ایک دوسرے کو قبول کرنا ضروری ہے

تحریر : عظمت خان

مسلمانوں کی تاریخ مکالمے کے اعتبار سے کئی ایک نشیب و فراز رکھتی ہے ۔ بین الادیان مکالمے کا آغاز رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زندگی میں ہی ہو گیا تھا ۔ ہجرت کے بعد ’’میثاق مدینہ‘‘ ایک مثبت مکالمے ہی کے نتیجے میں ظہور پذیر ہوا ۔ اس معاہدے میں مسلمان تو شریک تھے ہی اوس و خزرج قبائل کے وہ افراد بھی اس کا حصہ تھے ، جو ابھی تک اسلام نہ لائے تھے اور بت پرستی کے طریقے پر قائم تھے ۔ مدینے میں رہنے والے یہودی قبائل بھی اس میثاق کا حصہ تھے۔

افسوس کہ خود مسلمانوں کے مابین ہونے والا مکالمہ بالآخر اس اصول سے منحرف ہو گیا ۔ معتزلہ اور اشاعرہ کے مابین شروع ہونے والا مکالمہ کس انجام سے دو چار ہوا ، اسے جاننے کے لیے تاریخ کے خون آلود صفحات کو پلٹنا ہو گا ۔ علم کلام جس کی بنیاد دراصل ایک دوسرے سے کلام کرنے اور مکالمہ کرنے سے پڑی، وہ خونی آویزشوں تک جا پہنچا ۔ معاملہ تفسیق و تکفیر سے گزر کر قتل و غارت گری کی سرحدوں سے گزر گیا ۔ اس خونی اور خطرناک کھیل کا سلسلہ رکا نہیں ۔ آج ایک دوسرے کو فاسق و فاجر، کافر و مشرک اور گستاخ کہنے والے دراصل اسی دردناک تاریخ کے ورثہ دار ہیں ۔ اے کاش یہ سمجھ لیا جائے کہ تاریخ عبرت کے لیے ہوتی ہے، اندھا دھند تقلید کے لیے نہیں ۔

تاریخ کے ان گوشوں کو اگر عبرت کے لیے اپنے سامنے رکھا جائے تو آج کا مکالمہ نہ فقط منحرف نہیں ہو گا بلکہ اسے ماضی کے حکمرانوں کی طرح آج کے حکمران اور بالادست قوتیں غلط مقاصد کے لیے بھی استعمال نہیں کر سکیں گی ۔ ضروری ہے کہ مکالمے کے سنجیدہ شریک اپنی چشم بصیرت کو کھلا رکھیں ۔ اور ان علامتوں پر گہری نظر رکھیں جو مکالمے کے انحراف کے وقت ظہور پذیر ہوتی ہیں ۔

مذید پڑھیں :اسلامی نظریاتی کونسل کے 12 نئے اراکین کیلئے افتتاحی و تعارفی اجلاس

بہت سے افراد نے مکالمے کے راستے میں حائل ہونے والی رکاوٹوں کو بیان کرنے کی کوشش کی ہے اور مکالمے کی حدود وقیود اور مقاصد و اہداف کو متعین کرنے کے لیے مقالے بھی لکھے ہیں اور مکالمے کے مواقع پر بھی انھیں بیان کرنے میں کوتاہی نہیں کی ۔

مکالمے کے حوالے سے سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ ظالم و مظلوم کے مابین نہیں ہوتا اور نہ ہو سکتا ہے ۔ مکالمہ ایک دوسرے کے وجود کو احترام کے ساتھ قبول کرنے ، پرامن بقائے باہم پر یقین رکھنے، دوسروں کو آزادئ رائے دینے اور جیو اور جینے دو کے اصول کو تسلیم کرنے سے شروع ہوتا ہے ۔ مکالمے کے کسی مرحلے پر بھی ان نظریات اور اصولوں کو نظر انداز کرنے سے مکالمہ اپنے اصل مقصد سے بھٹک جاتا ہے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *