مُغل فنِ تعمیر کی 350 سالہ قدیم جامع مسجد اردو بازار

حوزہ : (حوزہ نیوز ایجنسی ) مساجد اللہ کے گھر ہیں ۔ روئے زمین پر یہ اللہ کی رحمت کے نشان ہیں ۔ یوں تو پر مسجد کا اپنا خاص مقام ہے مگر آج ہم آپ کو منفرد خصوصیات کی حامل مسجد کا احوال بتاتے ہیں ۔

یہ ایسی جامع مسجد ہے جس میں ایک وقت میں ایک ساتھ 600 سے زیادہ افراد ایک ساتھ نماز ادا کرتے ہیں ۔ اسی دوران ، جمعہ ، عید ، عیدالاضحیٰ اور عید الفطر میں تقریباً پانچ ہزار افراد نماز پڑھتے ہیں ۔

گورکھپور شہر میں بہت سی مساجد ہیں ، لیکن اردو مارکیٹ میں واقع جامع مسجد سب سے مختلف ہے ۔ یہ مسجد مغل فن تعمیر کی ایک عمدہ مثال ہے ۔ اسے اورنگ زیب کے دوسرے بیٹے شاہزاده  معظم شاہ نے لگ بھگ 350 سال پہلے تعمیر کیا تھا ۔ یہ مسجد اب بھی مغل سلطنت کی کہانیاں سناتی ہے، مسجد کے ہر رخ میں مغلیہ سلطنت کی فنِ تعمیر  مکمل طور پر نقش ہے ۔

مذید پڑھین :بہارِ شریعت مسجد بہادر آباد میں بچوں کیلئے انعامات کی بارش

بادشاہ معظم شاہ کے نام پر ہی گورکھپور کا نام  معظم آباد رکھا گیا تھا ۔ اردو بازار بھی بادشاہ معظم شاہ نے بنایا تھا، یہاں مغلیہ سلطنت کی فوج رہتی تھی ۔ لوگوں کے مطالبے پر جامع مسجد اردو بازار کی تعمیر کا حکم بہادر شاہ اول عرف معظم شاہ نے دیا تھا ۔ اس کی تعمیر کا آغاز فوج کے صوبیدار خلیل الرحمن کی نگرانی میں ہوا ۔

خلیل آباد شہر کا نام انہی خلیل الرحمن کے نام پر رکھا گیا تھا ، اس وقت اس مسجد کے اطراف سے دریائے راپتی ​​بہتی تھی ، جس کی وجہ سے اس کی فاؤنڈیشن ایک طویل علاقے میں بنائی گئی تھی ۔

اس مسجد کی چوڑائی شمال سے جنوب 90 فٹ مشرق مغرب میں تقریبا 80 فٹ ہے، مسجد کے تین گنبد اس کی عظمت کی ایک زندہ علامت ہیں، وہیں مینار اور در و دیوار پر مغلیہ نقش و نگاری موہ لینے والی ہے ، مسجد کا دروازہ بھی اپنی شان آپ بیان کرتا ہے، مسجد چاروں طرف سے کھلی ہوئی ہے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *