فشریز اور EOBI میں وزرا کے چہیتے 2 افسران کا راج

رپورٹ : آغا خالد

سندھ کابینہ میں ممکنہ تبلیوں کا فیصلہ فل حال رل گیا ہے ، کیونکہ اس مسلے پر باپ بیٹے میں اختلاف پیدا ہو گیا ہے ۔ بلاول کابینہ میں تبدیلیوں کے مخالف ہیں اور وہ اسی کابینہ کے ساتھ 5 سالہ مدت پوری کرنا چاہتے ہیں ۔ جب کہ مرد حر آصف علی زرداری صوبے میں اپنا اثر و نفوذ بڑھانے کے خواہش مند ہیں ۔ نیب کے ریفرنسز میں سختی کم ہونے اور اس میں مزید کمی کی یقین دہانیوں کے بعد ان کی طبیعت بھی سنبھل گئی ہے اور وہ آج کل چال ڈھال میں سیاسی برتری کے ساتھ چوکڑیاں بھر رہے ہیں ۔ ہاتھ سے چھڑی بھی چھوٹ گئی ہے اور وہ طاقت وزراء کی پرسنل رپوٹس پر ان کی کلاس بھی لے رہے ہیں اور انھیں بدلنے کا بھی فیصلہ کر لیا تھا ۔ جس کی بھنک ملتے ہیں ۔ ایسے وزراء نے بلاول بھٹو کے دربار میں حاضریاں لگوائیں اور اپنی وزارت بدلنے کی دہائیاں دیں ۔

بلاول اپنے والد کے بعض فیصلوں سے اختلاف کے باوجود ایسے مواقع پر خاموش احتجاج یا ناراضگی کا اظہار کرتے ہیں مگر اس مرتبہ انھوں نے اپنے تعینات کردہ وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کے ذریعے آجتماعی پیغام بھیجوایا کہ جو اپنی وزارت بچانا چاہتا ہے ۔ وہ ڈھائی سالہ کارکردگی پیش کرے ۔

یوں ملاقاتی وزراء کا تانتا بندھ گیا اور رپورٹوں کےڈھیر لگ گئے اور ایسی بھاری بھر کم رپوٹوں کو بیٹے نے باپ کو دکھاتے ہوئے وازارتیں تبدیل کرنے کی وجوہ جاننا چاہی یوں ۔ باپ بیٹوں میں سوچ کے پہلے سے موجود فاصلوں میں اضافہ ہوا اور بڑے پیمانے پر کابینہ میں اکھاڑ بچھاڑ کو فل حال بریکیں لگ گئیں ۔

تاہم ذرائع دعوی کر رہے ہیں کہ اب اگر تبدیلیاں کی بھی گئیں تو وہ بہت زیادہ نہیں ہوں گی ۔ اس طرح کئی وزراء بلاول کی خوش نودی حاصل کر کے اپنی کرسی بچانے میں کامیاب ہو گئے ۔ جب کہ دوسری طرف سندھ میں مالی اسکینڈلز کی بھرمار ہے اور کرپشن روکنے والے کئی ادارے اپنے معاملات طے کر کے لمبی نیند لے رہے ہیں ۔ ایسے جس افسر یا شخص میں معاملات طے کرنے کی صلاحیت ہے ، اس کی پانچوں گھی اور سر کڑاہی میں ہے ۔ایسے ہی حکمراں جماعت کے ایک بڑے وکیل کے داماد کا شرف حاصل کرنے والے عام شخص نے ایک بڑا سرکاری عہدہ حاصل کر کے کس طرح لوٹ سیل لگائی ۔ اس کی تفصیل پڑھیں اور اگر رتی بھر بھی حب الوطنی موجود ہے تو اپنی انگلیاں دانتوں میں چبائیں ۔

مذید پڑھیں :کراچی: EOBI کے سابق و متنازعہ چیئرمین کو سول ایوارڈ دلوانے کی کوشش

یہ کراچی میں مچھلی کی صنعت کے سب سے بڑے اور اہم ادارے فشرمین کوآپریٹو سوسائٹی کےحال ہی میں ہٹائے گئے ۔ چیرمین عبدالبرکی کہانی ہے ۔ ان کے 4 سالہ دور میں پونے دو ارب کی بدعنوانی کی تحقیقات نیب نے شروع کی ہے ۔ اس سلسلہ میں نیب کی ڈپٹی ڈائرکٹر انویسٹی گیشن 111 سیدہ رومالا نقوی کے دستخط سے سیکریٹری لائیو اسٹاک اینڈ فشریز کو 7 اپریل کو نوٹس بھیجا گیا ہے ۔ جس میں عبدالبر کے دور میں ہونے والی بھرتیوں، مالی آمدن اور اخراجات کا تصدیق شدہ مکمل ریکارڈ فراہم کرنےکی ہدایت دی گئی ہے۔

نیب کو فشرمین سوسائٹی کے سابق ڈائریکٹر خان میر کی جانب سے فراہم کردہ دستاویزات کے مطابق سمندر سے پکڑی جانے والی مچھلی کیکڑا اور جھینگے سمیت دیگر سی فوڈ سے سیزن کے 4 ماہ میں 35 سے 40 کروڑ آمدن ہوتی ہے ۔مگر پہلے تو عبد البر نے آتے ہی آمدن زیرو دکھائی اور ادارے کے 48 کروڑ کے جمع فنڈز پر 3 ماہ کی قلیل مدت میں ہاتھ صاف کیا ۔

بعد ازاں 10 کروڑ کے وہ فنڈز جو پائپ لائن میں تھے وہ بھی اللے تللوں میں اڑا دئے جس مارکیٹ کی مرمت پر عبدالبر نے 12 کروڑ خرچ کرنے کا دعوی کیا اس کے تھرڈ پارٹی سروے میں کل اخراجات چند ہزار ہی نکلے ۔ فشرمیں کوآپریٹوسو سائٹی کی ایمپلائز یونین کے ممتاز رہنما سعید بلوچ کا کہنا ہے کہ سی فوڈ کےحوالے سے جنوری سے اپریل تک کے چار ماہ انتہائی اہمیت کےحامل ہوتے ہیں ۔ جس میں ادارے کو ہر سال 30 سے 40 کروڑ آمدنی ہوتی ہے ۔ مگر عبدالبر نے پہلے سیزن کو زیرو دکھایا پھر یونین کے احتجاج پر اسے پہلی بار قانون سے ماورا ایک پارٹی کو 50 لاکھ سالانہ ٹھیکے پر دیدیا اور بقیہ رقم جیب میں ڈال لی ۔

یوں 4 سال تک وہ ادارےمیں من مانیاں کرتے رہے ۔انھوں نے نیب کو بتایا کہ سندھ حکومت کی جانب سے ادارہ میں علیم لاشاری کو ایڈمنسٹریٹر کا چارج دیا گیا جو پہلے ہی ڈی جی کلچرل تعینات ہیں ۔ انہیں اس اسکینڈل زدہ محکمہ میں کوئی دلچسپی بھی نہیں ، پھر بھی چارج لیتے ہی انھوں نے صورت حال معلوم کی تو بقول ان کے وہ پریشان ہو گئے ۔ خزانہ خالی تھا اور ملازمیں کی تنخواہیں سر پر تھیں پھر دو روز بعد رمضان شروع ہونے والا تھا اور پھر عید تھی ۔ اس لئے انھوں نے سابقہ چیرمیں سے ادارہ کو ٹھیکہ پر لینے والون پر سختی کی تو تین روز کے اندر ڈیڑھ کروڑ جمع ہو گئے ۔

مذید پڑھیں :زلفی بخاری کی ایما پر EOBI میں گریڈ 21 کا افسر جعل سازی سے لانے کی تیار

تاہم ان کا کہنا ہے کہ وہ سابقہ انتظامیہ کے معاہدوں کے باعث کر بھی کچھ نہیں سکتے ۔ سابقہ ڈائریکٹر و ممبر سوسائٹی خان میر کا کہنا ہے کہ ٹھیکیدار فی ٹرالی سوا 6 پرسنٹ پر ٹیکس لیتا ہے مگر اب ڈیڑھ پرسنٹ بمشکل ٹیکس دکھایا جا رہا ہے ۔ جب کہ ٹریش فش کی روزانہ 85/90 گاڑیاں جاتی ہیں ۔ ہر گاڑی کا گیٹ پاس ساڑھے 4 ہزار کا بنتا ہے ۔ 3 لاکھ روپیہ سے زائد آمدن تو یہی سیدھی سادی خورد برد کی جا رہی ہے ۔

جب کہ اکثر ٹرالیوں کا گیٹ پاس ہی نہیں بنتا تا کہ خرد برد کا کوئی ثبوت ہی نہ رہے۔ تاہم انھوں نے نیب کو درخوست دی ہے کہ اس گھپلے کو آسانی سے پکڑنے کے لئے وفاقی حکومت کے ادارے میرین فشریز کے اعداد و شمار دیکھ لیں اگر اس ادارے کی رپورٹ میں روزانہ 100 ٹرالی سمندری مخلوق کے اترنے کا ریکارڈ موجود ہےتو ٹھیکیدار زیرو آمدن کیسے دکھا رہا ہے ۔

فشرمین کے اپنے ریکاڈ کے مطابق 2013/14 میں 34 کروڑ کی سیزنل آمدن ہوئی تھی ۔ جب مچھلی بھی سستی تھی اور جھینگا بھی سستا تھا جبکہ اب 3 ماہ سے آمدن زیرو دکھائی جا رہی ہے۔ حالانکہ یہ تینوں ماہ سیزن کے ہیں ۔  یہ بھی یاد رہے کہ فشرمین سوسائٹی کے دو سابق چیرمیں نثار مورائی اور عبد السعید پہلے ہی نیب ریفرنسز کی وجہ سے جیل میں ہیں ۔ جب کہ نثار مورائی نے چارج لیا تو محکمہ کے خزانہ میں 9 لاکھ جب کہ سعید کے چارج کے وقت 14 لاکھ تھے ۔پھر بھی کروڑوں کے ہیر پھیر میں جیل گئے اور اب کئی برس کی سزا بھی ہو چکی ہے۔

جب کہ محترم عبد البر نے تو قارون کےخزانہ کا چارج لیا اور 3 ماہ میں 58 کروڑ ٹھکانے لگا گئے نیب پھر بھی سوتا رہا ۔ عبدالبر پی پی کے ایک ممتاز وکیل کے داماد ہونے کی وجہ سے 2016 میں یہ عہدہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے تھے۔ حالانکہ یہ عہدہ ادارہ میں باقاعدہ الیکشن لڑ کر حاصل کیا جاتا ہے اور 3 سال کے لئے ہوتا ہے ۔

مذید پڑھیں :کراچی : EOBI کے DG نے 17 افسران و ملازمین کے تبادلے کر دیئے

ان کی مدت 2020 کے پہلے دو ماہ میں پوری ہو گئی تھی مگر وہ 2021 تک اس عہدہ پر براجماں رہے ۔ یہ تو تھی سندھ کے ایک محکمہ کی روئداد اب آتے ہیں ایماندار خان کی وفاقی حکومت کے اس محمہ کی طرف جو غیر سرکاری محکوں سے ریٹائرڈ ہونےوالے چھوٹے درجہ کے ملازمین معذور بیوائوں کی مدد کے لئے بنایا گیا تھا ۔ اس محکمہ ای او بی آئی کے سابق چیئرمین اظہر حمید کی دوبارہ تقرری کے لئے وزارت سمندر پار پاکستانی و ترقی انسانی وسائل نے نہایت مشکوک انداز میں 3 اپریل کو صرف ایک اخبار میں غیر نمایاں انداز سے اشتہار شائع کرایا گیا ۔ جب کہ مقررہ طریقہ کار کے مطابق کسی بھی نوعیت کے سرکاری اشتہار کو کم از کم دو کثیر الاشاعت اردو اور انگریزی اخبارات میں شائع کرانا لازمی ہوتا ہے ۔ حیرت انگیز طور پر یہ اشتہار خصوصی طور پر اظہر حمید کو کھپانے کے لئے تیار کیا گیا ہے، جو وزیر کے لاڈلے سمجھے جاتے ہیں ۔

اظہر حمید کے مخالفین کے بقول ایسی آسامیوں کے لئے طے شدہ طریقہ کار سے ہٹ کر اس آسامی کے اشتہار کو بھی ان کی عمر اور تجربہ کو سامنے رکھ کر تیار کیا گیا ہے ۔ جب کہ قوانین کے مطابق کسی بھی سرکاری عہدہ کی اسامی کے لئے درخواستیں ارسال کرنے کے لئے کم از کم 15 یوم کی میعاد مقرر کی جاتی ہے ۔ لیکن اس ضمن میں نہایت عجلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے درخواستوں کی طلبی کے لئے صرف 10 یوم کی مختصر مدت مقرر کی گئی ہے ۔

دوسری جانب یہ اشتہار جس سیکشن افسر ڈاکٹر جبران حسین کی جانب سے شائع ہوا ہے وہ خود بھی ای او بی آئی کے سابق اسسٹنٹ ڈائریکٹر آپریشنز تھے اور ان کی تعیناتی ریجنل آفس حسن ابدال میں تھی مگر وہ بھی کسی بڑی سفارش کی بدولت اپنی تقرری وزارت میں بطور سیکشن افسر کروانے میں کامیاب ہو گئے تھے ۔ لیکن اس کے باوجود جبران حسین خلاف ضابطہ تنخواہیں اور پرکشش مراعات اب بھی ای او بی آئی سے حاصل کر رہے ہیں ۔ جبکہ ای او بی آئی کے ملازمتی قوانین مجریہ 1980 کے تحت ادارہ کا کوئی ملازم کسی اور محکمہ میں ملازمت اختیار کرنے کا مجاز نہیں ۔

مذید پڑھیں :چیئرمین EOBI اظہر حمید کی ممکنہ تقرری چیلنج کرنے کی تیاری

حیرت انگیز طور پر معمولی علمی استعداد کے حامل جبران حسین نے حال ہی میں دوران ملازمت ملائشیاء کی ایک یونیورسٹی سے گھر بیٹھے فلسفہ میں پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی حاصل کر لی ہے اور قطع نظر اس کے کہ فلسفہ کی اس ڈگری سے غریب محنت کشوں کے ادارہ کو کیا فائدہ پہنچے گا لیکن جبران حسین نے اس پی ایچ ڈی کی بنیاد پر ای او بی آئی سے 15000 روپے پی ایچ ڈی الاؤنس حاصل کرہےہیں واضح رہے کہ اظہر حمید کی ای او بی آئی میں 3 برس کے کنٹریکٹ پر دوبارہ تعیناتی کے لئے اظہر حمید نے 2 دسمبر 2020 کو ادارہ کے بورڈ آف ٹرسٹیز کا ہنگامی اجلاس طلب کر کے اور بورڈ آف ٹرسٹیز کے ارکان کو گمراہ کرکےاپنی 3 برس کے لئے کنٹریکٹ پر تقرری کی سفارش کرائی تھی جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ایک تو موجودہ بورڈ کی دو برس کی مدت 2015 میں ختم ہو چکی تھی اور دوسرے ادارہ کا بورڈ ادارہ کے چیئرمین کی تقرری یا مدت ملازمت میں کسی قسم کی توسیع کا مجاز نہیں ہےای او بی آئی کے چیئرمین کی تقرری کے لئے ای او بی ایکٹ مجریہ 1976 میں واضح طریقہ کار موجود ہے اور ماضی میں وفاقی حکومت اسی طریقہ کار کے مطابق کیبنٹ ڈویژن اسلام آباد کے ذریعہ گریڈ 22 کے افسران کی چیئرمین ای او بی آئی کے عہدہ پر تقرری کرتی رہی ہے ۔

لیکن 1976 میں ای او بی آئی کے قیام سے اب تک ادارہ کے چیئرمین کی تقرری کے لئے بذریعہ اشتہار درخواستیں طلب کرنے کی یہ انوکھی مثال ہےدلچسپ بات یہ ہے کہ اظہر حمید کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق بورڈ کے ایک سرکاری رکن اور سیکریٹری محکمہ محنت و ترقی انسانی وسائل صوبہ پنجاب ڈاکٹر احمد آفتاب قاضی نے وفاقی سیکریٹری وزارت سمندر پار پاکستانی و ترقی انسانی وسائل حکومت پاکستان کے نام اپنے 11 مارچ 2021 کو ایک وضاحتی خط میں اظہر حمید کی مدت ملازمت میں 3 برس توسیع کے لئے منعقدہ اس ہنگامی اجلاس کی رو داد کے حوالے سے اپنا موقف پیش کرتے ہوئے اس میں ہیرا پھیری کی شکایت کی تھی ۔ اس خط کی نقول بورڈ کے تمام سرکاری اور غیر سرکاری اراکین کو بھی ارسال کی تھیں ۔ ان تمام بے قاعدگیوں کے باوجود وزیر کے لاڈلے کی دوبارہ تعیناتی کے لئے پرنالہ وہیں گرے گا ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *