مولانا وحید الدین خاں بھی اپنے رب کے حضور حاضر ہو گئے!!!

مولانا وحید الدین

تحریر: سید عزیز الرحمن


آج سے کوئی پچیس، اٹھائیس برس قبل مولانا کی پہلی کتاب مذہب اور جدید چیلنج پڑھنے کا اتفاق ہوا، وہ مولانا کی پہلی کتاب تھی، جو ہماری نظر سے گزری، لیکن اس نے مولانا کے قلم کے سحر میں جکڑ لیا پھر تو کتاب تو کیا شاید ہی ان کی کوئی تحریر ایسی ہو جو نظر سے نہ گذر سکی ہو۔

ہم جیسے طالب علموں کے لئے مولانا کی زندگی میں ایک اور عمدہ مثال بھی موجود ہے کہ کسی علمی شخصیت سے کس درجے استفادہ کیا جائے، کس ڈھب سے اختلاف کیا جائے اور کس طرح اتفاق اور اختلاف کو متوازن رکھتے ہوئے اس کی عقیدت کو برقرار رکھا جائے۔مولانا نے خوب لکھا، اتنا لکھا کہ آخر کے پچاس ساٹھ برسوں میں شاید ہی کوئی اہل قلم ان کے سرمایہ تحریر کا مقابلہ کرسکے۔

جس قدر بھی لکھا وہ رواں دواں اسلوب میں لکھا، ایسا اسلوب، جو پڑھنے پر آپ سے آپ مجبور کرتا تھا۔پھر علوم اسلامی کے ہر ایک پہلو پر لکھا۔ان کی کتنی ہی باتوں سے پہلی نظر میں اتفاق ہوا،کچھ باتیں ایسی رہیں جنھیں پڑھ کر غور و فکر کا موقع ملا پھر کہیں اتفاق کی کیفیت پیدا ہوئی تو کہیں اختلاف کی، اور کتنی ہی باتیں ایسی تھیں کہ انہیں ذہن نے کبھی قبول نہیں کیا۔ہم جیسے طالب علموں کے لئے مولانا کی دو چار نہیں شاید درجنوں باتیں قابل قبول نہیں تھیں، لیکن ان کے قلم کا کمال یہ تھا کہ اس کے باوجود ان کی ہر تحریر بلکہ ان کے لکھے ہوئے ہر ہر لفظ سے دلچسپی ہر لمحے برقرار رہی ۔

مذید پڑھیں :حِجاب ، حرم حیاء اور حدود اللہ

مولانا اول و آخر داعی تھے ان کی یہ کیفیت ان کی ہر تحریر میں نمایاں تھی،شاید ان کے کام پر ہونے والے اشکالات کا یہ ایک بہت بڑا جواب بھی ہے۔

مولانا سے کبھی ملاقات نہیں ہوسکی، اس کا افسوس رہے گا، لیکن ڈیجیٹل دنیا نے ان کی گفتگو سننے اور انہیں بولتے ہوئے دیکھنے کا موقع ضرور فراہم کیا ،مگر وہ جس قدر عمدہ لکھتے تھے، ان کی گفتگو اسی قدر روکھی محسوس ہوتی ہے،شاید یہ ان کی طبعی سادگی کا کا اثر تھا ۔

وہ اپنا کام مکمل کر کے اپنے رب کے حضور حاضر ہو گئے۔ اللہ تعالی ان کی حسنات کو قبول فرمائے اور ان کے ساتھ اپنی رحمت کا خاص معاملہ فرمائے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *