پولیس فائرنگ سے زخمی دسویں جماعت کے طالب علم کا معاملہ کیا ہے ؟

کراچی : چار رو قبل پولیس فائرنگ دسویں جماعت کے طالبعلم کے زخمی ہونے کا معاملہ

عینی شاہدین کے مطابق ڈاکو بھاگ رہے تھے ، انھوں نے فائرنگ بھی نہیں کی پولیس نے سیدھا فائرنگ کر دی، جس وقت وقوعہ ہوا بچے گلی میں کرکٹ کھیل رہے تھے، پولیس اہلکار ڈاکو پکڑنے کے بعد بھی دس منٹ تک فائرنگ کرتے رہے ، پولیس اہلکار بلکل ٹرینڈ نہیں تھے ، رہائشی علاقے میں گالیاں بھی دیتے رہے، علاقے کے لوگوں نے ایک ڈاکو کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کیا تھا ۔

زخمی منیب کی والدہ کا کہنا ہے کہ منیب زخمی ہے اب بھی اس کی حالت خطرے میں ہے، میری آنکھوں کے سامنے میرے بچے کو پولیس اہلکار نے قریب سے گولی ماری ۔

مذید پڑھیں :فرانسیسی حکومت نے مسلمانوں کی دل آزاری کی ہے جو قابل افسوس ہے : اکرام الدین

پولیس اہلکار اندھا دھن فائرنگ کرہے تھے آئی جی صاحب ان کو ٹرینڈ کریں، ہم غفلت برتنے والے اہلکاروں کے خلاف کاروائی چاہتے ہیں مقدمہ درج کیا جائے ۔

مینب کے والد کا کہنا تھا کہ منیب کے پیٹ میں گولی لگی اپنی گاڑی میں اسپتال لیکر گیا ،ہم پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرائیں گے یہاں پچاس بچے تھے زیادہ نقصان ہوسکتا تھا،پولیس کو تربیت دی جائے کس طرح لوگوں کی حفاظت کرنی ہے اور کریمنلز کو پکڑنا ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *