واٹر بورڈ اینٹی تھیفٹ سیل نے AGI کمپنی کیس میں خود کو جھوٹا قرار دے دیا

کراچی : واٹر بورڈ میں وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ کے نام پر غیر قانونی قائم اینٹی تھیفٹ سیل کا ایک اور کارنامہ سامنے آیا ہے ۔ واٹر بورڈ کے AEE راشد صدیقی نے 27 فروری کو تھانہ شرافی گوٹھ کی حدود میں واقع پلاٹ نمبر 06/07 ، سیکٹر نمبر 21 ، لانڈھی انڈسٹریل ایریا ، اے جی آئی فاروق ملز کراچی میں کارروائی کی تھی ، جس میں غیر قانونی کنکشن منقطع کرنے کا دعوی کیا گیا تھا ۔

الرٹ کو موصول ہونے والی ایف آئی آر نمبر 90/2021 کے مطابق اے جی آئی فاروق کمپنی میں غیر قانونی کنکشن لگے ہوئے ہیں اور پانی دیگر فیکٹریوں کو بھی چوری کر کے فروخت کر رہے ہیں ۔ جس پر واٹر بورڈ نے 8 فروری کو ایک تحریری نوٹس بھی جاری کیا تھا کہ آپ نے غیر قانونی کنکشن لیا ہوا ہے ۔ لہذاہ آپ کنکشن کے کاغذات لیکر دفتر آئیں ۔

مذید پڑھیں :کراچی : لیاقت آباد میں کار پر فائرنگ، گرلز کالج کی سابقہ پرنسپل جاں بحق

نوٹس کی میعاد ختم ہونے کے بعد واٹر بورڈ اینٹی تھیفٹ سیل کے انچارج آپریشن سید ندیم ہمراہ اپنے دیگر اسٹاف 27 فروری کو فیکٹری میں پہنچے اور فیکٹری کے سامنے 33 انچ قطر کی لائن سے 3 انچ کے 2 کنکشن اور 4 انچ کا ایک کنکشن منقطع کیا اور فیکٹری کے اندر زیر زمین نکلنے والی 10 انچ قطر کی لائن جو کہ چوری شدہ پانی کی دوسری فیکٹریوں کو فروخت کے لئے استعمال ہوتی ہے ۔ اسے بھی منقطع کر دیا ہے ۔ جن کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے ۔

مدعی مقدمہ سید ندیم کے مطابق فیکٹری کے جنرل منیجر شہاب الدین ، سیکورٹی انچارج رب نواز ، ایڈمن منیجر عمیر زیدی پر سرکاری لائن کو نقصان پہنچانے ، پانی چوری کرنے اور چوری شدہ ذریعہ لائن دوسری فیکٹری کو فروخت کرنے میں ملوث ہیں ۔

مذید پڑھیں :کراچی:SSP ملیر ایس پی عرفان علی شاہ کی پولیس ڈیپارٹمنٹ میں بھرتی چیلنج

جس کے بعد شرافی گوٹھ پولیس اسٹیشن کے اسسٹنٹ سب انسپکٹر نور رحمن نے تصدیق کرتے ہوئے لکھا کہ رپورٹ حسبِ منشا مدعی لفظ با لفظ تحریر کی گئی ہے ۔ جس میں جرم کی نوعیت جرم خانہ نمبر 3 ت ب کا ہونا پایا گیا ہے ۔ ایف آئی آر بجرم دفعہ 34 ، 427 اور 430 ت ب  کے علاوہ 14A(II)/147(11-B)/KWSSB-Ammedment Act.2015 XL-1107/15 لگائی گئی ہیں ۔ واضح رہے کہ اس ایف آئی آر میں نامزد ملزمان کو 6 ماہ قید کی سزا سنائی جاتی ہے ۔ یہ قانون سابق ایم ڈی مصباح الدین فرید مرحوم رحمہ اللہ کے دور میں پانی چوری روکنے کے لئے بنوایا گیا تھا ۔

اس کنکشن کے منقطع کرنے کے بعد کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (ایوانِ صنعت و تجارت کورنگی کراچی (پاکستان) ،کے صدر شرف الزمان نے 15 مارچ کو لیٹر نمبر KATI/2-A/2021-15871 نے چیف سیکرٹری ممتاز علی شاہ کو لکھا ۔ آپ کے ساتھ ہونے والے اجلاس ، جس میں آپ نے انڈسٹریز کو پائپ لائن کے ذریعے پانی کی سپلائی کا کہا تھا ۔ پانی انڈسٹریز کے لئے انتہائی ضروری ہے کیوں کہ چمڑہ فیکٹریاں بغیر پانی کے چلانا ممکن ہہی نہیں ہے ۔

ہمارے ایک معزز ممبر نے حال ہی میں بتایا ہے کہ واٹر بورڈ اینٹی تھیفٹ سیل کے انچارج راشد صدیقی نے قانونی کنکشن منقطع کر دیئے ہیں اور اس کے بدلے میں وہ حق سے زیادہ غیر قانونی مطالبات کرنے لگے ہیں ۔ ان کا یہ کام یومیہ کی بنیادوں پر بڑھتا ہی جا رہا ہے ۔ ہم واٹر بورڈ کے ایم ڈی کی خدمات کو سراہتے ہیں ۔ مگر اس معاملے میں وہ کوئی تعاون نہیں کر رہے ہیں ۔ ہماری آپ سے گزارشات ہیں کہ برائے کرم آپ اس کے خلاف ایکشن لیں اور متعلقہ اتھارٹیز کو حکم دیں کہ وہ قانونی کنکشن کو بحال کریں ،اور سب سوائل پانی کے کنکشن کو بحال کیا جائے تاکہ ہم اپنے بزنس کو بحال کریں ۔

جس کے بعد راشد صدیقی نے 2 اپریل کو ایک نوٹی فکیشن نمبر KW&SB/IOATC/Esst/2021/801 بنام آرٹسٹک فیبرکس اینڈ گارمنٹس ، انڈسٹریز پرائیویٹ لمٹیڈ ، بحوالہ کنزیومر نمبر LAN0000077 ، LAN 0000078 ، LAN-0000192 اور KOR 0001101 جاری کیا ۔ جس میں راشد صدیقی نے حیرت انگیز طور پر 360 ڈگری یو ٹرین لیا ۔ اور اسی فیکٹری کے غیر قانونی کنکشن بھول بھلیاں کر کے ’’ کنکشن کی بحالی ‘‘ کی نوید سنا ڈالی ۔

راشد صدیقی نے لکھا کہ 16 مارچ کو لکھے گئے لیٹر کے مطابق جس میں آپ نے موجودہ بل جمع کرا دیئے ہیں ۔ جس پر آپ کی درخواست پر آپ کو اجازت دی جاتی ہے کہ آپ کنکشن بحال کر لیں ۔ حیرت انگیز طور پر یو ٹرن کے ساتھ ساتھ راشد صدیقی نے ساتھ ہی خیر خواہانہ انداز اختیار کرتے ہوئے فیکٹری کو مشورہ بھی دیتے ہوئے لکھا کہ آپ جلد از جلد اپنے بقایا جات بلوں کی ادائیگی بھی کر لیں ۔ واٹر بورڈ کا اینٹی تھیفٹ سیل آپ کے خلاف دوبارہ کارروائی کر کے بحال کردہ کنکشن منقطع کر سکتا ہے ۔ مذکورہ لیٹر کی کاپی راشد صدیقی نے کسی بھی دیگر شعبے یا محکمہ کو جاری ہی نہیں کی ۔

مذید پڑھیں :ناقص کارکردگی پر SHO شرافی گوٹھ کو شوکاز جاری

حیرت انگیز و منفرد خط و کتابت 

راشد صدیقی نے فیکٹری سے 8 فروری کو کاغزات منگوائے ،

فیکٹری پر 27 فروری کو آپریشن کیا گیا ،

راشد صدیقی کے خلاف KATI کے صدر نے 15 مارچ کو خط لکھا ،

جس کے بعد راشد صدیقی نے 2 اپریل کو انوکھا خط لکھا ۔

مگر کہانی ابھی جاری ہے ۔ ۔ ۔ ۔

سوالات :

راشد صدیقی کو کیسے معلوم ہوا کہ فیکٹری کے پاس کنکشن غیر قانونی ہیں ؟ ۔

اینٹی تھیفٹ سیل کی مدعیت میں درج ایف آئی آر میں غیر قانونی کنکشنوں کی تفصیلات ہیں مگر بحالی کنکشن لیٹر میں غیر قانونی کنکشن کا ذکر ہی نہیں کیوں ؟

مقدمہ میں ضمانت کیسے ہو گئی ؟

پولیس نے بھی منفرد و نان ٹیکنیکل لیٹر کی بنیاد پر کیسے فیکٹری کو کنکشن بحالی کی اجازت دے دی ؟

فیکٹری سے ٹینکروں کے ذریعے تا دم تحریر سپلائی کیوں جاری ہے ؟

مذید پڑھیں :مُغل فنِ تعمیر کی 350 سالہ قدیم جامع مسجد اردو بازار

پولیس کا موقف 

نمائندہ https://www.alert.com.pk نے شرافی گوٹھ تھانے کے ایس ایچ او عدیل شاہ سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ میں نے سنا ہے کہ کنکشن ہو رہے ہیں اور میں نے اہلکار بھیجے ہیں مگر ان کے پاس تو راشد صدیقی کا کنکشن بحالی کا لیٹر موجود ہے ۔ اس کے بعد ایس ایچ او سے سوال کیا گیا کہ 14A کی ایف آئی آر سمیت دیگر دفعات کے تحت درج مقدمے اور عدالت میں زیر سماعت کیس کی قانونی حیثیت کیا رہ گئی کہ آپ نے کنکشن بحال ہونے دیا ؟ تو ایس ایچ او کے پاس کوئی جواب نہیں دے سکے اور فون بند کر دیا ۔

جس کے بعد ہیڈ محرر شرافی گوٹھ اے ایس آئی لقمان سے رابطہ کیا گیا کہ مذکورہ فیکٹری سے ٹینکر کی بھرائی  ہو کر کہاں اور کیوں جا رہے ہیں ، جس پر لقمان نے صاحب ( ایس ایچ او ) سے رابطہ کرنے کا کہہ کر فون بند کر دیا ۔

راشد صدیقی کو اینٹی تھیفٹ سیل کا انچارج بنانے کا لیٹر کا عکس

معلوم رہے کہ واٹر بورڈ کے اسسٹنٹ ایگزیکٹیو انجنیئر ( ای اینڈ ایم ) گریڈ 17 کے راشد صدیقی ایمپلائی نمبر No.0077898-8 کو 22 اکتوبر 2020 کو اینٹی تھیفٹ سیل کا انچارج بنایا گیا تھا ۔ اس اینیٹی تھیفٹ سیل کا قانون میں کوئی وجود ہی نہیں ہے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *