰہ آزادی مارچ کے لیے چندہ اکٹھا کر رہے تھے اور کارنر میٹنگز بھی کر رہے تھے۔

حکم نامے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مفتی کفایت اللّٰہ کو عوامی تحفظ کے لیے تھری ایم پی او کے تحت گرفتار کیا جائے اور 30 روز کے لیے ہری پور سینٹرل جیل میں رکھا جائے گا .

ڈپٹی کمشنر مانسہرہ نے گزشتہ روز پولیس کو یہ حکم نامہ جاری کیا تھا ، جس پر مانسہرہ پولیس نے رات گئے اسلام آباد میں چھاپہ مار کر مفتی کفایت اللّٰہ کو گرفتار کیا تھا، جمعیت علمائے اسلام ف کی جانب سے بھی مفتی کفایت اللّٰہ کی گرفتاری کی تصدیق کی گئی تھی۔

ڈپٹی سیکریٹری اطلاعات جے یو آئی ف اسلم غوری کے مطابق مفتی کفایت اللّٰہ کو گزشتہ رات اسلام آباد کے سیکٹر ای الیون سے گرفتار کیا گیا۔ مانسہرہ پولیس نے مفتی کفایت اللّٰہ کو تھری ایم پی او کے تحت اسلام آباد سے گرفتار کر کے ہری پور جیل منتقل کر دیا ہے۔

جمعیت علمائے اسلام کے حلقے اس حوالے سے خدشہ ظاہرکررہے ہیں کہ اس وقت میڈیا پر دو ہی بڑے لیڈر مخالفین میں اپنا موقف بیان کررہے تھے جن میں سابق سینیٹر حمداللہ اور مفتی کفایت اللہ شامل ہیں ،تاہم حمداللہ کی شہریت ہی ختم کرکے ان کو ٹی وی ٹاک شوز پر پابندی عائد کردی گئی ہے جبکہ مفتی کفایت اللہ نے حالیہ دنوں میں میڈیا پر جارحانہ انداز میں ریٹائرڈ فوجی افسران کے خلاف ٹاک شوز میں حصہ لیا تھا ، یہی وجہ ہے ان دنوں آوازوں کے مالکان کو ناجائز بہانہ بناکر میڈیا سے ہٹایا گیا ہے .

ادھر مفتی کفایت اللہ کے اہل خانہ اور جے یو آئی کے زمہ داروں نے ان کی نظر بندی کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے .

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *