قرار داد یا TLP کے ساتھ دھوکا ۔۔۔۔۔ ؟

تحریر: عبدالجبار ناصر

محترم و مکرم سعد رضوی صاحب و شوری کے احباب !!

عرض ہے کہ منسلک قرار داد کے اس متن پر بہت غور کیا، اس لئے بھی کہ تقریبا 19 سال سے بطور پارلیمانی رپورٹر خدمات سر انجام دینے کا موقع مل رہا ہے ۔

قومی اسمبلی میں زیر بحث قرار داد کا اگر اگر متن واقعی منسلک والا ہی ہے اور اس کی تیاری میں آپ کی مشاورت، معاونت یا آپ کی اجازت شامل ہے تو پھر یہ اعتراف کرنا پڑے گا کہ قرار داد کے ایشو پر تحریک کی قیادت دانستہ یا غیر دانستہ مجرمانہ غفلت، بلکہ قابل تعزیر جرم کی مرتکب ہے ۔

اسمبلی کارروائی رپورٹ کے مطابق ایوان میں قرار داد ایک پرائیویٹ ممبر نے پیش کی ہے اور یہ عمل فرد کا ہے ۔ منظور ہو جائے تو یہ ایوان کی پراپرٹی ہے ۔ ایوان حکومت کے لئے ڈائریکشن طے کرتا ہے، مگر سابقہ معاہدے کے مطابق قرار داد تو حکومت نے پیش کرنی تھی ۔ اس قرار داد میں حکومت کا کردار صرف اس حد تک ہو گا کہ دیگر جماعتوں کے ارکان کی طرح حکومت کے حامی ارکان حمایت مخالفت کر سکیں گے ۔

نکتہ نمبر ایک ہی آپ کا اصل ایشو ہے ، قرار داد میں صرف بحث کا ہی ذکر ہے ۔ سفیر کی ملک بدری کا مطالبہ شامل ہی نہیں ہے ۔ قرار داد منظور ہوتی ہے تو سفیر کی ملک بدری کیسے ممکن ہو گی؟ ۔ کیا بحث کے بعد نظر ثانی قرار داد آئے گی؟ پھر تو اس میں پارلیمانی قوتوں کا کردار ہو گا، اور پھر آپ کہاں کھڑے ہونگے ؟۔

مذید پڑھیں :کیا KMC میں عدالتی فیصلوں کا اطلاق نہیں ہوتا ؟

باقی دونوں نکات پر کیا آج سے پہلے کوشش نہیں ہوئی ہے ؟

قائدین محترم !

اگر یہی قرار داد پیش کرنی تھی تو پھر اتنا ہنگامہ، اتنی شہادتوں، کروڑوں کی املاک کو نقصان، سیکیورٹی فورسز کے ساتھ تصادم، عوام کو تقریبا ایک ہفتہ تک پریشان رکھنے کی ضرورت کیا تھی، اس سے بہتر قرار داد تو ایک عام رکن بھی پیش کر سکتا تھا ۔

پیش کی گئی قرار داد میں حکومت کے لئے اصل ایشو یعنی فرانسیسی سفیر کی ملک بدر کے حوالے سے کوئی ڈائریکشن نہیں ہے اور جو ڈائریکشن آخری پیراگراف میں ہیں وہ ایک طرف تنظیموں کے لئے دھمکی اور دوسری طرف احتجاج کو محدود سے محدود کرنے کے لئے ہے ۔ یعنی آپ کی قرار داد کی روشنی میں جائز ایشوز پر بھی عملا احتجاج کا دروازہ بند ہو گا ۔ الگ تھلگ جگہ والی بات درست ہے، مگر وہاں جہاں انصاف یکساں ہو، لوگوں کی بات سنی جاتی ہو، احتجاج کو محسوس کیا جاتا ہو، حکومتوں کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہو اور عوام کو حکومتوں اور انصاف کے اداروں سے امید ہو ۔

حضور !

بین الاقوامی تعلقات کے معاملات کے حوالے سے قرار داد میں کی گئی سفارش اور فرد، گروہ یا جماعت کو دی جانے والی دھمکیوں اور پارلیمنٹ کی سفارش پر عمل کی صورت میں پھر آئندہ اس طرح کے ایشوز پر آپ یا دیگر کہاں کھڑے ہونگے یا قانونی کارروائی سے کیسے بچا جا سکے گا ؟

حضرات !

آخری گزارش ہے کہ اس پورے عمل میں سیکیورٹی فورسز اور سول شہداء کا خون کس کے سر ہو گا ؟
شہداء، زخمیوں اور جن کی املاک کو نقصان پہنچا ہے اس کا ازالہ کون کرے گا ؟
ان سب قربانیوں، نقصان اور ملک کی بد نامی کا نتیجہ کیا نکلا ؟

مذید پڑھیں :تحریک لبیک اور سرکاری پراسس

حالانکہ روز اول سے حکومت کے اس موقف میں وزن نظر آ رہا تھا کہ ان حالات میں آپ کے مطالبے پر کلی عمل مشکل ہو گا ۔

حضور!
مکرر عرض ہے کہ قرار داد کی تیاری میں کسی بھی طرح کا تعاون آپ کا ہے تو پھر جوابدہ حکومت نہیں ، بلکہ آپ ہیں، کیونکہ قرار داد میں حکومت نے اپنے آپ کو ایک مرتبہ پھر درست ثابت کر دیا ہے ۔ اور ہاں ناموس رسالت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور ختم نبوت کا ایشو کسی فرد، گروہ یا مسلک کا نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ کا ہے، اس ضمن اپنے ثالثوں کی گفتگو پر بھی غور فرمائیں ۔
کوئی گستاخی محسوس کی ہے تو ،ہم معافی کے طالب ہیں۔

از
آقا صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کا ادھنا غلام

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *