کراچی میں پارکنگ مافیا کا منظم ترین دھندہ کیسے چلتا ہے ؟

کراچی ( رپورٹ : قمر میمن ) کراچی کے ریڈ زون جیسے انتہائی حساس علاقے میں سندھ حکومت کی سرپرستی میں پارکنگ مافیا کا راج قائم ہو گیا ۔نو پارکنگ زونز، فٹ پاتھوں اور گلیوں کو پارکنگ زونز میں تبدیل کر کے شہریوں سے 70 سے 100 روپے کی وصولی کی جا رہی یے ۔ عوامی شکایات کے باوجود متعلقہ ادارے کارروائی سے قاصر  ہیں ۔

تفصیلات کے مطابق پارکنگ مافیا نے سندھ سیکریٹریٹ، آرٹس کونسل، سپریم کورٹ، ہائیکورٹ کو لگنے والے راستوں اور ملحقہ گلیوں پر شہریوں سے پارکنگ فیس کی مد میں فی گاڑی 70 روپے سے 100 روپے وصولی شروع کر دی ہے ۔ جب کہ فیس کی جو رسید دی جا رہی ہے وہ پیپلز اسکوائر میں داخلے کی ہے ۔ مافیا نے کورٹ روڈ اور دوسرے علاقوں میں ٹریفک پولیس کی جانب سے لگے نو پارکنگ کے بورڈ اکھاڑ کر پھینک دئے ہیں اور وہاں پر پارکنگ شروع کروا دی ہے۔ مافیا کے کارندوں نے کورٹ روڈ پر فٹ پاتھ کو بھی نہیں بخشا اس کو بھی پارکنگ زون میں تبدیل کر دیا ہے اور پیدل چلنے والے شہریوں کا راستہ بند کر دیا گیا یے ۔

کچھ عرصہ پہلے تو اس مافیا کے کارندوں نے علاقے کی رہائشی گلیوں میں پارکنگ فیس کی وصولی شروع کر دی تھی جو کہ علاقے کے لوگوں کی جانب سے سخت احتجاج کے بعد وہاں سے بھاگنے پر مجبور ہو گئے تھے ۔

آرٹس کونسل کے ساتھ پارکنگ لاٹ میں بھی شہریوں سے پارکنگ مافیا کے پرانے کارندوں نے کمپنی کے نام کی 100 روپے کی وصولی شروع کر رکھی ہے اور وہاں پر ویلے کی رسید تھما دی جاتی ہے جبکہ اس پارکنگ میں نہ تو ویلے کی ضرورت ہے اور نہ ہی یہ سروس مہیا کی جاتی ہے ۔

مذید پڑھیں :مفتی کفایت اللہ کی گرفتاری حکومتی بد نیتی اور سیاسی انتقام ہے : حافظ حسین کفایت

مافیا کے کارندوں سے جب پارکنگ کے متعلق پوچھا گیا تو ایک نجی کمپنی الکٹرا سسٹمز پرائیویٹ لمیٹیڈ کا ڈائریکٹر عدیل فاروق وہاں پر اپنی گاڑی میں آئے انہوں نے کہا کہ اس کی کمپنی نے سندھ حکومت سے پیپلز اسکوائر کے داخلے کی فیس وصولی کا ٹھیکہ حاصل کیا ہے اور کنٹریکٹ کے مطابق ان کو پیپلز اسکوائر سے ملحقہ راستوں اور گلیوں میں پارکنگ فیس وصولی کی اجازت دی گئی یے ۔ان کہنا تھا کہ کمپنی شہریوں کو پارکنگ مافیا سے جان چھڑائے گی ۔

جب کہ دلچسپ بات یہ ہے کہ کمپنی نے انہی پارکنگ مافیا کے کارندوں کو پارکنگ فیس کی وصولی کے لئے کھڑا کیا ہے ۔ جو اس سے پہلے وہاں پر غیر قانونی پارکنگ چلاتے تھے ۔ نجی کمپنی کے ڈائریکٹر سے جب اس حوالے سوال پوچھا گیا تو انہوں نے تسلیم کیا کہ کمپنی کے پاس اپنا اسٹاف نہیں ہے ۔اس لئے ان ہی لوگوں کو پیٹی ٹھیکے پر پارکنگ دی گئی یے ۔ جو لوگوں سے پارکنگ فیس وصولی کے "طریقے” اچھی” طرح سے جانتے ہیں۔

فٹ پاتھ پر پارکنگ، نو پارکنگ زون میں پارکنگ اور اسٹاف کا کمپنی کی جیکٹس نہ پہننے اور ٹریفک کو مینیج نہ کرنے کے حوالے سے پوچھے گئے سوالات کے جواب میں عدیل فاروق نے کہا کہ یہ سوال متعلقہ ایس پی ٹریفک سے پوچھا جائے ۔ اسی کمپنی کے ہی ایک ملازم نے بتایا کہ ایس پی ٹریفک نے خود ان کو کہا ہے کہ گاڑیاں فٹ پاتھوں پر کھڑی کروائیں ۔

مذید پڑھیں :حِجاب ، حرم حیاء اور حدود اللہ

نجی کمپنی کے ڈائریکٹر سے جب سندھ حکومت سے ہونے والے معاہدے کی کاپی مانگی گئی تو اس نے دینے سے صاف انکار کر دیا اور اس حوالے سے پروجیکٹ ڈائریکٹر کلک افضل زیدی سے رابطہ کرنے کا مشورہ دیا ۔ افضل زیدی سے اس حوالے سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے معاہدے کی تفصیلات اور نقول دینے سے صاف انکار کر دیا ۔

شہریوں سے زبردستی اتنی مہنگی پارکنگ فیس تو وصول کی جا رہی ہے مگر ان کو کسی بھی قسم کی سہولیات فراہم نہیں کی جا رہیں، اتنی بھاری فیس وصولی کے بعد بھی کہا جاتا ہے کہ گاڑی اپنی ذمہ داری پر کھڑی کریں ۔ رش کے اوقات میں راستوں پر ٹریفک زیادہ ہونے پر شہریوں کو پارکنگ سے گاڑی نکالنے میں بھی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔

شہریوں اور مافیا کے کارندوں کے درمیان لڑائی جھگڑے روز کا معمول بن چکے ہیں۔ مافیا کے کارندے شہریوں سے نہ صرف بدتمیزی سے پیش آتے ہیں بلکہ معمولی معمولی باتوں پر شہریوں کو تشدد کا نشانہ بنانے میں بھی دیر نہیں کرتے۔ متعلقہ پولیس اور دوسرے اداروں کو سندھ حکومت کی تڑی لگا کر چپ کروادیا جاتا ہے ۔

مذید پڑھیں :ناقص کارکردگی پر SHO شرافی گوٹھ کو شوکاز جاری

واضح رہے کہ سندھ حکومت نے شہریوں کی تفریح کے لئے پیپلز اسکوائر تعمیر کیا ہے، جس وقت اس کا افتتاح ہوا، اس وقت یہ اعلان کیا گیا کہ وہاں پر عام شہریوں کا داخلہ، گاڑیوں کی انٹری اور پارکنگ مفت ہوگی۔ لیکن پیپلز اسکوائر میں اس وقت گاڑیوں کی داخلے کی 100 روپے کی انٹری اور پارکنگ فیس وصول کی جا رہی ہے اور وہ بھی ایک مخصوص وقت کے لئے، اس کے بعد وہ فیس ہر گھنٹے کے حساب سے چارج کی جاتی ہے۔

متعلقہ کمپنی نے اس مبینہ معاہدے کی آڑ میں آس پاس کے راستوں اور گلیوں میں بدمعاش کھڑے کردیے ہیں جو شہریوں سے پارکنگ فیس کی مد میں بھتہ خوری کر رہے ہیں ۔ فٹ پاتھوں پر پارکنگ سے پیدل چلنے والے شہریوں کا راستہ بند ہو گیا ہے اور پارکنگ زونز ختم ہونے سے رش کے اوقات کار میں ان راستوں پر ٹریفک جام روز کا معمول بن چکا ہے۔ ٹریفک پولیس کی جانب سے ٹریفک کو سنبھالنا بہت دشوار ہوگیا ہے کیوں کہ مافیا کے کارندے پارکنگ فیس تو وصول کرتے ہیں مگر ٹریفک کو مینیج نہیں کرتے ۔

ٹریفک پولیس کے متعلقہ فیلڈ افسران نے بھی اس طرح کی پارکنگ پر اعتراض کیا ہے مگر ان کو سندھ حکومت کی تڑی دے کر چپ کروادیا جاتا ہے۔ شہریوں نے سپریم کورٹ اور سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سے معاملے کا ازخود نوٹس لے کر اس مافیا کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *