حافظ حمد اللہ غیرملکی حقیقت یا فسانہ ؟

رپورٹ: عبدالجبارناصر

جمعیت علماء اسلام کے مرکزی رہنماء اور سابق سینیٹر ، سابق صوبائی وزیر صحت بلوچستان، حافظ حمد اللہ کی شہریت ختم کرنے کے اعلان کے بعد ایک نئی بحث شروع ہوئی ہے کہ فیصلہ حقیقی شواہد کی بنیاد پر کیا گیا ہے یا سیاسی حالات کے تحت ہواہے،کیونکہ ایک معروف سیاستدان ، حاضر سروس فوجی آفیسر کے والد، ایک سابق سرکاری ملازم کے بیٹے اور خود سرکاری ملازم رہنے والے فرد کے حوالے سے اتنا بڑا فیصلہ کئی سوالات کو جنم دیتے ہیں اور بحث بھی درست ہے ۔

حافظ حمد اللہ 1968ء میں بلوچستان کے علاقے چمن محلہ حاجی حسن کے مکان نمبر 1310 میں پیدا ہوئے ۔ یہ گھر ان کے والد قاری ولی محمد اور چاچا نے 1967ء میں خریدا تھا اور 13 اگست 1968ء کو اس کی الاٹمنٹ ہوئی اور گھر کاخسرہ نمبر بھی موجود ہے ۔ نادرا کے ریکارڈ کے مطابق ان کا شناختی کارڈ نمبر 5420148513947 بلاک ہے ۔ اس شناختی کارڈ کے مطابق سابق سینیٹر حافظ حمداللہ کا نام حمداللہ صبور ولد ولد ولی محمد ہے ۔حافظ حمداللہ نے 1986 میں میٹرک اور پھر ایم اے تک تعلیم مکمل کی اور پھر سرکاری ملازمت اختیار کی ،تاہم عملی سیاست میں آنے سے قبل ہی سرکاری ملازمت سے استعفی دے دیا ۔

پیمرا کا متنازعہ حوالہ بن جانے والا نوٹی فکیشن

حافظ حمد اللہ کے والد 1964 میں محکمہ تعلیم حکومت بلوچستان میں معلم ( ٹیچر )بھرتی ہوئے اور 1974ء میں ریٹائرمنٹ لی ۔ 1968ء میں ان کے والد کو نیشنل بنک نے سرکاری تنخوا کی پے سلپ جاری کی گئی، 1974ء میں والد کو شناختی کارڈ اور 1976 میں پاسپورٹ جاری ہوا۔ حافظ حمد اللہ کے مطابق 1973 ء میں ان کے والد اور دیگر نے چمن میں ہی مذہبی ادارہ ’’مدرسہ تعلیم القرآن ‘‘قائم کیا جس کی مکمل رجسٹریشن موجود ہے۔ اسی ادارے میں ایک پرائمری اسکول 1974 ء سے قبل سے قائم ہے ، جس کی زمین حافظ حمداللہ کے والد نے فراہم کی تھی ۔ اس ادارے کا نظم آج بھی حافظ حمد اللہ کے پاس ہے۔

قاری ولی محمد 1977ء میں قومی اتحاد(پی این اے) کی تحریک میں شریک اور جیل میں رہے ، قاری ولی محمد اور ان کے دیگرخاندان والوں نے ایک تندور 1971ء میں بنایا جو حکومت کے پاس رجسٹرڈ ہے۔ سینئر صحافی سلیم صافی کے مطابق حافظ حمد اللہ کا ایک بیٹا شبیر احمد پاک فوج میں سیکنڈ لیفٹننٹ ہے ۔

نادار کی فراہم کی جانے والی تمام دستاویزات کا عکس

حافظ حمد اللہ عام انتخابات 2002ء میں متحدہ مجلس عمل کے ٹکٹ پر بلوچستان اسمبلی کے حلقہ پی بی 11 قلعہ عبداللہ (1)سے رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے اور وزیر اعلیٰ بلوچستان جام یوسف کی کابینہ میں صوبائی وزیر صحت کے طور پر خدمات سرانجام دیتے رہے۔ 2012ء سے 2018ء تک 6 سال سینیٹ آف پاکستان کے متحرک رکن اور سینیٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے مذہبی امورکے چیئرمین رہے ۔

حافظ حمداللہ نے ہی سینیٹ میں پیش ہونے پر انتخابی اصلاحات ایکٹ 2017ء میں ختم نبوت حلف نامے میں تبدیلی کی 22 ستمبر 2017ء کو سب سے پہلے (ن لیگ کی حمایت سے) مخالفت کی اور مگر اپوزیشن (تحریک انصاف ، پیپلزپارٹی اور دیگر)کی حمایت کی وجہ سے حافظ حمد اللہ کی ترمیم مسترد ہوگئی ، بعد میں یہ بہت بڑا تنازع بنا ۔ عام انتخابات 2013ء میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 259 سے پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کے مقابلے میں انتخابات میں حصہ لیا ۔ حافظ حمد اللہ کے مطابق قومی و صوبائی اسمبلی اور سینیٹ کے نصف درجن انتخابات میں حصہ لیا ہے ۔

حافظ حمداللہ کے والد قاری ولی محمد کا 1960کی دہائی میں بنایا گیا پاسپورٹ

حافظ حمد اللہ کے مطابق مارچ 2019 میں اس وقت معلوم ہوا جب میرا بیٹا خلیل احمد اسلام آباد پارلیمنٹ لارجز کے قریب نادرا کے دفتر گیا تھا جہاں بتایا گیا کہ حافظ حمداللہ کا شناختی کارڈ بلاک ہے ، اس پر کوئٹہ میں نادرا سے رابطہ کیا گیا ، جن کا کہنا تھا کہ اداروں کی جانب سے لیٹر آیا تھا جس کی وجہ سے بلاک کیا ہے ، ہم نے سکروٹنی فارم بھی مکمل کرکے دیا ،جس کے بعد اسلام آباد نادرا کے ہیڈ کوارٹر رابطہ کیا ، جواب ملا جلد شناختی کارڈ بحال کردیں گے اور پھر کیس وزارت داخلہ کو بھیج دیا گیا اوراب وزارت داخلہ نے پیمرا کو لکھا ہے کہ یہ پاکستانی شہری ہی نہیں ہے ۔

حافظ حمد اللہ کا کہنا ہے کہ حکومت آزادی مارچ مولانا فضل الرحمان سے خوفزدہ ہے ۔ ہم ڈریں گے نہ جھکیں گے ، ڈٹ کر ان کا مقابلہ کریں گے ، ہم ہر قانونی راستہ اختیا ر کریں گے۔ نادرا اور وفاقی وزارت داخلہ ہمیں غلط فہمی کہتا رہا ۔ اب ہفتہ کے دن نادرا اور پیمرا نے نوٹیفکیشن جاری کیا۔ یاد رہے کہ شناختی کارڈ کو6 ماہ قبل بلاک کیا گیا مگر اس کے باوجود موبائل جی ایس ایم (سم) اور پاسپورٹ کام کرتے رہے ۔خلاصہ یہی ہے کہ حکومت نے یہ فیصلہ سیاسی انتقام یا حافظ حمد اللہ کو میڈیا سے دور کرنے کے لئے کیا ہے اور چند روز میں اس کو غلط فہمی قرار دیکر نوٹیفکیشن واپس لیا جائے گا۔حافظ حمد اللہ کو اب حکومت کی بجائے عدالت سے ریلیف لینا چاہئے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *