حِجاب ، حرم حیاء اور حدود اللہ

تحریر : اُم علی و ابی بکر

( اخت آفتاب نذیر)
8 رمضان المبارک 1442 ہجری

زندگی میں کئی قریبی اعزّاء و اقارب کے بچھڑنے کا غم سہا مگر دل آج رویا ہے دکھ اور صدمہ اتنا شدید ہورہا ہے کہ پیٹ اور آنتیں جلتی ہوئی محسوس ہورہی ہیں اور آج پتہ نہیں کیوں مجھے حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کا وہ شعر یاد آرہا ہے جو صحابیات کی شان اقدس میں بیان فرمایا تھا جس کا مفہوم یہ ہے کہ ” دن تو دن وہ تو رات کی تاریکی میں بھی اپنی انگلیوں کے پوروں تک کو چھپا کر نکلتی تھیں” ۔ احقرہ کو بچپن سے ہی حرمین شریفین کی زیارت کا بہت شوق تھا ۔ بچپن میں جب پھوپھی حج کو جا رہی تھیں تو اپنے مدرسے کے اسباق چھوڑ کر آئی کہ حرم جانے والوں کو دیکھنے کا مزا ہی اور ہے اور پھر جب عقل پختہ ہوئی تو دل نے کہا کہ سوچ جب حرم جانے والوں کو دیکھ کر یہ حال ہے تو خود حرم دیکھ کر کیا حال ہو گا ؟۔

دل کی تڑپ اور دعائیں قبول ہوئیں اور بفضل اللہ تعالی 14 اکتوبر 2018 کو عمرے پر جانا نصیب ہوا ( الحمداللہ تعالی احقرہ شرعی پردے کی پابند ہے) اس لئے حرم کے تقدس اور عظمت کے باعث مزید خیال رکھا کہ کسی بھی طرح کوئی کوتاہی نہ ہو اس لئے برقعے کے اوپر بھی خوب بڑا برقعہ اور پھر اس پر خوب پھیلاؤ والا حجاب لیا اور اپنے گمان میں خوب باپردہ ہو کر گئی مگر یہ کیا ۔ ۔ ۔ ؟

حرم کی ” شرطۃ خواتین” کو دیکھ کر جھٹکا سا لگا اور ان کے پردے کے سامنے اپنا پردہ سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف محسوس ہوا ۔ واللہ ایسا زبردست حجاب اور ایسا زبردست پردہ کہ جس کی نظیر ملنا مشکل ہے جو وہاں جا چکے جو دیکھ چکے وہ سمجھ سکتے ہیں، میں مسجدالحرام آتے جاتے بلاکسی وجہ کے ان کے قریب سے گزرتی اور انھیں دیکھ کر مجھے عجیب سے خوشی محسوس ہوتی پھر مجھ سے رہا نہ گیا اور بلآخر میں نے ایک دن پوچھ ہی لیا کہ کیا وجہ ہے کہ ہمارے پاکستان میں ایسا حجاب اور پردہ میں نے کہیں نہیں دیکھا ؟

انھوں نے مجھے بہت پیار سے سمجھایا کہ اسے ” عبایۃ الرأس” کہتے ہیں اور ہم اسے ایک مخصوص طریقے سے اندر بھی چہرے پر چادر لٹکانے کے بعد پہنتے ہیں تاکہ آنکھوں کی پلکوں تک کے نظر آنے کا خدشہ بھی باقی نا رہے پھر انہوں نےاحقرہ کے حجاب کی بھی تعریف کی کہ ماشاءاللہ یہ بھی اچھا ہے مگر اس میں آنکھیں نظر آتی ہیں ( اس وقت احقرہ نے آنکھوں سے حجاب بوجہ خواتین سے بات کرنے کے ہٹا رکھا تھا) پھر احقرہ نے دیکھا کہ حرم کے خارجی حصے میں جہاں لاکرز میں سامان رکھوا کر مطاف کی جانب قدم بڑھائے جاتے ہیں ۔

مذید پڑھیں :اسلامی نظریاتی کونسل کے نئے تعینات شدہ ارکان کا افتتاحی اجلاس

وہاں اسکرینز پر آیات حجاب چلتی رہتی ہیں اور ہماری جو مائیں بہنیں دوپٹوں میں ہوتی ہیں ، انھیں یہ خواتین حجاب کی ترغیب دیتیں کہ ” اپنے ملک میں نا سہی مگر یہاں حرم کے تقدس کی خاطر ہی باپردہ رہیں” اور پھر ایک دن احقرہ سے رہا نہ گیا اور ایک بہن سے عبایۃ الرأس کے حوالے سے تفصیل معلوم کی ( قیمت اور ملنے کی جگہ) اور بلأخر وہ خرید ہی لیا ۔ خدا کی قسم ان بہنوں نے مجھے پردے میں ہونے کے باوجود مزید پردے پر مجبور کر دیا ، ان کا حال یہ تھا کہ خواتین والے حصوں میں جہاں صرف خواتین بیٹھتی ہیں آرام کرتی ہیں وہاں بھی مکمل پردے میں بیٹھی ہوتی تھیں ۔میں نے ان کا چہرہ کبھی کھلا نہیں دیکھا ان کے پردے کی عظمت کی وجہ سے ان دنوں حج عمرے پہ آئی ہر خاتون آتے جاتے ان سے دعا کرواتیں اور ایک آج کا دن ۔ ۔ ۔ الامان الحفیظ

برادر محترم آفتاب نذیر کے نمبر سے شوہر کے موبائل پر ایک ویڈیو موصول ہوئی ۔ شوہر کہ اصرار پر کہ چہرہ کھلا نہیں ہے ، ایک نظر کچھ دیکھ لو ۔ جب دیکھا تو معلوم ہوا کہ حرم میں ڈیوٹی دینے والی خواتین کو ” یونیفارم” پہنا دیا گیا ہے ۔ دل خون کے آنسو رو رہا ہے ، میں نے اپنا تو کیا نسلوں کا بھی نہیں سوچا تھا کہ یہ دن دیکھنا پڑے گا ، آئی بروز بنا کر ٹوپیاں پہن کر مردوں جیسا لباس زیب تن کر کے مردوں ہی کے بیچ موجود یہ خواتین ، ہائے ہائے حرم کے تقدس کا بھی خیال نہ آیا ؟؟؟؟؟ ۔ حیاء اور ایمان دونوں قریب قریب ہیں اگر ایک رخصت ہوجائے تو دوسرا بھی نہیں رہتا یہ بھی نہ سوچا؟؟؟ ” تلک حدود اللہ فلاتقربوھا” کی صدائیں بھی کانوں میں نہ گونجیں؟؟؟ ” ولا تبرجن تبرج الجاھلیه” جیسی آیات کیا قرآن سے اٹھ گئیں؟؟؟؟

یہ حرم فقط سعودیہ والوں کا ہی حرم نہیں ہے یہ میرا اور آپکا ہمارا ہم سب کا حرم ہےاور پورے عالم اسلام کا مرکز ہے یہاں اگر ڈیوٹی اور سیکیورٹی پر ایسی خواتین ہوں گی تو کل وہ دن دور نہیں کہ چست پتلون اور ننگی شرٹس میں طواف کعبہ ہونے لگے ۔ خدارا اس پر آواز اٹھائیں جو کہ ایمان کے درجات میں سے ایک درجہ ہے کہ برائی پر کم از کم آواز اٹھائیں اور اسے دل سے برا جانیں ، کیونکہ کچھ روشن خیال لوگ تو کہہ دیں گے کہ شرٹس ڈھیلی اور تھوڑی لمبی ہیں ۔

مذید پڑھیں :گستاخ یہودی کا انجام

لیکن جب برقعے سے ایک دم شرٹ تک کا سفر ہو چکا ہے تو یہ بھی بعید نہیں کہ شرٹس چست ہو جائیں اور اعضاء نسوانی کی بیت اللہ میں تشہیر اور نمائش ہو اور دوسری بات یہ کہ آج کرونا کی وجہ سے ماسک تو پہن رکھا ہے جس کی وجہ سے ان کی ناک کی نوک پوشیدہ ہے مگر جب کورونا بھی ٹل گیا تو نتائج کیا ہوں گے؟؟؟؟ اور ایمان و انصاف سے بتائیے کہ جب لاکھوں کا مجمع حرم میں ہر وقت موجود رہتا تھا تو کیا شرعی پردے اور برقعے میں یہ خواتین ڈیوٹی نہیں کر پاتی تھیں ؟؟؟ بالکل کر پاتی تھیں تو پھر حیاء کا جنازہ نکالنے اور شرعی پردے کو روندنے کی کیا ضرورت پیش آئی ؟؟؟؟

اف تیری یہ خوبی رفتار یہ بے باک پن
دیکھ تجھ پہ مغربی تہذیب خود ہے خندہ زن
دیکھ تجھ پہ ہر طرف سے اٹھ رہی ہیں انگلیاں
غور سے سن ہر طرف سے ہو رہیں سرگوشیاں

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *